Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
عکرمہ سے روایت ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا :’’ ہر جمعہ (سات دن) میں لوگوں سے ایک مرتبہ وعظ کرو ، اگر تم (اس سے) انکار کرتے ہو تو پھر (ہفتہ میں) دو مرتبہ ، اگر زیادہ کرتے ہو تو پھر تین مرتبہ ، لوگوں کو اس قرآن سے اکتا نہ دو ، میں تمہیں نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس آؤ اور وہ اپنی گفتگو میں مصروف ہوں اور تم ان کی بات کاٹ کر کے انہیں وعظ کرنا شروع کر دو ، اس طرح تم انہیں اکتا دو گے ، بلکہ تم (وہاں جا) کر خاموشی اختیار کرو ، جب وہ تمہیں کہیں تو انہیں وعظ کرو ، درآنحالیکہ وہ اس کی خواہش رکھتے ہوں اور مسجع و مقفع کلام میں دعا کرنے سے اجتناب کرو ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دیکھا کہ وہ ایسے نہیں کیا کرتے تھے ۔ رواہ البخاری (۶۳۳۷) ۔
Abdullah bin Mas'ud narrated: Allah's Messenger would say the Takbir for every lowering and raising, standing and sitting, and (so did) Abu Bakr and Umar.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر جھکنے، اٹھنے، کھڑے ہونے اور بیٹھنے کے وقت اللہ اکبر کہتے ۱؎ اور ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما بھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، انس، ابن عمر، ابو مالک اشعری، ابوموسیٰ، عمران بن حصین، وائل بن حجر اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام کا جن میں ابوبکر، عمر، عثمان علی رضی الله عنہم وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین کا عمل اسی پر ہے اور اسی پر اکثر فقہاء و علماء کا عمل بھی ہے۔
واثلہ بن اسقع ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص علم تلاش کرے اور اسے پا لے تو اس کے لیے دو اجر ہیں ، اور اگر اسے نہ پا سکے تو اس کے لیے ایک اجر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الدارمی (۱/ ۹۷ ح ۳۴۲) ۔
Abu Hurairah narrated: Allah's Messenger would say the Takhir while he was going down.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جھکتے وقت «الله أكبر» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اہل علم کا قول یہی ہے کہ رکوع اور سجدہ کے لیے جھکتے ہوئے آدمی «الله أكبر» کہے۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن کو اپنی موت کے بعد اپنے مال و حسنات میں جن کا ثواب پہنچتا رہتا ہے ، ان میں سے ایک علم ہے جو اس نے سکھایا اور اسے نشر کیا ، (دوسرا) نیک اولاد جو اس نے چھوڑی ، یا قرآن مجید جو اس نے کسی کو عطیہ کیا ، یا مسجد ہے جو اس نے بنائی یا مسافر خانہ ہے جو اس نے بنایا ، یا نہر ہے جو اس نے جاری کی یا وہ صدقہ ہے جو اس نے اپنی صحت و حیات میں اپنے مال سے کیا ، پس یہ وہ اعمال ہیں جن کا ثواب اس کی موت کے بعد بھی اسے پہنچتا رہتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۴۲) و البیھقی فی شعب الایمان (۳۴۴۸) و ابن خذیمہ (۲۴۹۰) ۔
Salim narrated from : his father (Ibn Umar) who said: I saw Allah's Messenger when he opened the Salat, raising his hands to the level of his shoulders, and (again) when he bowed, and when he raised his head from bowing. In his narration, Ibn Abi Umar added: And he wuld not raise them between the two prostrations.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ جب آپ نماز شروع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں کندھوں کے بالمقابل کرتے، اور جب رکوع کرتے اور رکوع سے اپنا سر اٹھاتے ( تو بھی اسی طرح دونوں ہاتھ اٹھاتے ) ۱؎۔ ابن ابی عمر ( ترمذی کے دوسرے استاذ ) نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا ہے، دونوں سجدوں کے درمیان نہیں اٹھاتے تھے۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ عزوجل نے میری طرف وحی فرمائی کہ جو شخص طلب علم میں کوئی سفر کرتا ہے تو میں اس کے لیے راہ جنت آسان کر دیتا ہوں ، اور میں جس کی دونوں آنکھیں سلب کر لیتا ہوں تو میں اس کے بدلے اسے جنت عطا کر دیتا ہوں ، علم میں زیادت ، عبادت میں زیادت سے بہتر ہے ، اور دین کی اصل تقویٰ ہے ۔‘‘ سندہ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۵۷۵۱) ۔
Salim narrated: Same as 255 (above) with a different chain
