Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Sunan Ibn Majah • The Book of the Sunnah • Hadith 33
The Prophet wiped his head two times: He began with the rear of his head, then with the front of his head and with both of his ears, outside and Inside of them.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا دو مرتبہ ۱؎ مسح کیا، آپ نے ( پہلے ) اپنے سر کے پچھلے حصہ سے شروع کیا ۲؎، پھر ( دوسری بار ) اس کے اگلے حصہ سے اور اپنے کانوں کے اندرونی اور بیرونی دونوں حصوں کا مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے اور عبداللہ بن زید کی حدیث سند کے اعتبار سے اس سے زیادہ صحیح اور زیادہ عمدہ ہے، ۲- اہل کوفہ میں سے بعض لوگ اسی حدیث کی طرف گئے ہیں، انہیں میں سے وکیع بن جراح بھی ہیں ۳؎۔
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم used his right hand for getting water for ablution and taking food, and his left hand for his evacuation and for anything repugnant.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا داہنا ہاتھ وضو اور کھانے کے لیے، اور بایاں ہاتھ پاخانہ اور ان چیزوں کے لیے ہوتا تھا جن میں گندگی ہوتی ہے۔
It was narrated that 'Aishah said: They say that the Prophet (ﷺ) made a will for 'Ali,[1] but he called for a basin in which to urinate, then he went flaccid suddenly (and died), so how could he leave a will?! The Shaikh said: Azhar (one of the narrators) is Ibn Sa'd As-Samman. [1] Meaning, appointing him as the Khalifah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
لوگ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مرض الموت میں ) علی رضی اللہ عنہ کو وصی بنایا، حقیقت یہ ہے کہ آپ نے تھال منگوایا کہ اس میں پیشاب کریں، مگر ( اس سے قبل ہی ) آپ کا جسم ڈھیلا پڑ گیا۔ ( آپ فوت ہو گئے ) مجھے پتہ بھی نہ چلا، تو آپ نے کس کو وصیت کی؟
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور جس کے ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں ۔ اور مومن وہ ہے جس سے لوگ اپنی جانوں اور مالوں کے بارے میں بے خوف اور پر امن ہوں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۶۲۷) و النسائی (۸/ ۱۰۴ ، ۱۰۵ ح ۴۹۹۸) و صحیحہ ابن حبان (الاحسان : ۱۸۰) و الحاکم (۱ / ۱۰) ۔
She saw the Prophet performing Wudu. She said: He wiped his head, and what is in the front of it and what is in its rear, and his temples and his ears one time.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ نے اپنے سر کا ایک بار مسح کیا، اگلے حصہ کا بھی اور پچھلے حصہ کا بھی اور اپنی دونوں کنپٹیوں اور کانوں کا بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ربیع رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی اور طلحہ بن مصرف بن عمرو کے دادا ( عمرو بن کعب یامی ) رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور بھی سندوں سے یہ بات مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح ایک بار کیا، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے اور جعفر بن محمد، سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی ۲؎ احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ۵- سفیان بن عیینہ کہتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد سے سر کے مسح کے بارے میں پوچھا: کیا ایک مرتبہ سر کا مسح کر لینا کافی ہے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں قسم ہے اللہ کی۔
Aishah رضی اللہ عنہا , also reported a tradition bearing similar meaning through another chain of transmitters
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ہم سے محمد بن حاتم بن بزیع نے بیان کیا، ہم سے عبد الوہاب بن عطا نے بیان کیا، وہ سعید کی سند سے، ابو معشر کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، اسود کی سند سے، عائشہ رضی اللہ عنہا کی سند سے، ان سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی ہی کوئی برکت نازل فرما۔
It was narrated from Qatadah, from 'Abdullah bin Sarjis, that the Prophet of Allah (ﷺ) said: None of you should urinate into a burrow in the ground. They said to Qatadah: Why is it disliked to urinate into a burrow in the ground? He said: It is said that these are dwelling-places of the jinn.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی سوراخ میں ہرگز پیشاب نہ کرے ، لوگوں نے قتادہ سے پوچھا ؛ سوراخ میں پیشاب کرنا کیوں مکروہ ہے؟ تو انہوں نے کہا: کہا جاتا ہے کہ یہ جنوں کی رہائش گاہیں ہیں ۱؎۔
