Ahadees Module

Search Ahadees by Book, Topic, and Translation

خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ

Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.

40,465 records

Sahih MuslimThe Book of Faith • Hadith 527

Hadith Record

Sahih

Narrator: Husain bin 'Abd al-Rahman reported:

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ: أَيُّكُمْ رَأَى الْكَوْكَبَ الَّذِي انْقَضَّ الْبَارِحَةَ؟ قُلْتُ: أَنَا، ثُمَّ قُلْتُ: أَمَا إِنِّي لَمْ أَكُنْ فِي صَلَاةٍ، وَلَكِنِّي لُدِغْتُ، قَالَ: فَمَاذَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: اسْتَرْقَيْتُ، قَالَ: فَمَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ قُلْتُ: حَدِيثٌ حَدَّثَنَاهُ الشَّعْبِيُّ فَقَالَ: وَمَا حَدَّثَكُمُ الشَّعْبِيُّ؟ قُلْتُ: حَدَّثَنَا عَنْ بُرَيْدَةَ بْنِ حُصَيْبٍ الْأَسْلَمِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: لَا رُقْيَةَ إِلَّا مِنْ عَيْنٍ، أَوْ حُمَةٍ، فَقَالَ: قَدْ أَحْسَنَ مَنِ انْتَهَى إِلَى مَا سَمِعَ، وَلَكِنْ حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ، فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الرُّهَيْطُ، وَالنَّبِيَّ وَمَعَهُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ، وَالنَّبِيَّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، إِذْ رُفِعَ لِي سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ أُمَّتِي، فَقِيلَ لِي: هَذَا مُوسَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَوْمُهُ، وَلَكِنْ انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: انْظُرْ إِلَى الْأُفُقِ الْآخَرِ، فَإِذَا سَوَادٌ عَظِيمٌ، فَقِيلَ لِي: هَذِهِ أُمَّتُكَ وَمَعَهُمْ سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ ، ثُمَّ نَهَضَ فَدَخَلَ مَنْزِلَهُ فَخَاضَ النَّاسُ فِي أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ صَحِبُوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: فَلَعَلَّهُمُ الَّذِينَ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ وَلَمْ يُشْرِكُوا بِاللهِ، وَذَكَرُوا أَشْيَاءَ فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا الَّذِي تَخُوضُونَ فِيهِ؟» فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: «هُمُ الَّذِينَ لَا يَرْقُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ»، فَقَامَ عُكَّاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «أَنْتَ مِنْهُمْ؟» ثُمَّ قَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: ادْعُ اللهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: «سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ»،

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

I was with Sa'id bin Jubair when he said: Who amongst you saw a star shooting last night? I said: It was I; then I said: I was in fact not (busy) in prayer, but was stung by a scorpion (and that is the reason why I was awake and had a glimpse of the shooting star). He said: Then what did you do? I said: I practised charm. He said: What urged you to do this? I said: (I did this according to the implied suggestion) of the hadith which al-Shu'ba narrated. He said: What did al-Shu'ba narrate to you? I said: Buraida bin Husaib al-Aslami رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌narrated to us. The charm is of no avail except in case of the (evil influence) of an eye or the sting of a scorpion. He said: He who acted according to what he had heard (from the Holy Prophet) acted rightly, but Ibn 'Abbas رضی ‌اللہ ‌عنہ narrated to us from the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he said: There were brought before me the peoples and I saw an apostle and a small group (of his followers) along with him, another (apostle) and one or two persons (along with him) and (still another) apostle having no one with him. When a very large group was brought to me I conceived as if it were my Ummah. Then it was said to me: It is Moses and his people. You should look at the horizon, and I saw a very huge group. It was again said to me: See the other side of the horizon, and there was (also) a very huge group. It was said to me: This is your Ummah, and amongst them there were seventy thousand persons who would be made to enter Paradise without rendering any account and without (suffering) any torment. He then stood up and went to his house. Then the people began to talk about the people who would be admitted to Paradise without rendering any account and without (suffering) any torment. Some of them said: They may be those who (have had the good fortune of living) in the company of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and some of them said: They be those who were born in Islam and did not associate anything with Allah. Some people mentioned other things. Thereupon came forth the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) before them and he said: What was that which you were talking about? They informed him. He said: They are those persons who neither practise charm, nor ask others to practise it, nor do they take omens, and repose their trust in their Lord. Upon this 'Ukkasha bin Mihsan رضی ‌اللہ ‌عنہ stood up and said: Supplicate for me that He should make me one among them. Upon this he (Messenger of Allah) said: Thou are one among them. Then another man stood up and said: Supplicate before Allah that He should make me one among them. Upon this he said: 'Ukkisha has preceded you.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

میں سعید بن جبیر کے پاس موجود تھا ، انہوں نے پوچھا : تم میں سے وہ ستارا کس نے دیکھا تھا جو کل رات ٹوٹا تھا ۔ میں نے کہا : میں نے ، پھر میں نے کہا کہ میں نماز میں نہیں تھا بلکہ مجھے ڈس لیا گیا تھا ( کسی موذی جانور نے ڈس لیا تھا ۔ ) انہوں نے پوچھا : پھر تم نے کیا کیا؟ میں نے کہا : میں نے دم کروایا ۔ انہوں نےکہا : تمہیں کس چیز نےاس پر آمادہ کیا ؟ میں نے جواب دیا : اس حدیث نے جو ہمیں شعبی نے سنائی ۔ انہوں نے پوچھا : شعبی نے تمہیں کون سی حدیث سنائی؟ میں نے کہا : انہوں ( شعبی ) نےہمیں بریدہ بن حصیب اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت سنائی ، انہوں نے بتایا کہ نظر بد لگنے اور زہریلی چیز کےڈسنے کے علاوہ اور کسی چیز کے لیے جھاڑ پھونک نہیں ۔ تو سعید نے کہا : جس نے سنا ، اسے اختیار کیا تو اچھا کیا ۔ لیکن ہمیں عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نبی اکرم ﷺ سے حدیث سنائی کہ آپ نے فرمایا : ’’میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں ، میں نے ایک نبی کو دیکھا ، ان کے ساتھ ایک چھوٹا سا ( دس سے کم کا ) گروہ تھا ، کسی ( اور ) نبی کو دیکھا کہ اس کےساتھ ایک یا دو امتی تھے ، کوئی نبی ایسا بھی تھا کہ اس کے ساتھ کوئی امتی نہ تھا ، اچانک ایک بڑی جماعت میرے سامنے لائی گئی ، مجھے گمان ہوا کہ یہ میرے امتی ہیں ، اس پر مجھ سے کہا گیا کہ یہ موسیٰ ‌علیہ ‌السلام ‌ اور ان کی قوم ہے لیکن آپ افق کی طرف دیکھیں ، میں نے دیکھا تو ( وہاں بھی ) ایک بہت بڑی جماعت تھی ، مجھے بتایا گیا : یہ آپ کی امت ہے ۔ اور ان کےساتھ ایسے ستر ہزار ( لوگ ) ہیں جو کسی حساب کتاب اور کسی عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔ ‘ ‘ پھر آپ اٹھے اور ا پنے گھر کے اندر چلے گئے ، وہ ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) ان لوگوں کے بارے میں گفتگو میں مصروف ہو گئے ، جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے ۔ ان میں سے بعض نے کہا : شاید وہ لوگ ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ کی صحبت کا شرف حاصل ہے ۔ بعض نے کہا : شاید یہ لوگ وہ ہوں گے جو اسلامی دور میں پیدا ہوئے اور ( ایک لمحہ بھی ) اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک نہیں کیا اور انہوں نے بعض دوسری باتوں کا بھی تذکرہ کیا پھر ( کچھ دیربعد ) رسول اللہ ﷺ ( گھر سے ) نکل کر ان کے پاس تشریف لائے اور پوچھا : ’’ تو کن باتوں میں لگے ہوئے ہو ؟ ‘ ‘ انہوں نے آپ کو وہ باتیں بتائیں ، اس پر آپ نے فرمایا : ’’وہ ایسے لوگ ہیں جو نہ دم کرتے ہیں ، نہ دم کرواتے ہیں ، نہ شگون لیتے ہیں اور وہ اپنے رب پر پوراتوکل کرتے ہیں ۔ ‘ ‘ اس پر عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کھڑے ہوئےاور عرض کی : اللہ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے بھی ان لوگوں میں ( شامل ) کر دے تو آپ نے فرمایا : ’’ تو ان میں سے ہے ۔ ‘ ‘ پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا : دعا فرمائیے ! اللہ مجھے ( بھی ) ان میں سے کردے تو آپ نے فرمایا : ’’عکاشہ اس ( فرمائش ) کے ذریعے سے تم سے سبقت لے گئے ۔ ‘ ‘

Sahih MuslimThe Book of Faith • Hadith 528

Clarifying that this ummah will form half of the People of Paradise

Sahih

Narrator: Ibn 'Abbas رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌reported:

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ»، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ نَحْوَ حَدِيثِ هُشَيْمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ حَدِيثِهِ.

