Back to Ahadees library

Sahih Muslim

Introduction Hadith 76

كتاب مُقَدِّمَةٌ

Collection size

94

Available entries in this book

Hadith number

76

Current reading position

Arabic text

وحَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَبِي دَاوُدَ الطَّيَالِسِيِّ: قَدْ أَكْثَرْتَ عَنْ عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، فَمَا لَكَ لَمْ تَسْمَعْ مِنْهُ حَدِيثَ الْعَطَّارَةِ الَّذِي رَوَى لَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ؟ قَالَ لِيَ: اسْكُتْ، فَأَنَا لَقِيتُ زِيَادَ بْنَ مَيْمُونٍ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَهْدِيٍّ، فَسَأَلْنَاهُ، فَقُلْنَا لَهُ: هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي تَرْوِيهَا عَنْ أَنَسٍ؟ فَقَالَ: أَرَأَيْتُمَا رَجُلًا يُذْنِبُ فَيَتُوبُ، أَلَيْسَ يَتُوبُ اللهُ عَلَيْهِ؟ قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ مِنْ أَنَسٍ مِنْ ذَا قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا، إِنْ كَانَ لَا يَعْلَمُ النَّاسُ فَأَنْتُمَا لَا تَعْلَمَانِ أَنِّي لَمْ أَلْقَ أَنَسًا قَالَ أَبُو دَاوُدَ: فَبَلَغَنَا بَعْدُ أَنَّهُ يَرْوِي، فَأَتَيْنَاهُ أَنَا وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، فَقَالَ: أَتُوبُ، ثُمَّ كَانَ بَعْدُ يُحَدِّثُ فَتَرَكْنَاهُ

Translations

Read by language and source

English

1 translation

HadithAPI (English)

‘You transmit a great deal on authority of Abbād bin Mansūr - so how is it that you did not hear the Ḥadīth of ‘the lady perfume seller’ from him which an-Naḍr bin Shumayl transmitted to us?’ [Abū Dāwud] said to me: ‘Be quiet, for Abd ar-Rahma bin Mahdī and I met Ziyād bin Maymūn and asked him, saying to him, ‘Are these Ḥadīth you transmit on authority of Anas?’ [Ziyād] said: ‘Have you seen a man sin and then repent- does Allah not turn to him?’ [Abū Dāwud] said: ‘We said, ‘Yes’.’ [Ziyād] said: ‘I did not hear from Anas رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌whether a little or a lot; if the people did not know, then you two would not know that I did not meet Anas رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌’. Abū Dāwud said: ‘So it reached us afterwards that he was transmitting [from Anas], then Abd ar-Rahman and I went to him and he said: ‘I repented’. Then afterwards he was narrating [again in the same fashion] so we abandoned him ’.

Urdu

1 translation

HadithAPI (Urdu)

آپ نے عباد بن منصور سے بہت زیادہ روایتیں لی ہیں ، پھر کیا ہوا کہ آپ نے عطارہ والی روایت جو نضر بن شمیل نے ہمارے سامنے بیان کی ، ان سے نہیں سنی؟ انہوں نے مجھ سے کہا : خاموش رہو ، میں اور عبد الرحمن بن مہدی زیاد بن میمون سے ملے اور اس سے پوچھتے ہوئے کہا : یہ احادیث جو تم حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کرتے ہو ( کیا ہیں؟ ) تو وہ کہنے لگا : تم دونوں دیکھو کہ ایک آدمی گناہ کرتا ہے ، پھر توبہ کر لیتا ہے تو کیا اللہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتا‍! کہا : ہم نے کہا : ہاں ۔ اس نے کہا : میں نے ان ( احادیث ) میں سے انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے کچھ نہیں سنا ، نہ کم نہ زیادہ ، اگر لوگ نہیں جانتے تو ( کیا ) تم دونوں بھی نہیں جانتے کہ میں انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے نہیں ملا! ۔ ابوداود نے کہا : پھر ہمیں یہ خبر پہنچی کہ وہ ( وہی ) روایتیں بیان کرتا ہے تو میں اور عبد الرحمن اس کے پاس آئے تو وہ کہنے لگا : میں توبہ کرتا ہوں ، پھر اس کے بعد بھی وہ وہی حدیثیں بیان کرتا تھا تو ہم نے اسے ( اس کے حال پر ) چھوڑ دیا ۔