امام بیہقی نے فضالہ اور مجاہد کی روایت سے یہ اضافہ نقل کیا ہے :’’ مجاہد وہ ہے جو اللہ کی اطاعت کے بارے میں اپنے نفس سے جہاد کرے ، جبکہ مہاجر وہ ہے جو خطاؤں اور گناہوں سے کنارہ کش ہو جائے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۱۱۲۳) و احمد (۶/ ۲۱ ، ۲۲ ح۲۴۴۵۸ ، ۲۴۴۶۷) و ابن ماجہ (۳۹۳۴) وصحیحہ ابن حبان (الموارد ۲۵) و الحاکم (۱ / ۱۰ ، ۱۱) ۔
While he was on this pulpit, I heard the Messenger of Allah (ﷺ) saying: ' Beware of narrating too many Ahadith from me. Whoever attributes something to me, let him speak the truth faithfully. Whoever attributes to say something that I did not say, let him take his place in Hell.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس منبر پر فرماتے سنا: تم مجھ سے زیادہ حدیثیں بیان کرنے سے بچو، اگر کوئی میرے حوالے سے کوئی بات کہے تو وہ صحیح صحیح اور سچ سچ کہے، اور جو شخص گھڑ کر میری طرف ایسی بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے ۔
He saw the Prophet performing Wudu, and that he wiped his head with water that was not left over from his hands.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے اپنے سر کا مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن لھیعہ نے یہ حدیث بسند «حبان بن واسع عن أبیہ» روایت کی ہے کہ عبداللہ بن زید رضی الله عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے سر کا مسح اپنے دونوں ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی سے کیا، ۳- عمرو بن حارث کی روایت جسے انہوں نے حبان سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے ۱؎ کیونکہ اور بھی کئی سندوں سے عبداللہ بن زید وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا، ۴- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، ان کی رائے ہے کہ سر کے مسح کے لیے نیا پانی لیا جائے۔
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: If anyone applies collyrium, he should do it an odd number of times. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm. If anyone cleanses himself with pebbles, he should use an odd number. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm. If anyone eats, he should throw away what he removes with a toothpick and swallow what sticks to his tongue. If he does so, he has done well; if not, there is no harm. If anyone goes to relieve himself, he should conceal himself, and if all he can do is to collect a heap of send, he should sit with his back to it, for the devil makes sport with the posteriors of the children of Adam. If he does so, he has done well; but if not, there is no harm.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص سرمہ لگائے تو طاق لگائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو اس میں کوئی مضائقہ اور حرج نہیں، جو شخص ( استنجاء کے لیے ) پتھر یا ڈھیلا لے تو طاق لے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو شخص کھانا کھائے تو خلال کرنے سے جو کچھ نکلے اسے پھینک دے، اور جسے زبان سے نکالے اسے نگل جائے، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے ایسا نہیں کیا تو کوئی حرج نہیں، جو شخص قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے لیے جائے تو پردہ کرے، اگر پردہ کے لیے کوئی چیز نہ پائے تو بالو یا ریت کا ایک ڈھیر لگا کر اس کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھ جائے کیونکہ شیطان آدمی کی شرمگاہ سے کھیلتا ہے ۱؎، جس نے ایسا کیا اس نے اچھا کیا، اور جس نے نہیں کیا تو کوئی مضائقہ نہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابوعاصم نے ثور سے روایت کی ہے، اس میں ( حصین حبرانی کی جگہ ) حصین حمیری ہے، اور عبدالملک بن صباح نے بھی اسے ثور سے روایت کیا ہے، اس میں ( ابوسعید کی جگہ ) ابوسعید الخیر ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابوسعید الخیر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بھی ہمیں خطاب کرتے تو فرماتے :’’ جس شخص میں امانت نہیں اس کا ایمان ہی نہیں ، اور جس شخص کا عہد نہیں اس کا کوئی دین ہی نہیں ۔‘‘ حسن رواہ البیھقی فی شعیب الایمان (۴۳۵۲ و السنن الکبریٰ ۶ / ۲۸۸) و احمد (۳/ ۱۳۵ ح ۱۲۴۱۰ ، و ۳/ ۱۵۴ ، ۲۱۰ ، ۲۵۱) و اوردہ الضیاء فی المختارۃ (۵/ ۷۴ ح ۱۶۹۹ ، ۷/ ۲۲۴ ح ۲۶۶۰ ، ۲۶۶۳) و ابن حبان (الاحسان : ۱۹۴) و ابن خزیمہ (۳۳۳۵) ۔
