Back to Ahadees library

Mishkat al-Masabih

Purification Hadith 545

كتاب الطهارة

Collection size

283

Available entries in this book

Hadith number

545

Current reading position

Arabic text

عَن أنس: إِنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ فِيهِمْ لَمْ يُؤَاكِلُوهَا وَلَمْ يُجَامِعُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ فَسَأَلَ أَصْحَاب النَّبِي صلى الله عَلَيْهِ وَسلم النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى (ويسألونك عَن الْمَحِيض قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ) الْآيَة. فَبَلَغَ ذَلِكَ الْيَهُودَ. فَقَالُوا: مَا يُرِيدُ هَذَا الرَّجُلُ أَنْ يَدَعَ مِنْ أَمْرِنَا شَيْئًا إِلَّا خَالَفَنَا فِيهِ فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حَضَيْرٍ وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْيَهُودَ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا أَفَلَا نُجَامِعُهُنَّ؟ فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا. فَخَرَجَا فَاسْتَقْبَلَتْهُمَا هَدِيَّةٌ مِنْ لَبَنٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ فِي آثَارِهِمَا فَسَقَاهُمَا فعرفا أَن لم يجد عَلَيْهِمَا. رَوَاهُ مُسلم

Translations

Read by language and source

Urdu

1 translation

HadithAPI (Urdu)

انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، یہودیوں کا یہ طرز عمل تھا کہ جب ان میں کسی عورت کو حیض آ جاتا تو وہ اس کے ساتھ کھاتے نہ انہیں گھر میں ساتھ رکھتے ، پس نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابہ نے آپ سے مسئلہ دریافت کیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ وہ آپ سے حیض کے بارے میں مسئلہ دریافت کرتے ہیں ۔‘‘ تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ جماع کے علاوہ سب کچھ کرو ۔‘‘ چنانچہ یہودیوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے کہا یہ آدمی (نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) کیا چاہتا ہے یہ تمام معاملات میں ہماری مخالفت ہی کرتا ہے ۔ چنانچہ اُسید بن حُضیر اور عبادہ بن بشیر ؓ حاضر خدمت ہوئے تو انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہودی یہ یہ کہتے ہیں ، کیا ہم ان سے (حالت حیض میں) جماع نہ کریں ؟ اس پر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کا رنگ بدل گیا ، حتیٰ کہ ان دونوں نے خیال کیا کہ آپ ان دوں پر ناراض ہو گئے ہیں ، پس وہ وہاں سے چل دیے ، انہیں دودھ کا ہدیہ ملا جو نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا تھا ، چنانچہ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی شخص کو ان کے پیچھے بھیجا اور انہیں دودھ پلایا جس سے انہوں نے پہچان لیا کہ آپ ان پر ناراض نہیں ۔ رواہ مسلم ۔