Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھ سے حدیث بیان کرتے وقت احتیاط کیا کرو اور صرف وہی حدیث بیان کرو جس کے بارے میں تمہیں علم ہو (کہ یہ میری حدیث ہے) ، پس جس نے عمداً مجھ پر جھوٹ باندھا تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۹۵۱) ۔
Samurah bin Jundub narrated: Allah's Messenger ordered us that when we were three, then one of us should stand forward.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ جب ہم تین ہوں تو ہم میں سے ایک آگے بڑھ جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- سمرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے، ۲- اس باب میں ابن مسعود، جابر اور انس بن مالک رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ جب تین آدمی ہوں تو دو آدمی امام کے پیچھے کھڑے ہوں، ابن مسعود رضی الله عنہ نے علقمہ اور اسود کو نماز پڑھائی تو ان دونوں میں سے ایک کو اپنے دائیں طرف اور دوسرے کو بائیں طرف کھڑا کیا اور ابن مسعود رضی الله عنہ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، ۴- بعض لوگوں نے اسماعیل بن مسلم مکی پر ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے ۱؎۔
ابن ماجہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے لیکن ابن ماجہ نے یہ الفاظ :’’ مجھ سے حدیث بیان کرتے وقت احتیاط کرو اور وہی حدیث بیان کرو جس کے بارے میں تمہیں علم ہو ۔‘‘ ذکر نہیں کئے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ (۳۰ ، ۳۳) و الترمذی (۲۲۵۷) ۔
Anas bin Malik narrated: My grandmother Mutalikah invited Allah's Messenger to a meal that she prepared. He ate from it, then said: 'Stand so tht we may lead you in prayer.' He said: I got a Hasir of our which had become dark because of prolonged use, so I washed it with water. Allah's Messenger stood on it, and the orphan and I aligned behind him and the only lady stood behind us. He (Allah's Messenger) led us in two Rak'ah of prayer and then left.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ان کی دادی ملیکہ رضی الله عنہا نے کھانا پکایا اور اس کو کھانے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدعو کیا، آپ نے اس میں سے کھایا پھر فرمایا: ”اٹھو چلو ہم تمہیں نماز پڑھائیں“، انس کہتے ہیں ـ: تو میں اٹھ کر اپنی ایک چٹائی کے پاس آیا جو زیادہ استعمال کی وجہ سے کالی ہو گئی تھی، میں نے اسے پانی سے دھویا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر کھڑے ہوئے، میں نے اور یتیم نے آپ کے پیچھے اس پر صف لگائی اور دادی ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں، تو آپ نے ہمیں دو رکعات پڑھائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف پلٹے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ جب امام کے ساتھ ایک مرد اور ایک عورت ہو تو مرد امام کے دائیں طرف کھڑا ہو اور عورت ان دونوں کے پیچھے۔ ۳- بعض لوگوں نے اس حدیث سے دلیل لی ہے کہ جب آدمی صف کے پیچھے تنہا ہو تو اس کی نماز جائز ہے، وہ کہتے ہیں کہ بچے پر نماز تو تھی ہی نہیں گویا عملاً انس رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تنہا ہی تھے، لیکن ان کی یہ دلیل صحیح نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انس کو اپنے پیچھے یتیم کے ساتھ کھڑا کیا تھا، اور اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یتیم کی نماز کو نماز نہ مانتے تو یتیم کو ان کے ساتھ کھڑا نہ کرتے بلکہ انس کو اپنے دائیں طرف کھڑا کرتے، انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تو آپ نے انہیں اپنی دائیں طرف کھڑا کیا، اس حدیث میں دلیل ہے کہ آپ نے نفل نماز پڑھی تھی اور انہیں برکت پہنچانے کا ارادہ کیا تھا۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ (۲۹۵۰ ، ۲۹۵۱) ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو شخص قرآن کے بارے میں علم کے بغیر کوئی بات کہے تو وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے ۔‘‘