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عمر، علی، وائل بن حجر، مالک بن حویرث، انس، ابوہریرہ، ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ، ابوقتادۃ، ابوموسیٰ اشعری، جابر اور عمیر لیثی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر بن عبداللہ، ابوہریرہ، انس، ابن عباس، عبداللہ بن زبیر رضی الله عنہم وغیرہ شامل ہیں اور تابعین میں سے حسن بصری، عطاء، طاؤس، مجاہد، نافع، سالم بن عبداللہ، سعید بن جبیر وغیرہ کہتے ہیں، اور یہی مالک، معمر، اوزاعی، ابن عیینہ، عبداللہ بن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۴- عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: جو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ہیں ان کی حدیث ( دلیل ) صحیح ہے، پھر انہوں نے بطریق زہری روایت کی ہے، ۵- اور ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے“ والی ثابت نہیں ہے، ۶- مالک بن انس نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۷- عبدالرزاق کا بیان ہے کہ معمر بھی نماز میں رفع یدین کو صحیح سمجھتے تھے، ۸- اور میں نے جارود بن معاذ کو کہتے سنا کہ ”سفیان بن عیینہ، عمر بن ہارون اور نضر بن شمیل اپنے ہاتھ اٹھاتے جب نماز شروع کرتے اور جب رکوع کرتے اور جب رکوع سے اپنا سر اٹھاتے“۔
Alqamah narrated that : Abdullah bin Mas'ud said: Shall I not demonstrate the Salat of Allah's Messenger to you? Then he offered Salat and he did not raise his hands except while saying the first Takbir.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ نے کہا: ”کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح نماز نہ پڑھاؤں؟ تو انہوں نے نماز پڑھائی اور صرف پہلی مرتبہ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں براء بن عازب رضی الله عنہما سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے بہت سے اہل علم یہی کہتے ہیں اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد نبوی میں دو حلقوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا :’’ دونوں خیرو بھلائی پر ہیں ، لیکن ان میں ایک دوسرے سے افضل ہے ، رہے وہ لوگ جو اللہ سے دعا کر رہے ہیں اور اس کے مشتاق ہیں ، پس اگر وہ چاہے تو انہیں عطا فرمائے اور اگر چاہے تو عطا نہ فرمائے ، اور رہے وہ لوگ جو فقہ یا علم سیکھ رہے ہیں اور جاہلوں کو تعلیم دے رہے ہیں ، تو وہ بہتر ہیں ، اور مجھے تو معلم بنا کر بھیجا گیا ہے ۔‘‘ پھر آپ اس حلقے میں بیٹھ گئے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۹۹ ، ۱۰۰ ح ۳۵۵) ۔
Abu Abdur-Rahman As-Sulami said: Umar bin Al-Khattab [may Allah be pleased with him] said to us: 'The knees are the Sunnah for you, so hold the knees.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ہم سے عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے کہا: گھٹنوں کو پکڑنا تمہارے لیے مسنون کیا گیا ہے، لہٰذا تم ( رکوع میں ) گھٹنے پکڑے رکھو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد، انس، ابواسید، سہل بن سعد، محمد بن مسلمہ اور ابومسعود رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اس سلسلے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔ سوائے اس کے جو ابن مسعود اور ان کے بعض شاگردوں سے مروی ہے کہ وہ لوگ تطبیق ۱؎ کرتے تھے، اور تطبیق اہل علم کے نزدیک منسوخ ہے۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ سے دریافت کیا گیا کہ علم کی وہ کیا حد ہے جہاں پہنچ کر انسان فقیہ بن جاتا ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے امور دین کے متعلق چالیس احادیث یاد کیں اور انہیں آگے امت تک پہنچایا تو اللہ اسے فقیہ کی حیثیت سے اٹھائے گا اور روز قیامت میں اس کے حق میں شفاعت کروں گا اور گواہی دوں گا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۷۲۶) ۔
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو سب سے بڑا سخی کون ہے ؟‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا سخی ہے ، پھر اولاد آدم میں سب سے بڑا سخی میں ہوں ، اور میرے بعد وہ شخص سخی ہے جس نے علم حاصل کیا اور اسے فروغ دیا ، روز قیامت وہ اس حیثیت سے آئے گا کہ وہ اکیلا ہی امیر ہو گا ۔‘‘ یا فرمایا :’’ اکیلا ہی ایک امت ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۷۶۷) ۔
