Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن خیر (کی باتیں) سن سن کر سیر نہیں ہوتا حتیٰ کہ اس کی غایت و انتہا جنت ہو جاتی ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۶۸۶) ابن حبان (۲۳۸۵) و الحاکم (۴/ ۱۳۰) ۔
The Prophet said: "Give glad tiding to those who walk to the Masajid in the dark; of a complete light on the Day of Resurrection."
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھیرے میں چل کر مسجد آنے والوں کو قیامت کے دن کامل نور ( بھرپور اجالے ) کی بشارت دے دو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص سے علم کی کوئی بات پوچھی جائے ، جسے وہ جانتا ہو ، پھر وہ اسے چھپائے تو روز قیامت اسے آگ کی لگام ڈالی جائے گی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲/ ۲۶۳ ح ۷۵۶۱ ، ۲/ ۳۰۵ ح ۸۰۳۵) و ابوداود (۳۶۵۸) و الترمذی (۲۶۴۹) و ابن ماجہ ۲۶۱) ۔
Allah's Messenger said: "The best rows for the men are the first of them, and the worst are the last of them. And the best rows for the women are the last of them, and the worst are the first of them."
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی سب سے بہتر صف پہلی صف ہے ۱؎ اور سب سے بری آخری صف اور عورتوں کی سب سے بہتر صف آخری صف ۲؎ ہے اور سب سے بری پہلی صف“ ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر، ابن عباس، ابوسعید، ابی بن کعب، عائشہ، عرباض بن ساریہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ پہلی صف والوں کے لیے تین بار استغفار کرتے تھے اور دوسری کے لیے ایک بار۔
Narrator not mentioned: And the Prophet said: If the people knew what (reward) is in the call (Adhan) and the first row, and they found no other way to get that except drawing lots, then they would draw lots.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ اذان اور پہلی صف میں کیا ثواب ہے، اور وہ اسے قرعہ اندازی کے بغیر نہ پا سکتے تو اس کے لیے قرعہ اندازی کرتے“۔
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص علما سے مناظرہ کرنے ، نادانوں کو شبہات میں مبتلا کرنے اور لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے علم حاصل کرتا ہے تو اللہ اسے جہنم میں داخل فرمائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی (۲۶۵۴) ۔
An-Nu'man bin Bashir said: Allah's Messenger would straighten our lines. One day he came out and saw a man whose chest was protruding from the people, so he said: 'You must straighten your lines, or Allah will cause disagreement to occur among your faces.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری صفیں سیدھی کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپ نکلے تو دیکھا کہ ایک شخص کا سینہ لوگوں سے آگے نکلا ہوا ہے، آپ نے فرمایا: ”تم اپنی صفیں سیدھی رکھو ۱؎ اور نہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف پیدا فرما دے گا“ ۲؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں جابر بن سمرہ، براء، جابر بن عبداللہ، انس، ابوہریرہ اور عائشہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: صفیں سیدھی کرنا نماز کی تکمیل ہے، ۴- عمر رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ وہ صفیں سیدھی کرنے کا کام کچھ لوگوں کے سپرد کر دیتے تھے تو مؤذن اس وقت تک اقامت نہیں کہتا جب تک اسے یہ نہ بتا دیا جاتا کہ صفیں سیدھی ہو چکی ہیں، ۵- علی اور عثمان رضی الله عنہما سے بھی مروی ہے کہ یہ دونوں بھی اس کی پابندی کرتے تھے اور کہتے تھے: «استووا» ”صف میں سیدھے ہو جاؤ“ اور علی رضی الله عنہ کہتے تھے: فلاں! آگے بڑھو، فلاں! پیچھے ہٹو۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ایسا علم ، جس کے ذریعے اللہ کی رضا مندی حاصل کی جاتی ہے ، محض دنیا کا مال و متاع حاصل کرنے کے لیے سیکھتا ہے تو وہ روز قیامت جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۲/ ۳۳۸ ح ۸۴۳۹) و ابوداود (۳۶۶۴) و ابن ماجہ (۲۵۲) و ابن حبان (۸۹) و الحاکم (۱/ ۸۵) ۔
Abdullah (Ibn Masud) narrated that : the Prophet said: Let those among you with understanding and reason be close to me, then those after them, then those after them. And do not separate or dissention will occur among your hearts, and beware of the commotion of the markets.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جو صاحب فہم و ذکا اور سمجھدار ہوں ان کو مجھ سے قریب رہنا چاہیئے، پھر وہ جو ( عقل و دانش میں ) ان کے قریب ہوں، پھر وہ جو ان کے قریب ہوں، تم آگے پیچھے نہ ہونا کہ تمہارے دلوں میں پھوٹ پڑ جائے گی، اور اپنے آپ کو بازار کے شور و غوغا سے بچائے رکھنا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- اس باب میں ابی بن کعب، ابومسعود، ابوسعید، براء، اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ اس بات سے خوش ہوتے کہ مہاجرین اور انصار آپس میں قریب قریب رہیں تاکہ وہ آپ سے ( سیکھے ہوئے مسائل ) محفوظ رکھ سکیں۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے میری حدیث کو سنا ، اسے یاد کیا ، اس کی حفاظت کی اور پھر اسے آگے بیان کیا ، بسا اوقات اہل علم فقیہ نہیں ہوتے ، اور بسا اوقات فقیہ اپنے سے زیادہ فقیہ تک بات پہنچا دیتا ہے ، تین خصلتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا : عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو ، مسلمانوں کے لیے خیر خواہی ہو ، اور ان کی جماعت کے ساتھ لگے رہنا ، کیونکہ ان کی دعوت انہیں سب طرف سے گھیر لے گی (حفاظت کرے گی) ۔‘‘ صحیح ، رواہ الشافعی (فی الرسالۃ ص ۴۰۱ فقرہ : ۱۱۰۲ ص ۴۲۳) و البیھقی فی شعب الایمان (۱۷۳۸) و الترمذی (۲۶۵۸) و احمد (۱/ ۴۳۶) ۔
