Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے علم کے بغیر فتویٰ دیا تو اس کا گناہ اسے فتویٰ دینے والے پر ہے ، اور جس شخص نے اپنے (مسلمان) بھائی کو کسی معاملے میں مشورہ دیا حالانکہ وہ جانتا ہے کہ بھلائی و بہتری اس کے علاوہ کسی دوسری صورت میں ہے ، تو اس نے اس سے خیانت کی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۶۵۷) و الحاکم (۱/ ۱۲۶) و ابن ماجہ (۵۳) ۔
Aishah narrated: When the Prophet opened the Salat he would say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa tabarakasmuka, wa ta'ala jadduka wa la ilaha ghairuk) 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blessed is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- حارثہ کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا گیا ہے۔
Ibn Abdullah bin Mughaffal narrated: While I was praying, I said: Bismillahir-Rahmanir-Rahim In the Name of Allah, the Merciful, the Beneficent. My father heard me and said: O my son this is a newly invented matter, beware of the newly-invented.' He (Ibn Abdullah) said: I have not seen any one of the Companions of Allah's Messenger who hated a newly invented matter in Islam more than him. And he said: 'Ihave performed Salat with the Prophet, and with Abu Bakr, and Umar, and with Uthman. I did not hear any one of them saying it. So do not say it. When you are performing Salat say: Al-Hamdu lilahi Rabbil-Alamin All praise is due to Allah the Lord of all that exists.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میرے والد نے مجھے نماز میں «بسم اللہ الرحمن الرحیم» کہتے سنا تو انہوں نے مجھ سے کہا: بیٹے! یہ بدعت ہے، اور بدعت سے بچو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی کو نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ اسلام میں بدعت کا مخالف ہو، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، ابوبکر کے ساتھ، عمر کے ساتھ اور عثمان رضی الله عنہم کے ساتھ نماز پڑھی ہے لیکن میں نے ان میں سے کسی کو اسے ( اونچی آواز سے ) کہتے نہیں سنا، تو تم بھی اسے نہ کہو ۱؎، جب تم نماز پڑھو تو قرأت «الحمد لله رب العالمين» سے شروع کرو۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبداللہ بن مغفل رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- صحابہ جن میں ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم وغیرہ شامل ہیں اور ان کے بعد کے تابعین میں سے اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، یہ لوگ «بسم اللہ الرحمن الرحیم» زور سے کہنے کو درست نہیں سمجھتے ( بلکہ ) ان کا کہنا ہے کہ آدمی اسے اپنے دل میں کہے ۲؎۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ علم میراث اور قرآن کی تعلیم حاصل کرو اور لوگوں کو سکھاؤ ، کیونکہ عنقریب میری روح قبض کر لی جائے گی َ:‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۰۹۱) و ابن ماجہ (۲۷۱۹) ۔
Ibn Abbas narrated: The Prophet would open his Salat with (Bismillahir-Rahmanir-Rahim).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز «بسم الله الرحمن الرحيم» سے شروع کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- صحابہ کرام میں سے جن میں ابوہریرہ، ابن عمر، ابن عباس اور ابن زبیر رضی الله عنہم شامل ہیں اور ان کے بعد تابعین میں سے کئی اہل علم «بسم الله الرحمن الرحيم» زور سے کہنے کے قائل ہیں، اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے ، تو آپ نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا :’’ یہ وہ وقت ہے جس میں لوگوں سے علم سلب کر لیا جائے گا حتیٰ کہ وہ اس سے کسی چیز پر بھی قدرت نہیں رکھیں گے ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی (۲۶۵۳) و الحاکم (۱/ ۹۹) ۔