Abbas bin Sahl [bin Sa'd] narrated: Abu Humaid, Abu Usaid, Sahl bin Sa'd, and Muhammad bin Maslamah were once together and they were mentioning the Salat of Allah's Messenger. Abu Humaid said: 'I am the most knowledgeable among you of the Salat of Allah's Messenger: Allah's Messenger would bow and place his hands on his knees as if he was grasping them, and he would draw his forearms to hold them away from his sides.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابوحمید، ابواسید، سہل بن سعد، اور محمد بن مسلمہ ( رضی الله عنہم ) چاروں اکٹھا ہوئے تو ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ذکر کیا، ابوحمید رضی الله عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کو تم میں سب سے زیادہ جانتا ہوں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھے گویا آپ انہیں پکڑے ہوئے ہیں، اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو کمان کی تانت کی طرح ( ٹائٹ ) بنایا اور انہیں اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- اسی کو اہل علم نے اختیار کیا ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے جدا رکھے۔
انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو قسم کے بھوکے حریص لوگ کبھی سیر نہیں ہوتے ، علم کا حریص شخص کبھی علم سے سیر نہیں ہوتا اور دنیا کا حریص کبھی دنیا سے سیر نہیں ہوتا ۔‘‘ بیہقی نے یہ تینوں احادیث شعب الایمان میں بیان کی ہیں ۔ اور امام احمد نے ابودرداء ؓ سے مروی حدیث کے بارے میں فرمایا : اس حدیث کا متن تو لوگوں میں مشہور ہے ، لیکن اس کی اسناد صحیح نہیں ۔ سندہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۰۲۷۹ ، ۹۷۹۸ ، ۵۰) و ابن عدی فی الکامل (۶/ ۲۲۹۸) و ابن جوزی فی العلل المتناھیۃ (۱۱۳) و الحاکم (۱/ ۹۲) و ابی خیشمۃ فی العلم (۱۴۱) ۔
Ibn Mas'ud narrated that : the Prophet said: When one of you bows then says while he is bowing: (Subhana Rabbiyal Azim) 'Glorious is my Lord the Magnificent' three times, then he has completed his bowing. And that is the least of it. And when he prostrates and says while prostrating: (Subhana Rabbiyal A'la) 'Glorious is my Lord the Most High' three times, then he has completed his prostrations, and that is the least of it.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی رکوع کرے تو رکوع میں «سبحان ربي العظيم» تین مرتبہ کہے تو اس کا رکوع پورا ہو گیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔ اور جب سجدہ کرے تو اپنے سجدے میں تین مرتبہ «سبحان ربي العظيم» کہے تو اس کا سجدہ پورا ہو گیا اور یہ سب سے کم تعداد ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی حدیث کی سند متصل نہیں ہے۔ عون بن عبداللہ بن عتبہ کی ملاقات ابن مسعود سے نہیں ہے ۱؎، ۲- اس باب میں حذیفہ اور عقبہ بن عامر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے، وہ اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ آدمی رکوع اور سجدے میں تین تسبیحات سے کم نہ پڑھے، ۴- عبداللہ بن مبارک سے مروی ہے، انہوں نے کہا کہ میں امام کے لیے مستحب سمجھتا ہوں کہ وہ پانچ تسبیحات پڑھے تاکہ پیچھے والے لوگوں کو تین تسبیحات مل جائیں اور اسی طرح اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ نے بھی کہا ہے۔
عون ؒ بیان کرتے ہیں ، عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا :’’ دو بھوکے حریص لوگ سیر نہیں ہوتے صاحب علم اور صاحب دنیا ، اور یہ دونوں برابر بھی نہیں ہو سکتے ، رہا صاحب علم تو وہ رحمان کی رضا مندی میں بڑھتا چلا جاتا ہے ،اور رہا صاحب دنیا تو وہ سرکشی میں بڑھتا چلا جاتا ہے ۔ پھر عبداللہ ؓ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ ہاں بلاشبہ انسان سرکش ہو جاتا ہے ، جب وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، انہوں نے دوسرے کے لیے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ بات صرف یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے علما ہی اس سے ڈرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۹۶ ح ۳۳۹) ۔
Hudhaifah narrated that : he performed Salat with the Prophet, and that while he was bowing he would say: (Subhana Rabbiyal Azim); Glorious is my Lord the Magnificent and while prostrating: (Subhana Rabbiyal A'la) 'Glorious is my Lord the Most High.' And he would not recite an Ayah mentioning mercy, except that he would stop and ask (for mercy), and he would not recite an Ayah mentioning punishment, except that he would stop and seek refuge (with Allah from it).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ اپنے رکوع میں «سبحان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الأعلى» پڑھ رہے تھے۔ اور جب بھی رحمت کی کسی آیت پر پہنچتے تو ٹھہرتے اور سوال کرتے اور جب عذاب کی کسی آیت پر آتے تو ٹھہرتے اور ( عذاب سے ) پناہ مانگتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