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: Peoples would be presented to me (on the Day of Resurrection), and then the remaining part of the hadith was narrated like the one transmitted by Hushaim, but he made no mention of the first portion.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرےسامنے تمام امتیں پیش کی گئیں ..... ‘ ‘ پھر حدیث کا باقی حصہ ہشیم کی طرح بیان کیا اور ابتدائی حصے ( حصین کےواقعے ) کا ذکر نہیں کیا ۔

Sahih MuslimThe Book of Faith • Hadith 529

Hadith Record

Sahih

Narrator: Abdullah bin Mas'ud reported:

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَسَأُخْبِرُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، مَا الْمُسْلِمُونَ فِي الْكُفَّارِ إِلَّا كَشَعْرَةٍ بَيْضَاءَ فِي ثَوْرٍ أَسْوَدَ، أَوْ كَشَعْرَةٍ سَوْدَاءَ فِي ثَوْرٍ أَبْيَضَ».

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) addressing us said: Aren't you pleased that you should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: We glorified (our Lord, i. e. we called aloud Allah-o Akbar, Allah is the Greatest). He, then, again said: Aren't you pleased that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: We glorified (our Lord) and he (the Holy Prophet) then again said: I hope that you would constitute half of the inhabitants of Paradise and I shall explain to you its (reason). The believers among the unbelievers would not be more than a white hair on (the body of a) black ox or a black hair on (the body of a) white ox.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

رسول اللہ ﷺ نےہم سے فرمایا : ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم اہل جنت کا چوتھا حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نے ( خوشی ) اللہ اکبر کہا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم اس پر راضی نہ ہوگے کہ تم اہل جنت کا تہائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ کہا کہ ہم نے ( دوبارہ ) نعرہ تکبیر بلند کیا ، پھر آپ نے فرمایا : ’’میں امید کرتا ہوں کہ تم اہل جنت کانصف ہو گے اور ( یہ کیسے ہو گا؟ ) میں اس کے بارے میں ابھی بتاؤں گا ۔ کافروں ( کے مقابلے ) میں مسلمان اس سے زیادہ نہیں جتنے سیاہ رنگ کے بیل میں ایک سفید بال یا سفید رنگ کے بیل میں ایک

Sahih MuslimThe Book of Faith • Hadith 530

Hadith Record

Sahih

Narrator: Abdullah (bin Mas'ud) reported:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ رَجُلًا، فَقَالَ: «أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: «أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ».

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

We, about forty men, were with the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in a camp when he said: Aren't you pleased that they should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? He (the narrator) said: Yes. He (the Holy Prophet) again said: Aren't you pleased that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? They said: Yes. Upon this he again said: By Him in Whose Hand is my life, I hope that you would constitute one-half of the inhabitants of Paradise and the reason is that no one would be admitted into Paradise but a believer and you are no more among the polytheists than as a white hair on the skin of a black ox or a black hair on the skin of a red ox.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

ہم تقریباً چالیس افراد ایک خیمے میں رسو ل اللہ ﷺ کے ساتھ تھے کہ آپ نے فرمایا : ’’ کیا تم اس بات پر راضی ہو گے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’کیا تم اس پر راضی ہو جاؤ گے کہ تم اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : ہاں ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت میں سے آدھے ہو گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جنت میں اس انسان کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا جس نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیا ۔ اور مشرکوں میں تمہاری تعداد ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی جلد پر ایک سفید بال یا سرخ بیل کی جلد پر ایک سیاہ بال ۔ ‘ ‘

Sahih MuslimThe Book of Faith • Hadith 531

Hadith Record

Sahih

Narrator: Abdullah bin Mas'ud ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌reported:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَهُوَ ابْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْنَدَ ظَهْرَهُ إِلَى قُبَّةِ أَدَمٍ، فَقَالَ: «أَلَا لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟ اللهُمَّ اشْهَدْ، أَتُحِبُّونَ أَنَّكُمْ رُبُعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» فَقُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ: «أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟» قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، مَا أَنْتُمْ فِي سِوَاكُمْ مِنَ الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ، أَوْ كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ».

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) addressed us and then supported his back (by reclining) against a leather tent and said: Behold, no one but a believing person would enter Paradise. O Allah, (see) have I conveyed (it not)? 0 Allah, be witness (to it that I have conveyed it). (Then addressing the companions) he said: Don't you like that you should constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise? We said: Yes, Messenger of Allah. He again said: Don't you like that you should constitute one-third of the inhabitants of Paradise? They said: Yes, Messenger of Allah. He said: I hope that you would constitute one- half of the inhabitants of Paradise and you would be among the peoples of the world, like a black hair on (the body of) a white ox or like a white hair on the body of a black ox.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطاب کیا آپ نے چمڑے کے ایک خیمے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور فرمایا : ’’یاد رکھو ! جنت میں اسلام لانے والی روح کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا ۔ اے اللہ ! کیا میں نے پیغام پہنچا دیا؟ اے اللہ ! تو گواہ رہنا ۔ کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ ہم نےکہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول !آپ نے فرمایا : ’’کیا تم پسند کرتے ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو ؟ ‘ ‘ صحابہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے ، دوسری امتوں میں تم ( اس سے زیادہ ) نہیں ہو مگر ( ایسے ) جس طرح ایک سیاہ بال جو سفید رنگ کے بیل پر ہو یا ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہو ۔ ‘ ‘

Narrator: Abu Sa'id ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌reported:

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ الْعَبْسِيُّ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا آدَمُ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، قَالَ يَقُولُ: أَخْرِجْ بَعْثَ النَّارِ قَالَ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ قَالَ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ قَالَ: فَذَاكَ حِينَ يَشِيبُ الصَّغِيرُ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللهِ شَدِيدٌ قَالَ: فَاشْتَدَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ أَيُّنَا ذَلِكَ الرَّجُلُ؟ فَقَالَ: «أَبْشِرُوا فَإِنَّ مِنْ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ أَلْفًا، وَمِنْكُمْ رَجُلٌ» قَالَ: ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَحَمِدْنَا اللهَ وَكَبَّرْنَا. ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ» فَحَمِدْنَا اللهَ وَكَبَّرْنَا. ثُمَّ قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَطْمَعُ أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنَّ مَثَلَكُمْ فِي الْأُمَمِ كَمَثَلِ الشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ».