Abu Mas'ud narrated that : Allah's Messenger said: The one who recites most of the Book of Allah is to lead the people (in prayers). If they are equal in recitation, then the most knowledgeable in the Sunnah among them. If they are equal regarding the Sunnah, then the earliest of them to emigrate. If they are equal in their emigration then the eldest among them. And a man is not to be led in prayer in the place of his authority, and his spot of esteem in his home is not to be sat on without his permission.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں کی امامت وہ کرے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) کا سب سے زیادہ علم رکھنے والا ہو، اگر لوگ قرآن کے علم میں برابر ہوں تو جو سب سے زیادہ سنت کا جاننے والا ہو وہ امامت کرے، اور اگر وہ سنت کے علم میں بھی برابر ہوں تو جس نے سب سے پہلے ہجرت کی ہو وہ امامت کرے، اگر وہ ہجرت میں بھی برابر ہوں تو جو عمر میں سب سے بڑا ہو وہ امامت کرے، آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ کسی آدمی کے گھر میں اس کی مخصوص جگہ پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابومسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابوسعید، انس بن مالک، مالک بن حویرث اور عمرو بن سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان کا کہنا ہے کہ لوگوں میں امامت کا حقدار وہ ہے جو اللہ کی کتاب ( قرآن ) اور سنت کا سب سے زیادہ علم رکھتا ہو۔ نیز وہ کہتے ہیں کہ گھر کا مالک خود امامت کا زیادہ مستحق ہے، اور بعض نے کہا ہے: جب گھر کا مالک کسی دوسرے کو اجازت دیدے تو اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن بعض لوگوں نے اسے بھی مکروہ جانا ہے، وہ کہتے ہیں کہ سنت یہی ہے کہ گھر کا مالک خود پڑھائے ۱؎، ۴- احمد بن حنبل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان: ”آدمی کے دائرہ اقتدار میں اس کی امامت نہ کی جائے اور نہ اس کے گھر میں اس کی مخصوص نشست پر اس کی اجازت کے بغیر بیٹھا جائے“ کے بارے میں کہتے ہیں کہ جب وہ اجازت دیدے تو میں امید رکھتا ہوں کہ یہ اجازت مسند پر بیٹھنے اور امامت کرنے دونوں سے متعلق ہو گی، انہوں نے اس کے نماز پڑھانے میں کوئی حرج نہیں جانا کہ جب وہ اجازت دیدے۔
جندب ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قرآن کے بارے میں اپنی رائے سے کچھ کہے اور اگر وہ درست بھی ہو تب بھی اس نے غلطی کی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۹۵۲) و ابوداؤد (۳۶۵۲) ۔
Abu Hurairah narrated that : the Prophet said: When one of you leads the people in prayer then let him be brief, for indeed here are among them the young and the old, the weak and the ill. When one of you prays alone, then let him pray as he wishes.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو چاہیئے کہ ہلکی نماز پڑھائے، کیونکہ ان میں چھوٹے، بڑے، کمزور اور بیمار سبھی ہوتے ہیں اور جب وہ تنہا نماز پڑھے تو جیسے چاہے پڑھے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عدی بن حاتم، انس، جابر بن سمرہ، مالک بن عبداللہ، ابوواقد، عثمان، ابومسعود، جابر بن عبداللہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- یہی اکثر اہل علم کا قول ہے، ان لوگوں نے اسی کو پسند کیا کہ امام نماز لمبی نہ پڑھائے تاکہ کمزور، بوڑھے اور بیمار لوگوں کو پریشانی نہ ہو۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن کے بارے میں اختلاف و جھگڑا کرنا کفر ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲/ ۲۸۶ ح ۷۸۳۵ ، ۲/ ۵۰۳ ح ۱۰۵۴۶) و ابوداود (۴۶۰۳) و ابن حبان (۷۳) و الحاکم (۲/ ۲۲۳) ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو قرآن کے بارے میں جھگڑا کرتے ہوئے پایا تو فرمایا :’’ تم سے پہلے لوگ بھی اسی وجہ سے ہلاک ہوئے انہوں نے اللہ کی کتاب کے بعض حصوں کا بعض حصوں سے رد کیا ، حالانکہ اللہ کی کتاب تو اس لیے نازل ہوئی کہ وہ ایک دوسرے کی تصدیق کرتا ہے ، پس تم قرآن کے بعض حصے سے بعض کی تکذیب نہ کرو ، اس سے جو تم جان لو تو اسے بیان کرو ، اور جس کا تمہیں پتہ نہ چلے اسے اس کے جاننے والے کے سپرد کر دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۲/ ۱۸۵ ح ۶۷۴۱۹) و ابن ماجہ (۸۵) ۔