Anas narrated: Allah's Messenger, Abu Bakr, Umar and Uthman opened the Salat with (Al-Hamdu-lillahi rabbil-alamin).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے۔ شافعی کہتے ہیں کہ ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی الله عنہم «الحمد لله رب العالمين» سے قرأت شروع کرتے تھے“ کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ سورت سے پہلے سورۃ فاتحہ پڑھتے تھے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ «بسم الله الرحمن الرحيم» نہیں پڑھتے تھے، شافعی کی رائے ہے کہ قرأت «بسم الله الرحمن الرحيم» سے شروع کی جائے اور اسے بلند آواز سے پڑھا جائے جب قرأت جہر سے کی جائے ۱؎۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ عنقریب لوگ طلب علم میں اونٹوں پر سفر کریں گے ، لیکن وہ عالم مدینہ سے زیادہ عالم کسی کو نہیں پائیں گے ۔ اور ان کی جامع میں ہے کہ ابن عیینہ ؒ نے فرمایا : اس سے مراد مالک بن انس ؒ ہیں ۔ انہی کے مثل عبدالرزاق سے مروی ہے ، اسحاق بن موسی نے بیان کیا ، میں نے ابن عیینہ سے سنا ، تو انہوں نے کہا : اس سے مراد عمری زاہد ہے اور ان کا نام عبدالعزیز بن عبداللہ ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۶۸۰) و الحاکم (۱/ ۹۱ ح ۳۰۷) ۔
Ubadah bin As-Samil narrated that : the Prophet said: There is no Salat for the one who does not recite Fatihatil-Kitab.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کی نماز نہیں جس نے سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عبادہ بن صامت کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ، عائشہ، انس، ابوقتادہ اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام میں سے اکثر اہل علم جن میں عمر بن خطاب، علی بن ابی طالب، جابر بن عبداللہ اور عمران بن حصین وغیرہم رضی الله عنہم شامل ہیں کا اسی پر عمل ہے۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ سورۃ فاتحہ پڑھے بغیر نماز کفایت نہیں کرتی، علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں: جس نماز میں سورۃ فاتحہ نہیں پڑھی گئی وہ ناقص اور ناتمام ہے۔ یہی ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں۔
راوی حدیث ابوعلقمہ بیان کرتے ہیں کہ میری معلومات کے مطابق ابوہریرہ ؓ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرفوع روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل اس امت کے لیے ہر سو سال کے آخر پر کسی ایسے شخص کو بھیجے گا جو اس کے لیے اس کے دین کی تجدید کرے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۴۲۹۱) و الحاکم فی المستدرک (۴/ ۵۲۲) ۔
Wa'il bin Hujr narrated: I heard the Prophet recite: (Not (the way) of those who earned Your anger, nor those who went astray) and he said: 'Amin.' And he stretched it out with his voice.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھ کر، آمین کہتے سنا، اور اس کے ساتھ آپ نے اپنی آواز کھینچی ( یعنی بلند کی ) ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وائل بن حجر رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی اور ابوہریرہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی آمین کہنے میں اپنی آواز بلند کرے اسے پست نہ رکھے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ( شاذ ) ۴- شعبہ نے یہ حدیث بطریق «سلمة بن كهيل، عن حُجر أبي العنبس، عن علقمة بن وائل، عن أبيه وائل» روایت کی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے «غير المغضوب عليهم ولا الضالين» پڑھا تو آپ نے آمین کہی اور اپنی آواز پست کی، ۵- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ شعبہ نے اس حدیث میں کئی مقامات پر غلطیاں کی ہیں ۱؎ انہوں نے حجر ابی عنبس کہا ہے، جب کہ وہ حجر بن عنبس ہیں اور ان کی کنیت ابوالسکن ہے اور اس میں انہوں نے «عن علقمة بن وائل» کا واسطہ بڑھا دیا ہے جب کہ اس میں علقمہ کا واسطہ نہیں ہے، حجر بن عنبس براہ راست حجر سے روایت کر رہے ہیں، اور «وخفض بها صوته» ( آواز پست کی ) کہا ہے، جب کہ یہ «ومدّ بها صوته» ( اپنی آواز کھینچی ) ہے، ۶- میں نے ابوزرعہ سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: سفیان کی حدیث شعبہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے۔ اور علاء بن صالح اسدی نے بھی سلمہ بن کہیل سے سفیان ہی کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ۲؎۔
ابراہیم بن عبدالرحمن عذری ؒ (مرسل روایت) بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس علم کو بعد میں آنے والے ہر طبقہ کے صاحب تقویٰ لوگ حاصل کریں گے ، وہ اس (علم) سے غلو کرنے والوں کی تحریف ، جھوٹے لوگوں کی جعل سازی اور جہلا کی تاویل کی نفی کریں گے ۔‘‘ بیہقی نے المدخل میں مرسل روایت کیا ہے ، ہم جابر ؓ سے مروی حدیث : ((فانما شفاء العی السوال)) کو باب التیمم میں ان شاء اللہ بیان کریں گے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ البیھقی (۱۰/ ۲۰۹) ۔