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah, the High and Glorious, would say: O Adam I and he would say: At Thy service, at thy beck and call, O Lord, and the good is in Thy Hand. Allah would say: Bring forth the group of (the denizens of) Fire. He (Adam) would say: Who are the denizens of Hell? It would be said: They are out of every thousand nine hundred and ninety-nine. He (the Holy Prophet) said: It is at this juncture that every child would become white-haired and every pregnant woman would abort and you would see people in a state of intoxication, and they would not be in fact intoxicated but grievous will be the torment of Allah. He (the narrator) said: This had a very depressing effect upon them (upon the companions of the Holy Prophet) and they said: Messenger of Allah, who amongst us would be (that unfortunate) person (who would be doomed to Hell)? He said: Good tidings for you, Yajuj Majuj would be those thousands (who would be the denizens of Hell) and a person (selected for Paradise) would be amongst you. He (the narrator) further reported that he (the Messenger of Allah) again said: By Him in Whose Hand is thy life, I hope that you would constitute one-fourth of the inhabitants of Paradise. We extolled Allah and we glorified (Him). He (the Holy Prophet) again said: BY Him in Whose Hand is my life, I wish you would constitute one-third of the inhabitants of Paradise. We extolled Allah and Glorified (Him). He (the Holy Prophet) again said: By Him in Whose Hand is my life, I hope that you would constitute half of the inhabitants of Paradise. Your likeness among the people is the likeness of a white hair on the skin of a black ox or a strip on the foreleg of an ass.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ عز وجل فرمائے گا : اے آدم ! وہ کہیں گے : میں حاضر ہوں ( میرے رب! ) قسمت کی خوبی ( تیری عطا ہے ) اور ساری خیر تیرے ہاتھ میں ہے ! کہا : اللہ فرمائے گا : دوزخیوں کی جماعت کو الگ کر دو ۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے : دوزخیوں کی جماعت ( تعداد میں ) کیا ہے ؟ اللہ فرمائے گا : ہر ہزار میں سے نوسو ننانوے ۔ یہ وقت ہو گا جب بچے بوڑھے ہو جائیں گے ۔ ہر حاملہ اپنا حمل گرا دے گی اور تم لوگوں کو مدہوش کی طرح دیکھو گے ، حالانکہ وہ ( نشےمیں ) مدہوش نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب ہی بہت سخت ہو گا ۔ ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا کہ یہ بات ان ( صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) پر حد درجہ گراں گزری ۔ انہوں نے پوچھا ‎ : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے وہ ( ایک ) آدمی کون ہے ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’خوش ہو جاؤ ، ہزار یا جوج ماجوج میں سے ہیں اور ایک تم میں سے ہے ، ( ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا چوتھائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نےاللہ تعالیٰ کی حمد کی او رتکبیر کہی ( اللہ اکبرکہا ۔ ) ، پھر آپ نے فرمایا : ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا تہائی ( حصہ ) ہو گے ۔ ‘ ‘ ہم نے اللہ کی حمد کی اور تکبیر کہی ، پھر فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ تم اہل جنت کا آدھا حصہ ہو گے ۔ ( دوسری ) امتوں کے مقابلے میں تمہاری مثال اس سفید بال کی سی ہے جو سیاہ بیل کی جلدپر ہوتا ہے یا اس چھوٹے سے نشان کی سی ہے جو گدھے کے اگلے پاؤں پر ہوتا ہے ۔ ‘ ‘

Sahih MuslimThe Book of Faith • Hadith 533

Hadith Record

Sahih

Narrator: The same hadith has been narrated from A'mash on the authority of the same chain of transmitters with the exception of these words:

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُمَا قَالَا: مَا أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ أَوْ كَالشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي الثَّوْرِ الْأَبْيَضِ وَلَمْ يَذْكُرَا أَوِ الرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الْحِمَارِ.

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

You would be no more among men (on the Day of Resurrection) but like a white hair on (the body of) a black ox, or like a black hair on (the body of) a white ox, and he made no mention of: a strip on the foreleg of an ass.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

’’اس دن لوگوں میں تم ( اسےسے زیادہ ) نہیں ہو گے مگر ( ایسے ) جس طرح ایک سفید بال جو سیاہ بیل پر ہوتا ہے یا سیاہ بال جو سفید بیل پر ہوتا ہے ۔ ‘ ‘ ان دونوں نے گدھے کے اگلے پاؤں کے نشان کا تذکرہ نہیں کیا ۔

Sunan Ibn MajahThe Book of the Sunnah • Hadith 2193

Hadith Record

Sahih

Narrator: It was narrated from 'Amr bin Shu'aib, from his father, from his grandfather that:

حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ الرُّخَامِيُّ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ كَاتِبُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِيهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ جَدِّهِ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ الْعُرْبَانُ:‏‏‏‏ أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ دَابَّةً بِمِائَةِ دِينَارٍ، ‏‏‏‏‏‏فَيُعْطِيَهُ دِينَارَيْنِ عُرْبُونًا، ‏‏‏‏‏‏فَيَقُولُ:‏‏‏‏ إِنْ لَمْ أَشْتَرِ الدَّابَّةَ فَالدِّينَارَانِ لَكَ، ‏‏‏‏‏‏وَقِيلَ:‏‏‏‏ يَعْنِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ، ‏‏‏‏‏‏أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الشَّيْءَ فَيَدْفَعَ إِلَى الْبَائِعِ دِرْهَمًا، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَقَلَّ، ‏‏‏‏‏‏أَوْ أَكْثَرَ، ‏‏‏‏‏‏وَيَقُولَ:‏‏‏‏ إِنْ أَخَذْتُهُ وَإِلَّا، ‏‏‏‏‏‏فَالدِّرْهَمُ لَكَ.

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Prophet (ﷺ) forbade the deal involving earnest money. (Hasan)Abu 'Abdullah said: Earnest money refers to when a man buys an animal for one hundred Dinar, then he gives the seller two Dinar in advance and says: If I do not buy the animal, then the two Dinar are yours. And it was said that it refers, and Allah knows best, to when a man buys something, and gives the seller a Dirham or less or more, and says: If I take it (all well and good), and if I do not, then the Dirham is yours.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( عربان کی بیع ) سے منع فرمایا ہے۔ ابوعبداللہ ( ابن ماجہ ) کہتے ہیں کہ عربان: یہ ہے کہ آدمی ایک جانور سو دینار میں خریدے، اور بیچنے والے کو اس میں سے دو دینار بطور بیعانہ دیدے، اور کہے: اگر میں نے جانور نہیں لیا تو یہ دونوں دینار تمہارے ہیں۔ بعض لوگوں نے کہا ہے واللہ اعلم: ( عربان یہ ہے کہ ) آدمی ایک چیز خریدے پھر بیچنے والے کو ایک درہم یا زیادہ یا کم دے، اور کہے اگر میں نے یہ چیز لے لی تو بہتر، ورنہ یہ درہم تمہارا ہے۔

Sahih MuslimThe Book of Faith • Hadith 4678

Hadith Record

Sahih

Narrator: It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said:

