Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Sunan Ibn Majah • The Book of the Sunnah • Hadith 41
The Prophet said: Protect the heels from the Fire!
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایڑیوں کے دھونے میں کوتاہی برتنے والوں کے لیے خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمر، عائشہ، جابر، عبداللہ بن حارث بن جزء زبیدی معیقیب، خالد بن ولید، شرحبیل بن حسنہ، عمرو بن العاص اور یزید بن ابی سفیان سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ”ان ایڑیوں اور قدم کے تلوؤں کے لیے جو وضو میں سوکھی رہ جائیں خرابی ہے یعنی جہنم کی آگ ہے“ اس حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ پیروں کا مسح جائز نہیں اگر ان پر موزے یا جراب نہ ہوں۔
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم was asked about cleansing (after relieving oneself). He said: (One should cleanse oneself) with three stones which should be free from dung. Abu Dawud said: A similar tradition has been narrated by Abu Usamah and Ibn Numair from Hisham.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استنجاء کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: استنجاء تین پتھروں سے کرو جن میں گوبر نہ ہو ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابواسامہ اور ابن نمیر نے بھی ہشام بن عروہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
It was narrated that Salman said, that a man said to him: Your companion (meaning, the Prophet(ﷺ)) even teaches you how to go to the toilet! He said: Yes, he forbade us from facing the Qiblah when defecating or urinating, or cleaning ourselves with out right hands, or to use less than three stones.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک شخص نے ( حقارت کے انداز میں ) ان سے کہا: تمہارے نبی تمہیں ( سب کچھ ) سکھاتے ہیں یہاں تک کہ پاخانہ کرنا ( بھی ) ؟ تو انہوں نے ( فخریہ انداز میں ) کہا: ہاں! آپ نے ہمیں پاخانہ اور پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے اور ( استنجاء کے لیے ) تین پتھر سے کم پر اکتفا کرنے سے منع فرمایا ہے۔
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَزِنُوا عَلَيْهِ حَتَّى كَادَ بَعْضُهُمْ يُوَسْوِسُ قَالَ عُثْمَان وَكنت مِنْهُم فَبينا أَنا جَالس فِي ظلّ أَطَم من الْآطَام مر عَليّ عمر رَضِي الله عَنهُ فَسلم عَليّ فَلم أشعر أَنه مر وَلَا سلم فَانْطَلق عمر حَتَّى دخل على أبي بكر رَضِي الله عَنهُ فَقَالَ لَهُ مَا يُعْجِبك أَنِّي مَرَرْت على عُثْمَان فَسلمت عَلَيْهِ فَلم يرد عَليّ السَّلَام وَأَقْبل هُوَ وَأَبُو بكر فِي وِلَايَةَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى سلما عَليّ جَمِيعًا ثمَّ قَالَ أَبُو بكر جَاءَنِي أَخُوك عمر فَذكر أَنه مر عَلَيْك فَسلم فَلم ترد عَلَيْهِ السَّلَام فَمَا الَّذِي حملك على ذَلِك قَالَ قُلْتُ مَا فَعَلْتُ فَقَالَ عُمَرُ بَلَى وَاللَّهِ لقد فعلت وَلكنهَا عبيتكم يَا بني أُميَّة قَالَ قُلْتُ وَاللَّهِ مَا شَعَرْتُ أَنَّكَ مَرَرْتَ وَلَا سَلَّمْتَ قَالَ أَبُو بَكْرٍ صَدَقَ عُثْمَانُ وَقد شَغَلَكَ عَنْ ذَلِكَ أَمْرٌ فَقُلْتُ أَجْلَ قَالَ مَا هُوَ فَقَالَ عُثْمَان رَضِي الله عَنهُ توفى الله عز وَجل نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ نَسْأَلَهُ عَنْ نَجَاةِ هَذَا الْأَمْرِ قَالَ أَبُو بكر قد سَأَلته عَن ذَلِك قَالَ فَقُمْت إِلَيْهِ فَقلت لَهُ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَنْتَ أَحَقُّ بِهَا قَالَ أَبُو بَكْرٍ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا نَجَاةُ هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَبِلَ مِنِّي الْكَلِمَةَ الَّتِي عَرَضْتُ عَلَى عَمِّي فَرَدَّهَا فَهِيَ لَهُ نجاة. رَوَاهُ أَحْمد