Abu Sa'eed narrated that : Allah's Messenger said: the key to Salat is the purification, its Tahrim is the Takbir, and its Tahlilis the Taslim, and there is no Salat for one who did not recite Al-Hamd and a Surah in the obligatory (prayer) or other prayers.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کی کنجی وضو ( طہارت ) ہے، اس کی تحریم تکبیر ہے اور اس کی تحلیل سلام پھیرنا ہے، اور اس آدمی کی نماز ہی نہیں جو «الحمدللہ» ( سورۃ فاتحہ ) اور اس کے ساتھ کوئی اور سورۃ نہ پڑھے خواہ فرض نماز ہو یا کوئی اور نماز ہو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی اور عائشہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کی حدیث سند کے اعتبار سے سب سے عمدہ اور ابو سعید خدری کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ہم اسے کتاب الوضو کے شروع میں ذکر کر چکے ہیں ( حدیث نمبر: ۳ ) ، ۴- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے اہل علم کا عمل اسی پر ہے، یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ نماز کی تحریم تکبیر ہے، آدمی نماز میں تکبیر کے ( یعنی اللہ اکبر کہے ) بغیر داخل نہیں ہو سکتا، ۵- عبدالرحمٰن بن مہدی کہتے ہیں: اگر آدمی اللہ کے ناموں میں سے ستر نام لے کر نماز شروع کرے اور ”اللہ اکبر“ نہ کہے تو بھی یہ اسے کافی نہ ہو گا۔ اور اگر سلام پھیرنے سے پہلے اسے حدث لاحق ہو جائے تو میں اسے حکم دیتا ہوں کہ وضو کرے پھر اپنی ( نماز کی ) جگہ آ کر بیٹھے اور سلام پھیرے، اور حکم ( رسول ) اپنے حال ( ظاہر ) پر ( باقی ) رہے گا ۱؎۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قرآن سات قراءتوں میں نازل کیا گیا ، اس میں سے ہر آیت کا ظاہر اور باطن ہے ، اور ہر سطح کا مفہوم سمجھنے کے لیے مناسب استعداد کی ضرورت ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ (۱/ ۲۶۳ بعد ح ۱۲۲ معلقًا) و الطبری فی تفسیرہ (۱/ ۱۰ ،۱۱) و ابن حبان (۱۷۸۱) و ابی یعلیٰ فی مسندہ (۹/ ۸۱ ح ۵۱۴۹) ۔
Abu Hurairah narrated: When Allah's Messenger performed the Takbir for Salat he would spread his fingers.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے اللہ اکبر کہتے تو اپنی انگلیاں کھلی رکھتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ کی حدیث حسن ہے، ۲- دیگر کئی لوگوں نے یہ حدیث بطریق «ابن أبي ذئب عن سعيد بن سمعان عن أبي هريرة» روایت کی ہے ( ان کے الفاظ ہیں ) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے تھے۔ یہ روایت یحییٰ بن یمان کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، یحییٰ بن یمان کی روایت غلط ہے ان سے اس حدیث میں غلطی ہوئی ہے، ( اس کی وضاحت آگے آ رہی ہے ) ۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ علم تین ہیں : آیت محکمہ یا سنت ثابتہ یا فریضہ عادلہ (ہر وہ فرض جس کی فرضیت پر مسلمانوں کا اجماع ہے) اور جو اس کے سوا ہو وہ افضل ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد (۲۸۸۵) و ابن ماجہ (۵۴) الذھبی فی تلخیص المستدرک (۴/ ۳۳۲) ۔
Abu Hurairah narrated: When Allah's Messenger would enter the Salat he would raise his hands while they were extended.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح اٹھاتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: عبداللہ بن عبدالرحمٰن ( دارمی ) کا کہنا ہے کہ یہ یحییٰ بن یمان کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اور یحییٰ بن یمان کی حدیث غلط ہے ۱؎۔
عوف بن مالک اشجعی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ امیر یا جسے وہ اجازت دے وہی خطاب کرنے کا مجاز ہے یا پھر متکبر شخص وعظ کرتا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد (۳۶۶۵) ۔