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ، إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، كِلاَهُمَا عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ - وَهَذَا حَدِيثُهُ - أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ، - وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ - حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ، قَدِمْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لاَ تُرْوِيهَا - قَالَ - فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى جَبَا الرَّكِيَّةِ فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَسَقَ فِيهَا - قَالَ - فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا ‏.‏ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم دَعَانَا لِلْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ ‏.‏ قَالَ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَسَطٍ مِنَ النَّاسِ قَالَ ‏"‏ بَايِعْ يَا سَلَمَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ قَالَ ‏"‏ وَأَيْضًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَزِلاً - يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ سِلاَحٌ - قَالَ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ ‏"‏ أَلاَ تُبَايِعُنِي يَا سَلَمَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ وَفِي أَوْسَطِ النَّاسِ قَالَ ‏"‏ وَأَيْضًا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَبَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ قَالَ لِي ‏"‏ يَا سَلَمَةُ أَيْنَ حَجَفَتُكَ أَوْ دَرَقَتُكَ الَّتِي أَعْطَيْتُكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ عَزِلاً فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا - قَالَ - فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ‏"‏ إِنَّكَ كَالَّذِي قَالَ الأَوَّلُ اللَّهُمَّ أَبْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِنْ نَفْسِي ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّى مَشَى بَعْضُنَا فِي بَعْضٍ وَاصْطَلَحْنَا ‏.‏ قَالَ وَكُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَسْقِي فَرَسَهُ وَأَحُسُّهُ وَأَخْدُمُهُ وَآكُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَكْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَكَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَكَسَحْتُ شَوْكَهَا فَاضْطَجَعْتُ فِي أَصْلِهَا - قَالَ - فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَجَعَلُوا يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَبْغَضْتُهُمْ فَتَحَوَّلْتُ إِلَى شَجَرَةٍ أُخْرَى وَعَلَّقُوا سِلاَحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِي يَا لَلْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ ‏.‏ قَالَ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَى أُولَئِكَ الأَرْبَعَةِ وَهُمْ رُقُودٌ فَأَخَذْتُ سِلاَحَهُمْ ‏.‏ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِي يَدِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لاَ يَرْفَعُ أَحَدٌ مِنْكُمْ رَأْسَهُ إِلاَّ ضَرَبْتُ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاهُ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - وَجَاءَ عَمِّي عَامِرٌ بِرَجُلٍ مِنَ الْعَبَلاَتِ يُقَالُ لَهُ مِكْرَزٌ ‏.‏ يَقُودُهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى فَرَسٍ مُجَفَّفٍ فِي سَبْعِينَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ دَعُوهُمْ يَكُنْ لَهُمْ بَدْءُ الْفُجُورِ وَثِنَاهُ ‏"‏ فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏ وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ‏}‏ الآيَةَ كُلَّهَا ‏.‏ قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلاً بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي لَحْيَانَ جَبَلٌ وَهُمُ الْمُشْرِكُونَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِمَنْ رَقِيَ هَذَا الْجَبَلَ اللَّيْلَةَ كَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابِهِ - قَالَ سَلَمَةُ - فَرَقِيتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاَثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلاَمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَى ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنَّ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَى سَرْحِهِ - قَالَ - ثُمَّ قُمْتُ عَلَى أَكَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلاَثًا يَا صَبَاحَاهْ ‏.‏ ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ أَقُولُ أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمَ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ رَجُلاً مِنْهُمْ فَأَصُكُّ سَهْمًا فِي رَحْلِهِ حَتَّى خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَى كَتِفِهِ - قَالَ - قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَىَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا ثُمَّ رَمَيْتُهُ فَعَقَرْتُ بِهِ حَتَّى إِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِي تَضَايُقِهِ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ - قَالَ - فَمَا زِلْتُ كَذَلِكَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاَثِينَ بُرْدَةً وَثَلاَثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ وَلاَ يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلاَّ جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنَ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ حَتَّى أَتَوْا مُتَضَايِقًا مِنْ ثَنِيَّةٍ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَتَاهُمْ فُلاَنُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَجَلَسُوا يَتَضَحَّوْنَ - يَعْنِي يَتَغَدَّوْنَ - وَجَلَسْتُ عَلَى رَأْسِ قَرْنٍ قَالَ الْفَزَارِيُّ مَا هَذَا الَّذِي أَرَى قَالُوا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ وَاللَّهِ مَا فَارَقَنَا مُنْذُ غَلَسٍ يَرْمِينَا حَتَّى انْتَزَعَ كُلَّ شَىْءٍ فِي أَيْدِينَا ‏.‏ قَالَ فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ أَرْبَعَةٌ ‏.‏ قَالَ فَصَعِدَ إِلَىَّ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فِي الْجَبَلِ - قَالَ - فَلَمَّا أَمْكَنُونِي مِنَ الْكَلاَمِ - قَالَ - قُلْتُ هَلْ تَعْرِفُونِي قَالُوا لاَ وَمَنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ أَنَا سَلَمَةُ بْنُ الأَكْوَعِ وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لاَ أَطْلُبُ رَجُلاً مِنْكُمْ إِلاَّ أَدْرَكْتُهُ وَلاَ يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ ‏.‏ فَيُدْرِكَنِي قَالَ أَحَدُهُمْ أَنَا أَظُنُّ ‏.‏ قَالَ فَرَجَعُوا فَمَا بَرِحْتُ مَكَانِي حَتَّى رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ - قَالَ - فَإِذَا أَوَّلُهُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِيُّ عَلَى إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الأَنْصَارِيُّ وَعَلَى إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ - قَالَ - فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ الأَخْرَمِ - قَالَ - فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ قُلْتُ يَا أَخْرَمُ احْذَرْهُمْ لاَ يَقْتَطِعُوكَ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ ‏.‏ قَالَ يَا سَلَمَةُ إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلاَ تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ ‏.