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عثمانؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو آپ کے صحابہ کرام آپ کی وفات پر غم زدہ ہو گئے ، حتیٰ کہ قریب تھا ان میں سے بعض وسوسہ کا شکار ہو جاتے ، عثمان ؓ بیان کرتے ہیں اور میں بھی انہی میں سے تھا ، پس میں بیٹھا ہوا تھا ، کہ اس اثنا میں عمر ؓ پاس سے گزرے اور انہوں نے مجھے سلام کیا ، لیکن (شدت غم کی وجہ سے) مجھے اس کا کوئی پتہ نہیں چلا ، پس عمر ؓ نے ابوبکر ؓ سے شکایت کی ، پھر وہ دونوں آئے حتیٰ کہ ان دونوں نے ایک ساتھ مجھے سلام کیا ، تو ابوبکر ؓ نے فرمایا : آپ نے کس وجہ سے اپنے بھائی عمر کے سلام کا جواب نہیں دیا ، میں نے کہا ، میں نے تو ایسے نہیں کیا ، تو عمر ؓ نے فرمایا : کیوں نہیں ، اللہ کی قسم ! آپ نے ایسے کیا ہے ، عثمان ؓ کہتے ہیں میں نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے آپ کے گزرنے کا پتہ ہے نہ سلام کرنے کا ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : عثمان نے سچ فرمایا ، کسی اہم کام نے آپ کو اس سے غافل رکھا ہو گا ؟ تو میں نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ، انہوں نے پوچھا : وہ کون سا اہم کام ہے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو وفات دے دی اس سے پہلے کہ ہم آپ سے اس معاملے کی نجات کے بارے میں دریافت کر لیتے ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں نے اس کے متعلق آپ سے پوچھ لیا تھا ، میں ان کی طرف متوجہ ہوا اور انہیں کہا : میرے والدین آپ پر قربان ہوں ، آپ ہی اس کے زیادہ حق دار تھے ، ابوبکر ؓ نے فرمایا : میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اس معاملے کا حل کیا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے مجھ سے وہ کلمہ ، جو میں نے اپنے چچا پر پیش کیا لیکن اس نے انکار کر دیا ، قبول کر لیا تو وہی اس کے لیے نجات ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۱/ ۶ ح ۲۰)
I heard 'Irbad bin Sariyah رضی اللہ عنہ say: 'One day, the Messenger of Allah (ﷺ) stood up among us and delivered a deeply moving speech to us that melted our hearts and caused our eyes to overflow with tears. It was said to him: 'O Messenger of Allah, you have delivered a speech of farewell, so enjoin something upon us.' He said: 'I urge you to fear Allah, and to listen and obey, even if (your leader) is an Abyssinian slave. After I am gone, you will see great conflict. I urge you to adhere to my Sunnah and the path of the Rightly-Guided Caliphs, and cling stubbornly to it. And beware of newly-invented matters, for every innovation is a going astray.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا, ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے، آپ نے ہمیں ایک مؤثر نصیحت فرمائی، جس سے دل لرز گئے اور آنکھیں ڈبڈبا گئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! آپ نے تو رخصت ہونے والے شخص جیسی نصیحت کی ہے، لہٰذا آپ ہمیں کچھ وصیت فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے ڈرو، اور امیر ( سربراہ ) کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو، گرچہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، عنقریب تم لوگ میرے بعد سخت اختلاف دیکھو گے، تو تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رہنا، اور دین میں نئی باتوں ( بدعتوں ) سے اپنے آپ کو بچانا، اس لیے کہ ہر بدعت گمراہی ہے ۔
The Prophet performed Wudu one time (for each limb).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو ایک ایک بار دھوئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمر، جابر، بریدۃ، ابورافع، اور ابن الفاکہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- ابن عباس کی یہ حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، ۳- رشدین بن سعد وغیرہ بسند «ضحاک بن شرحبیل عن زید بن اسلم عن أبیہ» سے روایت کی ہے کہ عمر بن خطاب رضی الله عنہ فرماتے ہیں: ”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھویا“، یہ ( روایت ) کچھ بھی نہیں ہے صحیح وہی روایت ہے جسے ابن عجلان، ہشام بن سعد، سفیان ثوری اور عبدالعزیز بن محمد نے بسند «زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس عن النبی کریم صلی الله علیہ وسلم» روایت کیا ہے۔