I said to Zubair bin Awwam رضی اللہ عنہ : 'Why do I not hear you narrating Ahadith from the Messenger of Allah (ﷺ) as I hear Ibn Mas'ud and so-and-so and so-and-so?' He said: 'I never left him from the time I became Muslim, but I heard him say a word: 'Whoever tells a lie about me deliberately, let him take his place in Hell.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ میں آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنتا جس طرح ابن مسعود اور فلاں فلاں کو سنتا ہوں؟ تو انہوں نے کہا: سنو! جب سے میں اسلام لایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا نہیں ہوا، لیکن میں نے آپ سے ایک بات سنی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: جو شخص میرے اوپر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔
The Prophet wiped his head and his ears: the outside and the inside of them. (Sahih)
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی حصوں کا مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ربیع رضی الله عنہا سے بھی روایت ہے، ۳- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں کی رائے ہے کہ دونوں کانوں کے بالائی اور اندرونی دونوں حصوں کا مسح کیا جائے۔
Maslamah Ibn Mukhallad made Ruwayfi ibn Thabit رضی اللہ عنہ the governor of the lower parts (of Egypt). He added: We travelled with him from Kum Sharik to Alqamah or from Alqamah to Kum Sharik (the narrator doubts) for Alqam. Ruwayfi said: Any one of us would borrow a camel during the lifetime of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم from the other, on condition that he would give him half the booty, and the other half he would retain himself. Further, one of us received an arrowhead and a feather, and the other an arrow-shaft as a share from the booty. He then reported: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: You may live for a long time after I am gone, Ruwayfi, so, tell people that if anyone ties his beard or wears round his neck a string to ward off the evil eye, or cleanses himself with animal dung or bone, Muhammad has nothing to do with him.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
مسلمہ بن مخلد نے ( جو امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ کی جانب سے بلاد مصر کے گورنر تھے ) رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کو ( مصر کے ) نشیبی علاقے کا عامل مقرر کیا، شیبان کہتے ہیں: تو ہم ان کے ساتھ کوم شریک ۱؎ سے علقماء ۱؎ کے لیے یا علقما ء سے کوم شریک کے لیے روانہ ہوئے، علقماء سے ان کی مراد علقام ہی ہے، رویفع بن ثابت نے ( راستے میں مجھ سے ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کا اونٹ اس شرط پر لیتا کہ اس سے جو فائدہ حاصل ہو گا اس کا نصف ( آدھا ) تجھے دوں گا اور نصف ( آدھا ) میں لوں گا، تو ہم میں سے ایک کے حصہ میں پیکان اور پر ہوتا تو دوسرے کے حصہ میں تیر کی لکڑی۔ پھر رویفع نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: رویفع! شاید کہ میرے بعد تمہاری زندگی لمبی ہو تو تم لوگوں کو خبر کر دینا کہ جس شخص نے اپنی داڑھی میں گرہ لگائی ۲؎ یا جانور کے گلے میں تانت کا حلقہ ڈالا یا جانور کے گوبر، لید یا ہڈی سے استنجاء کیا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
It was narrated from 'Abdullah bin Mughaffal that the Prophet (ﷺ) said: None of you should urinate in the place where he bathes, for most Waswas (devilish whispers) [1] come from that. [1] I.e., with regard to whether the urine has soiled his body or not.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے غسل خانے میں پیشاب نہ کرے، کیونکہ زیادہ تر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ، اللہ نے اس کو جہنم پر حرام کر دیا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و الترمذی (۲۶۳۸) ۔