Anas bin Malik narrated that : Allah's Messenger said: Whoever performs Salat for Allah for forty days in congregation, catching the first Takbir, two absolutions are written for him: absolution from the Fire, and absolution from the Fire, and absolution from hypocrisy.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی رضا کے لیے چالیس دن تک تکبیر اولیٰ کے ساتھ باجماعت نماز پڑھی تو اس کے لیے دو قسم کی برات لکھی جائے گی: ایک آگ سے برات، دوسری نفاق سے برات“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: انس سے یہ حدیث موقوفاً بھی روایت کی گئی ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ ابوقتیبہ سلمہ بن قتیبہ کے سوا کسی نے اسے مرفوع روایت کیا ہو یہ حدیث حبیب بن ابی حبیب بجلی سے بھی روایت کی جاتی ہے انہوں نے اسے انس بن مالک سے روایت کیا ہے اور اسے انس ہی کا قول قرار دیا ہے، اسے مرفوع نہیں کیا، نیز اسماعیل بن عیاش نے یہ حدیث بطریق «عمارة بن غزية عن أنس بن مالك عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے، اور یہ حدیث غیر محفوظ اور مرسل ۱؎ ہے، عمارہ بن غزیہ نے انس بن مالک کا زمانہ نہیں پایا۔
دارمی نے عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کی سند سے روایت بیان کی ہے ، اس میں ((مختال))’’ متکبر ‘‘ کے بجائے ((مراء))’’ ریاکار ‘‘ کا لفظ ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی (۲/ ۳۱۹ ح ۲۷۸۲) ۔
Abu Sa'eeed Al Khudri narrated: When Allah;s Messenger stood for Salat during the night, he would say the Takbir (Allahu Akbar), then say: (Subhanaka Allahumma wa bihamdika wa Tabarakasmuka wa Ta'ala Jadduka wa la ilaha ghairuk.) 'Glorious You are O Allah, and with Your praise, and blesses is Your Name, and exalted is Your majesty, and none has the right to be worshipped but You' Then he would say: (A'udhu Bilahi As-Sami'il-Alimi min Ash-Shaitanir-Rajimi, min Hamzihi Wa Nafkhihi wa Nafthihi.) 'Allah is undoubtedly the greatest.' (Allahu Akbaru Kabira). Then he would say: 'I seek refuge in Allah the All-Hearing, the All-Knowing, from the cursed Shaitan, from his madness, his arrogance, and his poetry.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو «اللہ اکبر» کہتے، پھر «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» ”اے اللہ! پاک ہے تو ہر عیب اور ہر نقص سے، سب تعریفیں تیرے لیے ہیں، بابرکت ہے تیرا نام اور بلند ہے تیری شان، اور تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں“ پڑھتے پھر «الله أكبر كبيرا» ”اللہ بہت بڑا ہے“ کہتے پھر «أعوذ بالله السميع العليم من الشيطان الرجيم من همزه ونفخه ونفثه» ”میں اللہ سمیع و علیم کی شیطان مردود سے، پناہ چاہتا ہوں، اس کے وسوسوں سے، اس کے کبر و نخوت سے اور اس کے اشعار اور جادو سے“ کہتے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی، عائشہ، عبداللہ بن مسعود، جابر، جبیر بن مطعم اور ابن عمر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- اس باب میں ابوسعید کی حدیث سب سے زیادہ مشہور ہے، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے اسی حدیث کو اختیار کیا ہے، رہے اکثر اہل علم تو ان لوگوں نے وہی کہا ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ «سبحانك اللهم وبحمدك وتبارك اسمك وتعالى جدك ولا إله غيرك» کہتے تھے ۲؎ اور اسی طرح عمر بن خطاب اور عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما سے مروی ہے۔ تابعین وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ ۴- ابوسعید رضی الله عنہ کی حدیث کی سند میں کلام کیا گیا ہے۔ یحییٰ بن سعید راوی حدیث علی بن علی رفاعی کے بارے میں کلام کرتے تھے۔ اور احمد کہتے تھے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