حسن بصری ؒ مرسل روایت بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو احیائے اسلام کے لیے علم حاصل کرتے ہوئے موت آ جائے تو جنت میں اس کے اور انبیا علیہم السلام کے مابین صرف (نبوت کا) ایک درجہ ہو گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۱۰۰ ح ۳۶۰) ۔
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said When the Imam says 'Amin' then (all of you) say 'Amin.' For whoever's 'Amin' concurs with the 'Amin' of the angels, then his past sins will be forgiven.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب امام آمین کہے تو تم لوگ بھی آمین کہو۔ اس لیے کہ جس کی آمین فرشتوں کی آمین سے مل گئی تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔
حسن بصری ؒ سے مرسل روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کا تذکرہ کیا گیا ، ان میں سے ایک عالم تھا ، وہ فرض نماز پڑھ کر بیٹھ جاتا اور لوگوں کو خیر (علم) کی تعلیم دیتا ، جبکہ دوسرا شخص دن کو روزہ رکھتا اور رات کو قیام کرتا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ ان دونوں میں کون افضل ہے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس عالم کی ، جو فرض نماز پڑھ کر بیٹھ جاتا ہے اور لوگوں کو خیر کی تعلیم دیتا ہے ، اس پر عابد ، جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے ، اس طرح فضیلت ہے ، جس طرح میری تمہارے ادنی پر فضیلت ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الدارمی (۱/ ۹۸ ح ۳۴۷) ۔
Al-Hasan narrated that : Samurah said: there are two pauses that I preserved from Allah's Messenger. But Imran bin Husain rejected that and said: We preserved one pause. So we wrote to Ubayy bin Ka'b in Al-Madinah. Ubayy wrote that Samurah was correct. Sa'eed said: We said to Qatadah: 'What are those two pauses?' He said: 'When he entered into his Salat, and when he finished his recitation.' Then he (Qatadah) said after that: 'And when he recited (Nor those who went astray.)' And he said: 'He liked to pause when he finished the recitation until he caught his breath.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
( نماز میں ) دو سکتے ہیں جنہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا ہے، اس پر عمران بن حصین رضی الله عنہ نے اس کا انکار کیا اور کہا: ہمیں تو ایک ہی سکتہ یاد ہے۔ چنانچہ ( سمرہ بن جندب رضی الله عنہ کہتے ہیں ) ہم نے مدینے میں ابی بن کعب رضی الله عنہ کو لکھا، تو انہوں نے لکھا کہ سمرہ نے ( ٹھیک ) یاد رکھا ہے۔ سعید بن ابی عروبہ کہتے ہیں: تو ہم نے قتادہ سے پوچھا: یہ دو سکتے کون کون سے ہیں؟ انہوں نے کہا: جب نماز میں داخل ہوتے ( پہلا اس وقت ) اور جب آپ قرأت سے فارغ ہوتے، پھر اس کے بعد کہا اور جب «ولا الضالين» کہتے ۱؎ اور آپ کو یہ بات اچھی لگتی تھی کہ جب آپ قرأت سے فارغ ہوں تو تھوڑی دیر چپ رہیں یہاں تک کہ سانس ٹھہر جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ وہ امام کے لیے نماز شروع کرنے کے بعد اور قرأت سے فارغ ہونے کے بعد ( تھوڑی دیر ) چپ رہنے کو مستحب جانتے ہیں۔ اور یہی احمد، اسحاق بن راہویہ اور ہمارے اصحاب بھی کہتے ہیں۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دین کا فقیہ شخص کیا ہی اچھا ہے اگر اس کی طرف رجوع کیا جائے تو وہ فائدہ پہنچاتا ہے ، اور اگر اس سے بے نیازی برتی جائے تو وہ بھی اپنے آپ کو بے نیاز کر لیتا ہے ۔‘‘ اسنادہ موضوع ، رواہ رزین (لم اجدہ) و ابن عساکر فی تاریخ دمشق (۴۸/ ۲۰۳) ۔
Qabisah bin Hulb narrated from : his father who said: Allah's Messenger lead us in prayer and hold his left hand with his right.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری امامت کرتے تو بائیں ہاتھ کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہلب رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں وائل بن حجر، غطیف بن حارث، ابن عباس، ابن مسعود اور سہیل بن سعد رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی نماز میں داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ۱؎، اور بعض کی رائے ہے کہ انہیں ناف کے اوپر رکھے اور بعض کی رائے ہے کہ ناف کے نیچے رکھے، ان کے نزدیک ان سب کی گنجائش ہے۔