‏ قَالَ فَخَلَّيْتُهُ فَالْتَقَى هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ - قَالَ - فَعَقَرَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ وَتَحَوَّلَ عَلَى فَرَسِهِ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ فَوَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لَتَبِعْتُهُمْ أَعْدُو عَلَى رِجْلَىَّ حَتَّى مَا أَرَى وَرَائِي مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم وَلاَ غُبَارِهِمْ شَيْئًا حَتَّى يَعْدِلُوا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ ذُو قَرَدٍ لِيَشْرَبُوا مِنْهُ وَهُمْ عِطَاشٌ - قَالَ - فَنَظَرُوا إِلَىَّ أَعْدُو وَرَاءَهُمْ فَحَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ - يَعْنِي أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ - فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً - قَالَ - وَيَخْرُجُونَ فَيَشْتَدُّونَ فِي ثَنِيَّةٍ - قَالَ - فَأَعْدُو فَأَلْحَقُ رَجُلاً مِنْهُمْ فَأَصُكُّهُ بِسَهْمٍ فِي نُغْضِ كَتِفِهِ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمَ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ يَا ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ أَكْوَعُهُ بُكْرَةَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَكْوَعُكَ بُكْرَةَ - قَالَ - وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَى ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم - قَالَ - وَلَحِقَنِي عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا مَذْقَةٌ مِنْ لَبَنٍ وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَاءٌ فَتَوَضَّأْتُ وَشَرِبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي حَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَدْ أَخَذَ تِلْكَ الإِبِلَ وَكُلَّ شَىْءٍ اسْتَنْقَذْتُهُ مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَكُلَّ رُمْحٍ وَبُرْدَةٍ وَإِذَا بِلاَلٌ نَحَرَ نَاقَةً مِنَ الإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذْتُ مِنَ الْقَوْمِ وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا - قَالَ - قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلِّنِي فَأَنْتَخِبُ مِنَ الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ فَلاَ يَبْقَى مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلاَّ قَتَلْتُهُ - قَالَ - فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فِي ضَوْءِ النَّارِ فَقَالَ ‏"‏ يَا سَلَمَةُ أَتُرَاكَ كُنْتَ فَاعِلاً ‏"‏ ‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ وَالَّذِي أَكْرَمَكَ ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ إِنَّهُمُ الآنَ لَيُقْرَوْنَ فِي أَرْضِ غَطَفَانَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ نَحَرَ لَهُمْ فُلاَنٌ جَزُورًا فَلَمَّا كَشَفُوا جِلْدَهَا رَأَوْا غُبَارًا فَقَالُوا أَتَاكُمُ الْقَوْمُ فَخَرَجُوا هَارِبِينَ ‏.‏ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ كَانَ خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرَ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سَهْمَيْنِ سَهْمُ الْفَارِسِ وَسَهْمُ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا لِي جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ - قَالَ - فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ قَالَ وَكَانَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ لاَ يُسْبَقُ شَدًّا - قَالَ - فَجَعَلَ يَقُولُ أَلاَ مُسَابِقٌ إِلَى الْمَدِينَةِ هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِكَ - قَالَ - فَلَمَّا سَمِعْتُ كَلاَمَهُ قُلْتُ أَمَا تُكْرِمُ كَرِيمًا وَلاَ تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لاَ إِلاَّ أَنْ يَكُونَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي ذَرْنِي فَلأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ ‏"‏ إِنْ شِئْتَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ اذْهَبْ إِلَيْكَ وَثَنَيْتُ رِجْلَىَّ فَطَفَرْتُ فَعَدَوْتُ - قَالَ - فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِي نَفَسِي ثُمَّ عَدَوْتُ فِي إِثْرِهِ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ثُمَّ إِنِّي رَفَعْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ - قَالَ - فَأَصُكُّهُ بَيْنَ كَتِفَيْهِ - قَالَ - قُلْتُ قَدْ سُبِقْتَ وَاللَّهِ قَالَ أَنَا أَظُنُّ ‏.‏ قَالَ فَسَبَقْتُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْنَا إِلاَّ ثَلاَثَ لَيَالٍ حَتَّى خَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ فَجَعَلَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ تَاللَّهِ لَوْلاَ اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلاَ تَصَدَّقْنَا وَلاَ صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِكَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتِ الأَقْدَامَ إِنْ لاَقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏ ‏.‏ قَالَ أَنَا عَامِرٌ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ غَفَرَ لَكَ رَبُّكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لإِنْسَانٍ يَخُصُّهُ إِلاَّ اسْتُشْهِدَ ‏.‏ قَالَ فَنَادَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلاَ مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ ‏.‏ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ قَالَ خَرَجَ مَلِكُهُمْ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَيَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ وَبَرَزَ لَهُ عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرٌ شَاكِي السِّلاَحِ بَطَلٌ مُغَامِرٌ قَالَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْفُلُ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَى نَفْسِهِ فَقَطَعَ أَكْحَلَهُ فَكَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ ‏.‏ قَالَ سَلَمَةُ فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُونَ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَأَنَا أَبْكِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ قَالَ ذَلِكَ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ قُلْتُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ ‏.‏ قَالَ ‏"‏ كَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِكَ بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ‏"‏ ‏.‏ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَى عَلِيٍّ وَهُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ ‏"‏ لأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلاً يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ‏"‏ ‏.‏ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّى أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَبَسَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاكِي السِّلاَحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ كَلَيْثِ غَابَاتٍ كَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ كَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ثُمَّ كَانَ الْفَتْحُ عَلَى يَدَيْهِ ‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (ﷺ) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (ﷺ) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (ﷺ) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, he said to me: You take the vow, Salama. I said: I was one of those who took the vow in the first instance. He said: (You may do) again. Then the Messenger. of Allah (ﷺ) saw that I was without weapons. He gave me a big or a small shield. Then he continued to administer vows to the people until it was the last batch of them. He said (to me): Won't you swear allegiance, Salama? I said: Messenger of Allah, I took the oath with the first batch of the people and then again when you were in the middle of the people. He said: (Doesn't matter), you may (do so) again. So I took the oath of allegiance thrice. Then he said to me: Salama, where is the shield which I gave to thee? I said: Messenger of Allah, my uncle 'Amir met me and he was without any weapons. So I gave the shield to him. The Messenger of Allah (ﷺ) laughed and said: You are like a person of the days gone by who said: O God. I seek a friend who is dearer to me than myself. (When all Companions had sworn allegiance to the Holy Prophet), the polytheists sent messages of peace, until people could move from our camp to that of the Meccans and vice versa. Finally, the peace treaty was concluded. I was a dependant of Talha b. Ubaidullah. I watered his horse, rubbed its back. I served Talha (doing odd jobs for him) and partook from his food. I had left my family and my property as an emigrant in the cause of Allah and His Messenger (may peace be uron him). When we and the people of Mecca had concluded a peace treaty and the people of one side began to mix with those of the other, I came to a tree, swept away its thorns and lay down (for rest) at its base; (while I lay there), four of the polytheists from the Meccans came to me and began to talk ill of the Messenger of Allah (ﷺ). I got enraged with them and moved to another tree. They hung their weapons (to the branches of the tree) and lay down (for rest). (While they lay there), somebody from the lower part of the valley cried out: Run up, O Muhajirs! Ibn Zunaim has been murdered. I drew my sword and attacked these four while they were asleep. I seized their arms and collected them up in my hand, and said: By the Being Who has conferred honour upon Muhammad, none of you shall raise his head, else I will smite his face. (Then) I came driving them along to the Prophet (ﷺ). (At the same time). my uncle Amir came (to him) with a man from" Abalat called Mikraz. Amir was dragging him on a horse with a thick covering on its back along with seventy polytheists. The Messenger of Allah (ﷺ) cast a glance at them and said: Let them go (so that) they may prove guilty of breach of trust more than once (before we take action against them). So the Messenger of Allah (ﷺ) forgave them. On this occasion. God revealed the Qur'anic verse:" It is He Who restrained their hands from you and your hands from them in the valley of Mecca after He had granted you a victory over them" (xlviii. 