Collection size
442
Available entries in this book
Sahih Muslim
كتاب الْإِيمَانِ
Clarifying that forbidding evil is part of faith, faith increases and decreases; Enjoying what is good and forbidding what is evil are obligatory
Collection size
442
Available entries in this book
Hadith number
177
Current reading position
Arabic text
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ كِلَاهُمَا، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ - وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي بَكْرٍ - قَالَ: أَوَّلُ مَنْ بَدَأَ بِالْخُطْبَةِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ الصَّلَاةِ مَرْوَانُ. فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ قَبْلَ الْخُطْبَةِ، فَقَالَ: قَدْ تُرِكَ مَا هُنَالِكَ، فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: أَمَّا هَذَا فَقَدْ قَضَى مَا عَلَيْهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ».
Translations
English
HadithAPI (English)
It was Marwan who initiated (the practice) of delivering khutbah (address) before the prayer on the 'Id day. A man stood up and said: Prayer should precede khutbah. He (Marwan) remarked, This (practice) has been done away with. Upon this Abu Sa'id رضی اللہ عنہ remarked: This man has performed (his duty) laid on him. I heard the Messenger of Allah as saying: He who amongst you sees something abominable should modify it with the help of his hand; and if he has not strength enough to do it, then he should do it with his tongue, and if he has not strength enough to do it, (even) then he should (abhor it) from his heart, and that is the least of faith.
Urdu
HadithAPI (Urdu)
پہلا شخص جس نے عید کے دن نماز سے پہلے خطبے کا آغاز کیا ، مروان تھا ۔ ایک آدمی اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور کہا : ’’نما ز خطبے سے پہلے ہے ؟ ‘ ‘ مروان نے جواب دیا : جو طریقہ ( یہاں پہلے ) تھا ، وہ ترک کر دیا گیا ہے ۔ اس پر ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا : اس انسان نے ( جس سے صحیح بات کہی تھی ) اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ تم میں سے جوشخص منکر ( ناقابل قبول کام ) دیکھے اس پر لازم ہے کہ اسے اپنے ہاتھ ( قوت ) سے بدل دے اوراگر اس کی طاقت نہ رکھتا ہو تو اپنے دل سے ( اسے برا سمجھے اور اس کے بدلنے کی مثبت تدبیر سوچے ) اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے ۔ ‘ ‘