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم urinated and Umar رضی اللہ عنہ was standing behind him with a jug of water. He said: What is this, Umar رضی اللہ عنہ ? He replied: Water for you to perform ablution with. He said: I have not been commanded to perform ablution every time I urinate. If I were to do so, it would become a sunnah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، عمر رضی اللہ عنہ پانی کا ایک کوزہ ( کلھڑ ) لے کر آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: عمر! یہ کیا چیز ہے؟ ، عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: آپ کے وضو کا پانی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایسا حکم نہیں ہوا کہ جب بھی میں پیشاب کروں تو وضو کروں، اگر میں ایسا کروں تو یہ سنت ( واجبہ ) بن جائے گی ۔
Abdur-Rahman bin Al-Aswad (narrated) from his father that he heard 'Abdullah say: The Prophet (ﷺ) wanted to defecate, and he told me to bring him three stones. I found two stones and looked for a third, but I could not find any, so I picked up a piece of dung and brought them to the Prophet (ﷺ). He took the two stones and three away the dung and said: This is Riks. Abu 'Abdur-Rahman (An-Nasai') said: Riks is the food of the jinn.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت ( پاخانے ) کی جگہ میں آئے، اور مجھے تین پتھر لانے کا حکم فرمایا، مجھے دو پتھر ملے، تیسرے کی میں نے تلاش کی مگر وہ نہیں ملا، تو میں نے گوبر لے لیا اور ان تینوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے دونوں پتھر لے لیے، اور گوبر پھینک دیا ۱؎ اور فرمایا: یہ «رکس» ( ناپاک ) ہے ۔ ابوعبدالرحمٰن النسائی کہتے ہیں: «رکس» سے مراد جنوں کا کھانا ہے ۲؎۔
مقداد ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ روئے زمین کے ہر شہر و بستی کے ہر گھر میں کلمہ اسلام داخل فرما دے گا ، خواہ اسے کوئی عزت کے ساتھ قبول کر لے یا ذلت کے ساتھ زندہ رہے ، وہ لوگ جنہیں اللہ عزت عطا فرمائے گا تو وہ ان کو اس کا اہل (محافظ) بنا دے گا یا ان کو ذلیل کر دے گا تو وہ اس کی اطاعت اختیار کر لیں گے ۔‘‘ میں نے کہا : گویا دین پورے کا پورا اسی کا ہو جائے گا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۶/ ۴ ح ۲۴۳۱۵) و صحیحہ ابن حبان (موارد : ۱۶۳۱ ، ۱۶۳۲) و الحاکم (۴/ ۴۳۰) ۔
He heard Al-'Irbad bin Sariyah رضی اللہ عنہ say: The Messenger of Allah (ﷺ) delivered a moving speech to us which made our eyes flow with tears and made our hearts melt. We said: 'O Messenger of Allah. This is a speech of farewell. What did you enjoin upon us?' He said: 'I am leaving you upon a (path of) brightness whose night is like its day. No one will deviate from it after I am gone but one who is doomed. Whoever among you lives will see great conflict. I urge you to adhere to what you know of my Sunnah and the path of the Rightly-Guided Caliphs, and cling stubbornly to it. And you must obey, even if (your leader is) an Abyssinian leader. For the true believer is like a camel with a ring in its nose; wherever it is driven, it complies.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
اس نےعرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی جس سے ہماری آنکھیں ڈبدبا گئیں، اور دل لرز گئے، ہم نے کہا: اللہ کے رسول! یہ تو رخصت ہونے والے کی نصیحت معلوم ہوتی ہے، تو آپ ہمیں کیا نصیحت کرتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تم کو ایک ایسے صاف اور روشن راستہ پر چھوڑا ہے جس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے، اس راستہ سے میرے بعد صرف ہلاک ہونے والا ہی انحراف کرے گا، تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت سارے اختلافات دیکھے گا، لہٰذا میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفاء راشدین کی سنت سے جو کچھ تمہیں معلوم ہے اس کی پابندی کرنا، اس کو اپنے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور امیر کی اطاعت کرنا، چاہے وہ کوئی حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کہ مومن نکیل لگے ہوئے اونٹ کی طرح ہے، جدھر اسے لے جایا جائے ادھر ہی چل پڑتا ہے ۔
The Prophet performed Wudu two time (for each limb).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو دو دو بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں جابر رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- ہم یہ جانتے ہیں کہ اسے صرف ابن ثوبان نے عبداللہ بن فضل سے روایت کیا ہے اور یہ سند حسن صحیح ہے، ۴- ھمام نے بسند «عامر الا ٔ حول عن عطاء عن ابی ہریرہ» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے ۱؎۔