24). Then we moved returning to Medina, and halted at a place where there was a mountain between us and Banu Lihyan who were polytheists. The Messenaer of Allah (ﷺ) asked God's forgiveness for one who ascended the mountain at night to act as a scout for the Messenger of Allah (ﷺ) and his Compinions. I ascended (that mountain) twice or thrice that night. (At last) we reached Medina. The Messenger of Allah (ﷺ) sent his camels with his slave, Rabah, and I was with him. I (also) went to the pasture with the horse of Talha along with the camels. When the day dawned, Abd al-Rahman al-Fazari made a raid and drove away all the camels of the Messenger of Allah (ﷺ), and killed the man who looked after them. I said: Rabah, ride this horse, take it to Talha b. 'Ubaidullah and Inform the Messenger of Allah (ﷺ) that the polytheists have made away with his camels. Then I stood upon a hillock and turning my face to Medina, shouted thrice: Come to our help I Then I set out in pursuit of the raiders, shooting at them with arrows and chanting a (self-eulogatory) verse in the Iambic metre: I am the son of al-Akwa' And today is the day of defeat for the mean. I would overtake a man from them, shoot at him an arrow which, piercing through the saddle, would reach his shoulder. and I would say: Take it, chanting at the same time the verse And I am the son of al-Akwa' And tody is the day of defeat for the mean. By God, I continued shooting at them and hamstringing their animals. Whenever a horseman turned upon me, I would come to a tree and (hid myself) sitting at its base. Then I would shoot at him and hamstring his horse. (At last) they entered a narrow mountain gorge. I ascended that mountain and held them at bay throwing stones at them. I continued to chase them in this way until I got all the camels of the Messenger of Allah (ﷺ) released and no camel was left with them. They left me; then I followed them shooting at them (continually) until they dropped more than thirty mantles and thirty lances. lightening their burden. On everything they dropped, I put a mark with the help of (a piece of) stone so that the Messenger of Allah (ﷺ) and his Companions might recognise them (that it was booty left by the enemy). (They went on) until They came to a narrow valley when so and so, son of Badr al-Fazari joined them. They (now) sat down to take their breakfast and I sat on the top of a tapering rock. Al-Fazari said: Who is that fellow I am seeing? They said: This fellow has harassed us. By God, he has not left us since dusk and has been (continually) shooting at us until he has snatched everything from our hands. He said: Four of you should make a dash at him (and kill him). (Accordingly), four of them ascended the mountain coming towards me. When it became possible for me to talk to them, I said: Do you recognise me? They said: No. Who are thou? I said: I am Salama, son of al-Akwa'. By the Being Who has honoured the countenance of Muhammad (ﷺ) I can kill any of you I like but none of you will be able to kill me. One of them said: I think (he is right). So they returned. I did not move from my place until I saw the horsemen of the Messenger of Allah (ﷺ), who came riding through the trees. Lo! the foremost among them was Akhram al-Asadi. Behind him was Abu Qatada al-Ansari and behind him was al-Miqdad b. al-Aswad al-Kindi. I caught hold of the rein of Akhram's horse (Seeing this). they (the raiders) fled. I said (to Akhram): Akhram, guard yourself against them until Allah's Messenger (ﷺ) and his Companions join you. He said: ) Salama, if you believe In Allah and the Day of Judgment and (if) you kaow that Paradise is a reality and Hell is a reality, you should not stand between me and martyrdom. so I let him go. Akhram and Abd al-Rahman (Fazari) met in combat. Akhram hamstrung Abd al-Rahman's horse and the latter struck him with his lance and killed him. Abd al-Rabman turned about riding Akhram's horse. Abu Qatada, a horse-man of the Messenger of Allah (ﷺ), met 'Abd al-Rahman (in combat), smote him with his lance and killed him. By the Being Who honoured the countenance of Muhammad (may peace oe upon him), I followed them running on my feet (so fast) that I couldn't see behind me the Companions of Muhammad (ﷺ), nor any dust raised by their horses. (I followed them) until before sunset they reached a valley which had a spring of water, which was called Dhu Qarad, so that they could have a drink, for they were thirsty. They saw me running towards them. I turned them out of the valley before they could drink a drop of its water. They left the valley and ran down a slope. I ran (behind them), overtook a man from them, shot him with an arrow through the shoulder blade and said: Take this. I am the son of al-Akwa'; and today is the day of annihilation for the people who are mean. The fellow (who was wounded) said: May his mother weep over him! Are you the Akwa' who has been chasing us since morning? I said: Yes, O enemy of thyself, the same Akwa'. They left two horses dead tired on the hillock and I came dragging them along to the Messenger of Allah (ﷺ). I met 'Amir who had with him a container having milk diluted with water and a container having water. I performed ablution with the water and drank the milk. Then I came to the Messenger of Allah (ﷺ) while he was at (the spring of) water from which I had driven them away. The Messenger of Allah (ﷺ) had captured those camels and everything else I had captured and all the lances and mantles I had snatched from the polytheists and Bilal had slaughtered a she-camel from the camels I had seized from the people, and was roasting its liver and hump for the Messenger of Allah (ﷺ). I said: Messenger of Allah, let me select from our people one hundred men and I will follow the marauders and I will finish them all so that nobody is left to convey the news (of their destruction to their people). (At these words of mine), the Messenger of Allah (ﷺ) laughed so much that his molar teeth could be seen in the light of the fire, and he said: Salama, do you think you can do this? I said: Yes, by the Being Who has honoured you. He said: Now they have reached the land of Ghatafan where they are being feted. (At this time) a man from the Ghatafan came along and said: So and so slaughtered a camel for them. When they were exposing its skin, they saw dust (being raised far off). They said: They (Akwa' and his companions) have come. So. they went away fleeing. When it was morning, the Messenger of Allah (ﷺ) said: Our best horseman today is Abu Qatada and our best footman today is Salama. Then he gave me two shares of the booty-the share meant for the horseman and the share meant for the footman, and combined both of them for me. Intending to return to Medina, he made me mount behind him on his she-camel named al-Adba'. While we were travelling, a man from the Ansar who could not be beaten in a race said: Is there anyone who