Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میری امت میں سے کچھ لوگ دین میں تفقہ حاصل کرنے کا دعویٰ کریں گے ، وہ قرآن پڑھیں گے ، وہ کہیں گے : ہم امرا کے پاس جا کر ان سے ان کی دنیا سے کچھ حاصل کرتے ہیں ، اور ہم اپنے دین کو ان سے بچا کر رکھتے ہیں حالانکہ ایسے نہیں ہو سکتا ۔ جیسے قتاد (سخت کانٹے دار جنگلی درخت) سے صرف کانٹے ہی چنے جا سکتے ہیں ، اسی طرح ان (امرا) کے قرب سے سوائے ۔‘‘ محمد بن صباح نے کہا : گویا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ’’ ان کے پاس جانے سے گناہ حاصل ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۵۵) ۔
(Another similar narration) This Hadith has been narrated from Hudhaifah : from another route: That he performed Salat during the night with the Prophet and he mentioned the Hadith.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
شعبہ سے اسی طرح مروی ہے۔ حذیفہ رضی الله عنہ سے یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز تہجد پڑھی، پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں : اگر اہل علم ، علم کی حفاظت کرتے اور اسے اس کے اہل لوگوں تک پہنچاتے تو وہ اس کے ذریعے اپنے زمانے کے لوگوں پر سیادت و حکمرانی کرتے ، لیکن انہوں نے دنیا داروں کے لیے مخصوص کر دیا تاکہ وہ اس کے ذریعے ان کی دنیا سے کچھ حاصل کر لیں ، تو اس طرح وہ ان کے سامنے بے آبرو ہوگئے ، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جو شخص اپنے غموں کو سمیٹ کر فقط اپنی (آخرت کو) ایک غم بنا لیتا ہے تو اللہ اس کے دنیا کے غموں سے اس کے لیے کافی ہو جاتا ہے ، اور جس شخص کو دنیا کے غم و فکر منتشر رکھیں تو پھر اللہ کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ وہ کس وادی میں ہلاک ہوتا ہے ۔‘‘ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۲۵۷) ۔
Ali bin Abi Talib narrated: The Prophet prohibited wearing Qassi, and that which is dyed with safflower, and from the gold ring, and from reciting the Quran while bowing.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریشمی اور کسم کے رنگے ہوئے کپڑے پہننے، سونے کی انگوٹھی پہننے اور رکوع میں قرآن پڑھنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- صحابہ کرام، تابعین عظام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا یہی قول ہے، ان لوگوں نے رکوع اور سجدے میں قرآن پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔
بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر ؓ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول :((من جعل الھموم ،،،،)) سے آخر تک روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان (۱۸۸۸) و الحاکم فی المستدرک (۴/ ۳۲۸ ، ۳۲۹) ۔
Abu Mas'ud Al-Ansari [Al-Badri] narrated that : Allah's Messenger said: The Salat is not acceptable if a man is not at rest - meaning his back - while bowing and prostrating.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابومسعود انصاری کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان، انس، ابوہریرہ اور رفاعہ زرقی رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی رکھے، ۴- شافعی، احمد، اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ جس نے رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں رکھی تو اس کی نماز فاسد ہے، اس لیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: ”اس شخص کی نماز کافی نہ ہو گی جو رکوع اور سجدے میں اپنی پیٹھ سیدھی نہ رکھے۔
اعمش ؒ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بھول جانا علم کے لیے آفت ہے ، اور جو علم کی اہلیت نہیں رکھتے ان سے اسے بیان کرنا اسے ضائع کرنا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۱۵۰ ح ۶۳۰) ۔
Ali bin Abi Talib narrated: When Allah's Messenger would raise his head from bowing he would say: (Sami Allahi liman hamidal. Rabba na lakal-hamd, mil'as-samawati wa mil'al-ardi wa mil'a ma bainahuma wa mil'a ma shi'ia min shay'in ba'd) 'Allah listens to those who praise Him. O our Lord! And to You is the praise that fills the heavens and fills the earth, and fills what is between them, and fills whatever there is beyond that You will.' He said: There are narrations on this topic from Ibn Umar, Ibn Abbas, Ibn Abi Awfa, Abu Juhaifa, and Abu Sa'eed.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکوع سے سر اٹھاتے تو «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ملء السموات وملء الأرض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد» ”اللہ نے اس شخص کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی، اے ہمارے رب! تعریف تیرے ہی لیے ہے آسمان بھر، زمین بھر، زمین و آسمان کی تمام چیزوں بھر، اور اس کے بعد ہر اس چیز بھر جو تو چاہے“ کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- علی رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عمر، ابن عباس، ابن ابی اوفی، ابوحجیفہ اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں کہ فرض ہو یا نفل دونوں میں یہ کلمات کہے گا ۱؎ اور بعض اہل کوفہ کہتے ہیں: یہ صرف نفل نماز میں کہے گا۔ فرض نماز میں اسے نہیں کہے گا۔
سفیان الثوری ؒ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ نے کعب ؓ سے پوچھا : اہل علم کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : جو اپنے علم کے مطابق عمل کرتے ہیں ، پھر پوچھا : کون سی چیز علما کے دلوں سے علم نکال دیتی ہے ؟ انہوں نے کہا : (دنیا کا) طمع ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۱۴۴ ح ۵۹۰) ۔
