Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Sunan Ibn Majah • The Book of the Sunnah • Hadith 37
The Prophet performed Wudu; so he washed his face three times, and his hands three times, and wiped his head, and he said: The ears are part of the head.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا تو اپنا چہرہ تین بار دھویا اور اپنے دونوں ہاتھ تین بار دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا: ”دونوں کان سر میں داخل ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- قتیبہ کا کہنا ہے کہ حماد کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا قول ہے یا ابوامامہ کا، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور اسی کے قائل سفیان ثوری، ابن مبارک اور اسحاق بن راہویہ ہیں ۱؎ اور بعض اہل علم نے کہا ہے کہ کان کے سامنے کا حصہ چہرہ میں سے ہے ( اس لیے اسے دھویا جائے ) اور پیچھے کا حصہ سر میں سے ہے ۲؎۔ ( اس لیے مسح کیا جائے ) اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ کان کے سامنے کے حصہ کا مسح چہرہ کے ساتھ کرے ( یعنی چہرہ کے ساتھ دھوئے ) اور پچھلے حصہ کا سر کے ساتھ ۳؎، شافعی کہتے ہیں کہ دونوں الگ الگ سنت ہیں ( اس لیے ) دونوں کا مسح نئے پانی سے کرے۔
This tradition has also been narrated by Abu Salim al-Jaishahni on the authority of Abd Allah bin Amr رضی اللہ عنہما . He narrated this tradition at the time when he besieged the fort at the gate of Alyun. Abu Dawud said: The fort of Alyun lies at the mountain in Fustat. Abu Dawud said: The kunyah (surname) of Shaiban bin Umayyah is Abu Hudhaifah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے اس وقت سنا جب وہ ان کے ساتھ ( مصر میں ) باب الیون کے قلعہ کا محاصرہ کئے ہوئے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: الیون کا قلعہ فسطاط ( مصر ) میں ایک پہاڑ پر واقع ہے۔ابوداؤد نے کہا: وہ شیبان بن امیہ ہیں جن کی کنیت ابو حذیفہ ہے۔
It was narrated that Ibn 'Umar said: A man passed by the Prophet (ﷺ) when he was urinating and greeted him with Salam, but he did not return his greeting.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے، تو اس نے آپ کو سلام کیا مگر آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا ۱؎۔
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو اس حالت میں موت آئے کہ وہ جانتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی (۱/ ۶۵ ، ۴۶۴ ، ابن حبان (۲۰۱) ۔
The Prophet (ﷺ) said: ' Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars. (Either the one who invents a lie or the one who repeats it; both are liars).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کرے کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
The Prophet Muhammad said: When performing Wudu go between the fingers.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم وضو کرو تو انگلیوں کا خلال کرو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں ابن عباس، مستورد بن شداد فہری اور ابوایوب انصاری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ وضو میں اپنے پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ ہیں۔ اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ وضو میں اپنے دونوں ہاتھوں اور پیروں کی انگلیوں کا خلال کرے۔
It was narrated from Al-Muhajir bin Qunfudh that he greeted the Prophet (ﷺ) with Salam while he was urinating, and he did not return the greeting until he had performed Wudu'. When he had performed Wudu' he returned the greeting.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، اور آپ پیشاب کر رہے تھے، تو آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا یہاں تک کہ وضو کیا، پھر جب آپ نے وضو کر لیا، تو ان کے سلام کا جواب دیا۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو خصلتیں باعث موجب ہیں ۔‘‘ کسی شخص نے عرض کیا ۔ اللہ کے رسول ! وہ دو موجب کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہوا فوت ہو جائے ، تو وہ جہنم میں داخل ہو گا ۔ اور جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ رواہ مسلم و احمد ۳/ ۳۹۱ ، ۱۵۲۷۰) ۔
A deputation of the jinn came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and said: O Muhammad, forbid your community to cleans themselves with a bone or dung or charcoal, for in them Allah has provided sustenance for us. So the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم forbade them to do so.