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم entered a park. He was accompanied by a boy who had a jug of water with him. He was the youngest of us. He placed it near the lote-tree. He ( the Prophet, صلی اللہ علیہ وسلم ) relieved himself. He came to us after he had cleansed himself with water.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک لڑکا تھا جس کے ساتھ ایک لوٹا تھا، وہ ہم میں سب سے کم عمر تھا، اس نے اسے بیر کے درخت کے پاس رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی حاجت سے فارغ ہوئے تو پانی سے استنجاء کر کے ہمارے پاس آئے۔
It was narrated from Salamah bin Qais that the Messenger of Allah (ﷺ) said: When you clean yourselves (with stones, after defecating), use an odd number.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب استنجاء کرو تو طاق ( ڈھیلا ) استعمال کرو ۱؎۔
وہب بن منبہ ؓ سے روایت ہے ، انہیں کہا گیا ، کیا لا الہ الا اللہ ’’ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ۔‘‘ جنت کی چابی نہیں ؟ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، لیکن ہر چابی کے دندانے ہوتے ہیں ، اگر تم دندان والی چابی لاؤ گے تو آپ کے لیے اسے کھول دیا جائے گا ، ورنہ نہیں کھولا جائے گا ۔ رواہ البخاری کتاب الجنائز باب : ۱ قبل ح ۱۲۳۷)۔
The Messenger of Allah (ﷺ) led us in Fajr (morning) prayer, then he turned to us and delivered an eloquent speech . And he mentioned something similar (as no.43)
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز فجر پڑھائی، پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے، اور ہمیں ایک مؤثر نصیحت کی، پھر راوی نے سابقہ حدیث جیسی حدیث ذکر کی۔
The Prophet performed Wudu three times (for each limb).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اعضائے وضو تین تین بار دھوئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عثمان، عائشہ، ربیع، ابن عمر، ابوامامہ، ابورافع، عبداللہ بن عمرو، معاویہ، ابوہریرہ، جابر، عبداللہ بن زید اور ابی بن کعب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- علی رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے کیونکہ یہ علی رضی الله عنہ سے اور بھی سندوں سے مروی ہے، ۳- اہل علم کا اس پر عمل ہے کہ اعضائے وضو کو ایک ایک بار دھونا کافی ہے، دو دو بار افضل ہے اور اس سے بھی زیادہ افضل تین تین بار دھونا ہے، اس سے آگے کی گنجائش نہیں، ابن مبارک کہتے ہیں: جب کوئی اعضائے وضو کو تین بار سے زیادہ دھوئے تو مجھے اس کے گناہ میں پڑنے کا خطرہ ہے، امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: تین سے زائد بار اعضائے وضو کو وہی دھوئے گا جو ( دیوانگی اور وسوسہ ) میں مبتلا ہو گا ۱؎۔
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: The following verse was revealed in connection with the people of Quba': In it are men who love to be purified (ix. 108). He (Abu Hurairah) said: They used to cleanse themselves with water after easing. So the verse was revealed in connection with them.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «فيه رجال يحبون أن يتطهروا» ۱؎ اہل قباء کی شان میں نازل ہوئی ہے، وہ لوگ پانی سے استنجاء کرتے تھے، انہیں کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
It was narrated from 'Aishah that the Messenger of Allah (ﷺ) said: When any one of you goes to the Gha'it (toilet to defecate), let him take with him three stones and clean himself with them, for that will suffice him.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی پاخانہ جائے تو اپنے ساتھ تین پتھر لے جائے، اور ان سے پاکی حاصل کرے کیونکہ یہ طہارت کے لیے کافی ہیں ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی اپنے اسلام کو سنوار لے تو اس کا ہر نیک عمل دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا کر لکھا جائے گا ، جبکہ اس کی ہر برائی اتنی ہی لکھی جائے گی حتیٰ کہ وہ اللہ سے جا ملے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۲) و مسلم ۔