Abu Hurairah narrated that : Allah's Messenger said: When the Imam says: (Sami Allahu liman hamidah) 'Allah listens to those who praise Him. Then (all of you) say: (Rabbana wa lakal-hamd) 'O our Lord! And to You is the praise for whoever's saying concurs with the saying of the angels, then his past sins will be forgiven.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام «سمع الله لمن حمده» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ کہے تو تم «ربنا ولك الحمد» ”ہمارے رب! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں“ کہو کیونکہ جس کا قول فرشتوں کے قول کے موافق ہو گیا تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دئیے جائیں گے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ امام «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کہے ۱؎ اور مقتدی «ربنا ولك الحمد» کہیں، یہی احمد کہتے ہیں، ۳- اور ابن سیرین وغیرہ کا کہنا ہے جو امام کے پیچھے ( یعنی مقتدی ) ہو وہ بھی «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» اسی طرح کہے گا ۲؎ جس طرح امام کہے گا اور یہی شافعی اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
احوص بن حکیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھ سے شر کے بارے میں مت پوچھو ۔ مجھ سے خیر کے بارے میں پوچھو ۔‘‘ آپ نے تین مرتبہ ایسے فرمایا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ سن لو ! سب سے بڑا شر علمائے سوء ہیں ، اور سب سے بڑی خیر علمائے خیر ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱ /۱۰۴ ح ۳۷۶) ۔
Wa'il bin Hujr narrated: I saw Allah's Messenger when he prostrated placing his knees (on the ground) before his hands, and when he got up, he raised his hands before his knees.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا: جب آپ سجدہ کرتے تو اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھ سے پہلے رکھتے، اور جب اٹھتے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے شریک سے اس طرح روایت کیا ہو، ۲- اکثر ہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے، ان کی رائے ہے کہ آدمی اپنے دونوں گھٹنے اپنے دونوں ہاتھوں سے پہلے رکھے اور جب اٹھے تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اٹھائے، ۳- ہمام نے عاصم ۲؎ سے اسے مرسلاً روایت کیا ہے۔ اس میں انہوں نے وائل بن حجر کا ذکر نہیں کیا۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں :’’ روز قیامت اللہ کے ہاں سب سے بُرا مقام اس عالم کا ہو گا جو اپنے علم سے فائدہ حاصل نہیں کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا موضوع ، رواہ الدارمی (۱ /۸۲ ح ۲۶۸) ۔
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said; Is it that one of you intends to kneel in his Salat with the kneeling of the camel?
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ قصد کرتا ہے کہ وہ اپنی نماز میں اونٹ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث غریب ہے ہم اسے ابوالزناد کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- یہ حدیث عبداللہ بن سعید مقبری سے بھی روایت کی گئی ہے، انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے ابوہریرہ سے اور ابوہریرہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ عبداللہ بن سعید مقبری کو یحییٰ بن سعید قطان وغیرہ نے ضعیف قرار دیا ہے۔
زیاد بن حُدیر ؒ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے مجھ سے پوچھا : کہ تم جانتے ہو کون سی چیز اسلام کی عزت میں کمی کرتی ہے ؟ میں نے کہا : نہیں ، انہوں نے فرمایا : عالم کی لغزش ، منافق کا قرآن کے ساتھ جدال کرنا اور گمراہ حکمرانوں کا فیصلے کرنا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الدارمی (۱ /۷۱ ح ۲۲۰) ۔
The Messenger of Allah said: 'A Mudd is sufficient for the ablution and a Sa' is sufficient for the bath.' A man said: 'It is not sufficient for us.' He (the narrator) said: It was sufficient for one who is better than you and had more hair meaning the Prophet.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وضو میں ایک مد اور غسل میں ایک صاع پانی کافی ہے ، اس پر ایک شخص نے کہا: ہمیں اتنا پانی کافی نہیں ہوتا، تو انہوں نے کہا: تم سے بہتر ذات کو، اور تم سے زیادہ بالوں والے ( یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کافی ہو جاتا تھا ۔
Abu Humaid As-Sa'idi narrated: When the Prophet would prostrate, he placed his nose and his forehead on the ground, and he held his forearms away from his sides, and he placed his hands parallel to his shoulders.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنی ناک اور پیشانی خوب اچھی طرح زمین پر جماتے، اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں پہلوؤں سے دور رکھتے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دونوں شانوں کے بالمقابل رکھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوحمید کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس، وائل بن حجر اور ابوسعید رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ آدمی اپنی پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ کرے، اور اگر صرف پیشانی پر سجدہ کرے ناک پر نہ کرے تو اہل علم میں سے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ اسے کافی ہو گا، اور کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی نہیں ہو گا جب تک کہ وہ پیشانی اور ناک دونوں پر سجدہ نہ کرے ۱؎۔