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جنوں کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کیا: آپ اپنی امت کو ہڈی، لید ( گوبر، مینگنی ) ، اور کوئلے سے استنجاء کرنے سے منع فرما دیجئیے کیونکہ ان میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے روزی بنائی ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے جبکہ ابوبکر و عمر ؓ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ہمارے ساتھ تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس سے اٹھ کر چلے گئے ، آپ نے ہمارے پاس واپس آنے میں تاخیر کی تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے ، پس ہم (آپ کی تلاش میں) اٹھ کھڑے ہوئے ، تو سب سے پہلا شخص میں تھا جو پریشان ہوا تو میں وہاں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کرنے کے لیے روانہ ہوا ، حتیٰ کہ میں انصار قبیلے کے ایک خاندان بنونجار کے ایک باغ کے پاس آیا تو میں نے اس کا چکر لگایا تاکہ مجھے اس کا کوئی دروازہ مل جائے لیکن میں نے کوئی دروازہ نہ پایا ، لیکن وہاں ایک بیرونی کنواں تھا جس سے ایک نالی باغ کی دیوار سے اندر جاتی تھی ، پس میں سمٹ کر اس راستے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچ گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ؛’’ ابوہریرہ !‘‘ میں نے عرض کیا ، جی ہاں ، اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہیں کیا ہوا (کہ یہاں چلے آئے) ؟‘‘ میں نے عرض کیا : آپ ہمارے پاس تشریف فرما تھے کہ آپ اٹھ کر آ گئے اور ہمارے پاس واپس آنے میں تاخیر کی تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہماری غیر موجودگی میں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے ، پس ہم گھبرا گئے ، میں پہلا شخص تھا جو پریشانی کا شکار ہوا ، پس میں اس باغ کے پاس پہنچا تو میں سکڑ کر اس نالے کے ذریعے اندر آ گیا جس طرح لومڑ سکڑ اور سمٹ جاتا ہے ، اور وہ لوگ میرے پیچھے ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے نعلین مبارک مجھے دیکر فرمایا :’’ اے ابوہریرہ ! میرے یہ جوتے لے جاؤ اور اس دیوار کے باہر ایسا جو شخص تمہیں ملے جو دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، تو اسے جنت کی بشارت دے دو ۔‘‘ تو سب سے پہلے عمر ؓ سے ملاقات ہوئی ، انہوں نے پوچھا : ابوہریرہ ! یہ دونوں جوتے کیسے ہیں ؟ میں نے کہا : یہ دونوں جوتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہیں ۔ آپ نے یہ دے کر مجھے بھیجا ہے کہ میں ایسے جس شخص سے ملوں جو دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، میں اسے جنت کی بشارت دوں ، (یہ سن کر) عمر ؓ نے میرے سینے پر مارا تو میں سرین کے بل گر پڑا ، انہوں نے کہا : ابوہریرہ واپس چلے جاؤ ۔ میں روتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا ، جبکہ عمر ؓ بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوہریرہ ! تمہیں کیا ہوا ؟‘‘ میں نے عرض کیا : میں عمر ؓ سے ملا تو انہوں نے میرے سینے پر اس زور سے مارا کہ میں سرین کے بل گر پڑا ۔ اور کہا کہ واپس چلے جاؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عمر ! تمہیں ایسا کرنے پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ نے اپنے جوتے دے کر ابوہریرہ کو بھیجا تھا کہ تم جس ایسے شخص کو ملو ، جو دل کے یقین کے ساتھ گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اس کو جنت کی خوشخبری سنا دو ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں‘‘ انہوں نے عرض کیا : آپ ایسے نہ کریں ، مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ اس بات پر توکل کر لیں گے آپ انہیں چھوڑ دیں تاکہ وہ عمل کرتے رہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ انہیں (اپنے حال پر) چھوڑ دو (تاکہ عمل کرتے رہیں) ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
The Prophet (ﷺ) said: Whoever narrates a Hadith from me thinking it to be false, then he is one of the two liars.
Another chain similar to the narration of Samurah bin Jundub.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے مجھ سے کوئی حدیث یہ جانتے ہوئے بیان کی کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ دو جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔
I saw the Prophet when he was performing Wudu doing that to the toes on his feet with his pinky.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ وضو کرتے تو اپنے دونوں پیروں کی انگلیوں کو اپنے «خنصر» ( ہاتھ کی چھوٹی انگلی ) سے ملتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف ابن لھیعہ کے طریق ہی سے جانتے ہیں۔
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: When any of you goes to relieve himself, he should take with him three stones to cleans himself, for they will be enough for him.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو تین پتھر اپنے ساتھ لے جائے، انہی سے استنجاء کرے، یہ اس کے لیے کافی ہیں ۔
It was narrated from Abu Hurairah that the Prophet (ﷺ) said: I am like a father teaching you. When any one of you goes to Al-Khala' (the toilet), let him not face toward the Qiblah nor turn his back toward it, and let him not clean himself with his right hand. And he used to tell them to use three stones, and he forbade using dung or old bones.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے باپ کے منزلے میں ہوں ( باپ کی طرح ہوں ) ، تمہیں سکھا رہا ہوں کہ جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو قبلہ کی طرف نہ منہ کرے، نہ پیٹھ، اور نہ داہنے ہاتھ سے استنجاء کرے ، آپ ( استنجاء کے لیے ) تین پتھروں کا حکم فرماتے، اور گوبر اور بوسیدہ ہڈی سے ( استنجاء کرنے سے ) آپ منع فرماتے ۱؎۔
معاذ بن جبل ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں جنت کی چابی ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۵/ ۲۴۲ ح ۲۲۴۵۳) ۔