Abdul-Hamid bin Mahmud said: We prayed behind one of the Amirs, the people compelled us such that we prayed between two columns. When we had prayed, Anas bin Malik said: 'We would be prevented from this during the time of Allah's Messenger.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ہم نے امراء میں سے ایک امیر کے پیچھے نماز پڑھی، لوگوں نے ہمیں دو ستونوں کے درمیان نماز پڑھنے پر مجبور کر دیا ۱؎ جب ہم نماز پڑھ چکے تو انس بن مالک رضی الله عنہ نے کہا: ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اس سے بچتے تھے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- انس رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں قرۃ بن ایاس مزنی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۳- علماء میں سے کچھ لوگوں نے ستونوں کے درمیان صف لگانے کو مکروہ جانا ہے۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، اور علماء کچھ نے اس کی اجازت دی ہے ۲؎۔
احمد ، ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ اور دارمی نے زید بن ثابت ؓ سے روایت کیا ہے ، البتہ ترمذی اور ابوداؤد نے ((ثلاث لا یغل علیھن ،،،،،)) سے آخر تک ذکر نہیں کیا ۔ صحیح ، رواہ احمد (۵/ ۱۸۳ ح ۲۱۹۲۴) و الترمذی (۲۶۵۶) و ابوداود (۳۶۶۰) و ابن ماجہ (۲۳۰) و الدارمی (۱/ ۷۵ ح ۲۳۵) و ابن حبان ۷۲ ، ۷۳) ۔
Hilal bin Yasar said: Ziyad bin Abi Al-Ja'd took me by the hand while we were in Ar Raqqah, he made me stand before a Shaikh who was called Wabisah bin Ma'bad, from Bani Asad. Ziyad said: 'This Shaikh narrated to me that a prayed alone behind the row' - and the Shaikh was listening - 'so Allah's Messenger ordered him to repeat the Salat.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
زیاد بن ابی الجعد نے میرا ہاتھ پکڑا، ( ہم لوگ رقہ میں تھے ) پھر انہوں نے مجھے لے جا کر بنی اسد کے وابصہ بن معبد نامی ایک شیخ کے پاس کھڑا کیا اور کہا: مجھ سے اس شیخ نے بیان کیا اور شیخ ان کی بات سن رہے تھے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے صلاۃ دہرانے کا حکم دیا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وابصہ بن معبد رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں علی بن شیبان اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے مکروہ سمجھا ہے کہ آدمی صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے اور کہا ہے کہ اگر اس نے صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھی ہے تو وہ نماز دہرائے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں، ۴- اہل علم میں سے بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اسے کافی ہو گا جب وہ صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، سفیان ثوری، ابن مبارک اور شافعی کا بھی یہی قول ہے، ۵- اہل کوفہ میں سے کچھ لوگ وابصہ بن معبد کی حدیث کی طرف گئے ہیں، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جو صف کے پیچھے تنہا نماز پڑھے، وہ اسے دہرائے۔ انہیں میں سے حماد بن ابی سلیمان، ابن ابی لیلیٰ اور وکیع ہیں، ۶- مولف نے اس حدیث کے طرق کے ذکر کے بعد فرمایا کہ عمرو بن مرہ کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن عمرو بن راشد، عن وابصة» روایت کی ہے، زیادہ صحیح ہے، اور بعض نے کہا ہے کہ حصین کی حدیث جسے انہوں نے بطریق «هلال بن يساف، عن زياد بن أبي الجعد عن وابصة» روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے۔ اور میرے نزدیک یہ عمرو بن مرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، اس لیے کہ یہ ہلال بن یساف کے علاوہ طریق سے بھی زیاد بن ابی الجعد کے واسطے سے وابصہ سے مروی ہے۔
ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ اس شخص کے چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے ہم سے کوئی ایسی چیز سنی ، تو اس نے جیسے اسے سنا تھا ویسے ہی اسے آگے پہنچا دیا ، کیونکہ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جاتی ہے وہ اس کی ، اس سننے والے کی نسبت زیادہ حفاظت کرنے والا ہوتا ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی (۲۶۵۷) و ابن ماجہ (۲۳۲) و ابن حبان (۷۴ ۔ ۷۶) ۔
Wabisah bin Ma'bad narrated: A man prayed alone behind the row s the Prophet ordered him to repeat the Salat.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
وابصہ بن معبد رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نماز دہرانے کا حکم دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: وکیع کہتے ہیں کہ جب آدمی صف کے پیچھے اکیلے نماز پڑھے تو وہ نماز کو دہرائے ( اس کی نماز نہیں ہوئی ) ۔
Ibn Abbas narrated: I prayed with the Prophet one night. I stood at his left, so Allah's Messenger took me by my head, from behind me, to put me on his right (side).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، میں جا کر آپ کے بائیں جانب کھڑا ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیچھے سے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کر لیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں انس رضی الله عنہ سے بھی حدیث آئی ہے، ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد والے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ جب ایک آدمی امام کے ساتھ ہو تو وہ امام کے دائیں جانب کھڑا ہو۔