could compete (with me) in race to Medina? Is there any competitor? He continued repeating this. When I heard his talk, I said: Don't you show consideration to a dignified person and don't you have awe for a noble man? He said: No, unless he be the Messenger of Allah (ﷺ). I said: Messenger of Allah, may my father and mother be thy ransom, let me get down so that I may beat this man (in the race). He said: It you wish, (you may). I said (to the man): I am coming to thee, I then turned my feet. sprang up and tan and gasped (for a while) when one or two elevated places were left and again followed his heel and again gasped (for a while) when one or two elevated places were left and again dashed until I joined him and gave a blow between his shoulders. I said: You have been overtaken, by God. He said: I think so. Thus, I reached Medina ahead of him. By God, we had stayed there only three nights when we set out to Khaibar with the Messenger of Allah (ﷺ). (On the way) my uncle, Amir, began to recite the following rajaz verses for the people: By God, if Thou hadst not guided us aright, We would have neither practised charity nor offered prayers. (O God! ) We cannot do without Thy favours; Keep us steadfast when we encounter the enemy, And descend tranquillity upon us. The Messenger of Allah (ﷺ) said: Who is this? 'Amir said: it is 'Amir. He said: May thy God forgive thee! The narrator said: Whenever the Messenger of Allah (ﷺ) asked forgiveness for a particular person, he was sure to embrace martyrdom. Umar b. Khattab who was riding on his camel called out: Prophet of Allah, I wish you had allowed us to benefit from Amir. Salama continued: When we reached Khaibar, its king named Marhab advanced brandishing his sword and chanting: Khaibar knows that I am Marhab (who behaves like) A fully armed, and well-tried warrior. When the war comes spreading its flames. My uncle, Amir, came out to combat with him, saying: Khaibar certainly knows that I am 'Amir, A fully armed veteran who plunges into battles. They exchanged blows. Marbab's sword struck the shield of 'Amir who bent forward to attack his opponent from below, but his sword recoiled upon him and cut the main artery: in his forearm which caused his death. Salama said: I came out and heard some people among the Companions of the Prophet (ﷺ) saying: Amir's deed has been wasted; he has killed himself. So I came to the Prophet (ﷺ) weeping and I said: Messenger of Allah. Amir's deed has been wasted. The Messenger (ﷺ) said: Who passed this remark? I said: Some of your Companions. He said: He who has passed that remark has told a lie, for 'Amir there is a double reward. Then he sent me to 'Ali who had sore eyes, and said: I will give the banner to a man who loves Allah and His Messenger or whom Allah and His Messenger love. So I went to 'Ali, brought him beading him along and he had sore eyes, and I took him to the Messenger of Allah (ﷺ), who applied his saliva to his eyes and he got well. The Messenger of Allah (ﷺ) gave him the banner (and 'Ali went to meet Marhab in a single combat). The latter advanced chanting: Khaibar knows certainly that I am Marhab, A fully armed and well-tried valorous warrior (hero) When war comes spreading its flames. 'Ali chanted in reply: I am the one whose mother named him Haidar, (And am) like a lion of the forest with a terror-striking countenance. I give my opponents the measure of sandara in exchange for sa' (i. e. return thir attack with one that is much more fierce). The narrator said: 'Ali struck at the head of Mirhab and killed him, so the victory (capture of Khaibar) was due to him. This long tradition has also been handed down Through a different chain of transmitters.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ پہنچے اور ہماری تعداد چودہ سو تھی۔ ان کے لیے پچاس بکریاں تھیں جنہیں پانی نہیں پلایا جا سکتا تھا (مقامی کنویں میں پانی کی کم مقدار سے)۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے کنارے پر بیٹھ گئے۔ یا تو اس نے نماز پڑھی یا کنویں میں تھوک دیا پانی چڑھ گیا۔ ہم نے پیا اور پانی پلایا (جانوروں کو بھی)۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بیعت کے لیے بلایا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے۔ میں پہلا آدمی تھا جس نے منت کی۔ پھر دوسرے لوگوں نے قسم کھائی۔ جب لوگوں کی تعداد آدھی ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: سلام تم نذر مانو۔ میں نے کہا.میں نے کہا: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے پہلی مرتبہ نذر مانی تھی۔ اس نے کہا: (آپ دوبارہ کر سکتے ہیں)۔ پھر رسول۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ میرے پاس ہتھیار نہیں ہیں۔ اس نے مجھے ایک بڑی یا چھوٹی ڈھال دی۔ پھر وہ لوگوں کو منتیں دیتے رہے یہاں تک کہ یہ ان کی آخری کھیپ تھی۔ اس نے (مجھ سے) کہا: کیا تم بیعت نہیں کرو گے، سلام؟ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول، میں نے لوگوں کی پہلی جماعت کے ساتھ بیعت کی اور پھر جب آپ لوگوں کے درمیان تھے۔ اس نے کہا: (کوئی فرق نہیں پڑتا)، آپ (ایسا) دوبارہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ میں نے تین بار بیعت کی۔ پھر اس نے مجھ سے کہا: سلام، وہ ڈھال کہاں ہے جو میں نے تمہیں دی تھی؟ میں نے کہا: اللہ کے رسول، میرے چچا عامر مجھ سے ملے اور ان کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔ تو میں نے ڈھال اسے دے دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور فرمایا: تم ایسے ہو جیسے گزرے ہوئے دنوں کے اس شخص نے کہا: اے اللہ! میں ایسے دوست کی تلاش میں ہوں جو مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہو۔ (جب تمام صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کر لی) تو مشرکین نے امن کے پیغامات بھیجے، یہاں تک کہ لوگ ہمارے کیمپ سے مکہ والوں کی طرف چلے جائیں اور اس کے برعکس۔ آخر میں امن معاہدہ طے پایا۔ میں طلحہ ب کا کفیل تھا۔ عبید اللہ۔ میں نے اس کے گھوڑے کو پانی پلایا، اس کی پیٹھ رگڑ دی۔ میں نے طلحہ کی خدمت کی اور ان کے کھانے میں سے حصہ لیا۔ میں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی راہ میں ہجرت کرکے اپنے اہل و عیال کو چھوڑا تھا۔جب ہم اور اہل مکہ نے صلح کر لی اور ایک طرف کے لوگ دوسرے کے ساتھ گھل مل جانے لگے تو میں ایک درخت کے پاس آیا، اس کے کانٹے اُکھاڑ کر اس کی بنیاد پر (آرام کے لیے) لیٹ گیا۔ (جب میں وہاں پڑا ہوا تھا) تو مکہ کے چار مشرکین میرے پاس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنے لگے۔ میں ان سے ناراض ہو کر دوسرے درخت پر چلا گیا۔ انہوں نے اپنے ہتھیار (درخت کی شاخوں پر) لٹکائے اور (آرام کے لیے) لیٹ گئے۔ (جب وہ وہاں پڑے تھے) وادی کے نچلے حصے سے کسی نے پکار کر کہا: بھاگو اے مہاجرو! ابن زنیم کو قتل کر دیا گیا ہے۔ میں نے اپنی تلوار نکالی اور ان چاروں پر اس وقت حملہ کیا جب وہ سو رہے تھے۔ میں نے ان کے بازوؤں کو پکڑ کر اپنے ہاتھ میں اٹھایا اور کہا: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو عزت بخشی ہے، تم میں سے کوئی اپنا سر نہ اٹھائے، ورنہ میں ان کے منہ پر ماروں گا۔ (پھر) میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ (ایک ہی وقت میں)۔ میرے چچا عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ابالت کے ایک آدمی کو لے کر آیا جسے مکراز کہا جاتا ہے، عامر ان کو گھوڑے پر گھسیٹ رہے تھے جس کی پیٹھ پر موٹی چادر تھی ستر مشرکین کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ایک نظر ڈالی اور فرمایا۔ : انہیں جانے دو (تاکہ) وہ ایک سے زیادہ مرتبہ خیانت کا مرتکب ہو جائیں (اس سے پہلے کہ ہم ان کے خلاف کارروائی کریں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں معاف کر دیا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیت نازل فرمائی:وہی تو ہے جس نے مکہ کی وادی میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روکے اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر فتح عطا کر دی تھی۔" ہمارے اور بنو لحیان کے درمیان ایک پہاڑ جو کہ مشرک تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے لیے جو رات کو پہاڑ پر چڑھے اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) اس رات دو یا تین بار چڑھے (آخر میں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے غلام رباح کے ساتھ اونٹ بھیجے۔ میں (بھی) طلحہ کے گھوڑے کے ساتھ اونٹوں کے ساتھ چراگاہ میں گیا تو عبدالرحمٰن فزاری نے چھاپہ مارا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اونٹوں کو بھگا دیا اور ان کی دیکھ بھال کرنے والے کو قتل کر دیا، میں نے کہا: رباح، اس گھوڑے پر سوار ہو کر اسے طلحہ بن عبید اللہ کے پاس لے جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دو مشرکین نے اس کے اونٹوں کو چھین لیا۔ پھر میں ایک ٹیلے پر کھڑا ہوا اور مدینہ کی طرف منہ کر کے تین بار چلایا. ہماری مدد کے لیے آؤ میں پھر حملہ آوروں کے تعاقب میں نکلا، ان پر تیر برسائے اور ایمبک میٹر میں ایک (خود شناسی) آیت پڑھی: میں العقوۃ کا بیٹا ہوں اور آج شکست کا دن ہے۔ مطلب کے لیے میں ان میں سے ایک آدمی کو پیچھے دھکیلتا، اس پر ایک تیر چلاتا جو کاٹھی سے چھید کر اس کے کندھے تک پہنچ جاتا۔ اور میں کہوں گا: اسے لے لو، اسی وقت آیت کا نعرہ لگاؤ ​​اور میں العقوۃ کا بیٹا ہوں اور آج کا دن مفلس کی شکست کا دن ہے۔ خدا کی قسم، میں ان پر گولی چلاتا رہا اور ان کے جانوروں کو کاٹتا رہا۔ جب بھی کوئی گھڑ سوار مجھ پر چڑھ دوڑتا تو میں کسی درخت کے پاس آ جاتا اور اس کی بنیاد پر بیٹھ جاتا۔ پھر میں اس پر گولی چلا دوں گا اور اس کے گھوڑے کو کاٹ ڈالوں گا۔ (آخر میں) وہ ایک تنگ پہاڑی گھاٹی میں داخل ہوئے۔ میں اس پہاڑ پر چڑھ گیا اور ان پر پتھر پھینکتے ہوئے انہیں خلیج میں پکڑ لیا۔ میں اسی طرح ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اونٹوں کو چھوڑ دیا اور کوئی اونٹ باقی نہ رہا۔ان کے ساتھ چھوڑ دیا. انہوں نے مجھے چھوڑ دیا پھر میں ان کے پیچھے ان پر گولی چلاتا رہا (مسلسل) یہاں تک کہ وہ تیس سے زیادہ چادریں اور تیس نیزے گر گئے۔ ان کا بوجھ ہلکا کرنا۔ ان کی ہر چیز پر میں نے پتھر کی مدد سے نشان لگا دیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ انہیں پہچان لیں (کہ یہ دشمن کا چھوڑا ہوا مال غنیمت تھا)۔ (وہ چلتے رہے) یہاں تک کہ ایک تنگ وادی میں پہنچے تو بدر فزاری کا بیٹا بھی ان کے ساتھ آ گیا۔ وہ (اب) اپنا ناشتہ لینے بیٹھ گئے اور میں ایک ٹیپرنگ چٹان کی چوٹی پر بیٹھ گیا۔ الفزاری نے کہا: وہ شخص کون ہے جسے میں دیکھ رہا ہوں؟ کہنے لگے: اس بندے نے ہمیں ستایا ہے۔ خدا کی قسم، اس نے شام کے بعد سے ہمیں نہیں چھوڑا اور (مسلسل) ہم پر گولیاں چلا رہا ہے یہاں تک کہ اس نے ہمارے ہاتھ سے سب کچھ چھین لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے چار اس پر مار ڈالیں (اور اسے قتل کر دیں)۔ (اس کے مطابق) ان میں سے چار میری طرف آتے ہوئے پہاڑ پر چڑھ گئے۔ جب میرے لیے ان سے بات کرنا ممکن ہوا تو میں نے کہا: کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ انہوں نے کہا: نہیں، تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اکوا کا بیٹا سلامہ ہوں۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو عزت بخشی ہے میں تم میں سے جس کو چاہوں قتل کر سکتا ہوں لیکن تم میں سے کوئی مجھے قتل نہیں کر سکے گا۔ ان میں سے ایک نے کہا: میرا خیال ہے (وہ صحیح ہے)۔ چنانچہ وہ واپس آگئے۔ میں اپنی جگہ سے نہ ہلا یہاں تک کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سواروں کو دیکھا جو درختوں پر سوار ہو کر آتے تھے۔ لو! ان میں سب سے آگے اکرم الاسدی تھے۔ ان کے پیچھے ابو قتادہ الانصاری تھے اور ان کے پیچھے مقداد بن تھے۔ الاسود الکندی میں نے (یہ دیکھ کر) اکرم کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی۔ وہ (چھاپہ مار) بھاگ گئے۔ میں نے (اخرم سے) کہا: اکرم، ان سے بچو یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ آپ کے ساتھ مل جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: السلام علیکم، اگر تم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہو اور (اگر) یہ کہتے ہو کہ جنت ایک حقیقت ہے اور جہنم ایک حقیقت ہے تو تم میرے اور شہادت کے درمیان نہ کھڑے ہو۔ تو میں نے اسے جانے دیا۔ اکرم اور عبدالرحمٰن (فزاری) لڑائی میں ملے۔ اکرم نے عبدالرحمٰن کے گھوڑے کو کاٹ دیا اور بعد والے نے اسے اپنے نیزے سے مارا اور اسے ہلاک کردیا۔ عبد الربمان نے اکرم کے گھوڑے پر سوار ہونے کا رخ کیا۔ ابو قتادہ جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھوڑے پر سوار تھے، عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے ملے، انہوں نے انہیں اپنے نیزے سے مارا اور قتل کر دیا۔ اس ذات کی قسم جس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کو عزت بخشی، میں ان کے پیچھے قدموں پر (اس قدر تیز) دوڑتا ہوا آیا کہ میں اپنے پیچھے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب کو نہ دیکھ سکا اور نہ ان کی طرف سے کوئی غبار اُٹھا۔ گھوڑے (میں ان کا پیچھا کرتا رہا) یہاں تک کہ غروب آفتاب سے پہلے وہ ایک وادی میں پہنچے جس میں پانی کا چشمہ تھا جس کا نام ذو تھا۔ان کی طرف. میں نے انہیں وادی سے نکال دیا اس سے پہلے کہ وہ اس کے پانی کا ایک قطرہ پی سکیں۔ وہ وادی سے نکلے اور ایک ڈھلوان سے نیچے بھاگے۔ میں (ان کے پیچھے) بھاگا، ان میں سے ایک آدمی کو جا پکڑا، اس کے کندھے کے بلیڈ سے تیر مارا اور کہا: یہ لو۔ میں اکوا کا بیٹا ہوں؛ اور آج کا دن ذلیل لوگوں کے لیے فنا کا دن ہے۔ ساتھی (جو زخمی تھا) کہنے لگا: اس کی ماں اس پر روئے۔ کیا تم وہ اکواہ ہو جو صبح سے ہمارا پیچھا کر رہے ہو؟ میں نے کہا: ہاں اے اپنے دشمن وہی اکوا۔ انہوں نے دو گھوڑوں کو ٹیلے پر تھک کر مردہ چھوڑ دیا اور میں انہیں گھسیٹتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ میری ملاقات عامر سے ہوئی جس کے پاس ایک برتن تھا جس میں دودھ کا پانی ملا ہوا تھا اور ایک برتن میں پانی تھا۔ میں نے پانی سے وضو کیا اور دودھ پیا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب آپ پانی کے اس چشمے پر تھے جہاں سے میں نے انہیں نکال دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان اونٹوں کو اور باقی سب کچھ جو میں نے قبضے میں لے لیا تھا اور وہ تمام نیزے اور چادریں جو میں نے مشرکوں سے چھین لی تھیں اور بلال رضی اللہ عنہ نے ایک کو ذبح کر دیا تھا۔وہ اونٹنی ان اونٹوں میں سے جو میں نے لوگوں سے چھین لی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اپنے جگر اور کوہان کو بھون رہی تھیں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے اپنی قوم میں سے ایک سو آدمی منتخب کرنے کی اجازت دیں اور میں لٹیروں کی پیروی کروں گا اور ان سب کو ختم کر دوں گا تاکہ کوئی بھی (ان کی ہلاکت کی) خبر نہ پہنچا سکے۔ (میری ان باتوں پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر ہنسے کہ آپ کے دانت آگ کی روشنی میں نظر آنے لگے، آپ نے فرمایا: سلامہ، کیا تم یہ کر سکتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی۔ اس نے کہا: اب وہ غطفان کی سرزمین پر پہنچ گئے ہیں جہاں ان کی ضیافت ہو رہی ہے۔ (اس وقت) غطفان سے ایک آدمی آیا اور کہا: فلاں فلاں نے ان کے لیے اونٹ ذبح کیا۔ جب وہ اس کی کھال کو کھول رہے تھے تو انہوں نے دھول (دور سے اٹھی ہوئی) دیکھی۔ انہوں نے کہا: وہ (اکوا اور اس کے ساتھی) آئے ہیں۔ تو وہ بھاگ کر چلے گئے۔ جب صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج ہمارے بہترین گھڑ سوار ابو قتادہ ہیں اور آج ہمارے بہترین پیادہ سلامہ ہیں۔ پھر اس نے مجھے مال غنیمت میں سے دو حصے دیے ایک حصہ گھوڑے والے کے لیے تھا اور حصہ پیدل کے لیے تھا اور ان دونوں کو میرے لیے ملا دیا تھا۔مدینہ واپسی کا ارادہ کرتے ہوئے اس نے مجھے اپنے پیچھے الادباء نام کی اونٹنی پر بٹھایا۔ ہم سفر میں تھے کہ انصار کے ایک آدمی نے جو دوڑ میں ہرا نہیں سکتا تھا کہنے لگا: کیا کوئی ہے جو مدینہ کی دوڑ میں (مجھ سے) مقابلہ کر سکے؟ کیا کوئی مدمقابل ہے؟ وہ یہ بات دہراتے رہے۔ جب میں نے ان کی بات سنی تو کہا: کیا تم ایک معزز شخص کا خیال نہیں رکھتے اور ایک شریف آدمی پر تم کو کوئی خوف نہیں ہے؟ اس نے کہا: نہیں، جب تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوں۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول، میرے والد اور والدہ آپ کا فدیہ ہوں، مجھے نیچے اترنے دیں تاکہ میں اس شخص کو (دوڑ میں) شکست دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم چاہو)۔ میں نے (اس شخص سے) کہا: میں آپ کے پاس آ رہا ہوں، پھر میں نے اپنے پاؤں پھیرے۔ جب ایک یا دو اونچی جگہیں رہ گئیں تو (تھوڑی دیر تک) ہانپتا رہا اور دوبارہ اس کی ایڑی کے پیچھے گیا اور دوبارہ ہانپتا رہا (تھوڑی دیر کے لیے) جب ایک یا دو اونچی جگہیں رہ گئیں اور دوبارہ دھکیل دیا یہاں تک کہ میں اس کے ساتھ شامل ہو گیا اور اس کے کندھوں کے درمیان دھچکا۔ میں نے کہا: خدا کی قسم آپ کو پکڑ لیا گیا ہے۔ اس نے کہا: میرا خیال ہے۔ اس طرح میں ان سے پہلے مدینہ پہنچ گیا۔ خدا کی قسم جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف روانہ ہوئے تو ہم وہاں صرف تین راتیں ٹھہرے تھے۔ (راستے میں) میرے چچا امیر لوگوں کے لیے درج ذیل رجز آیات کی تلاوت کرنے لگے: خدا کی قسم اگر تو نے ہماری رہنمائی نہ کی ہوتی تو ہم نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔(اے اللہ!) ہم تیرے فضل کے بغیر نہیں کر سکتے۔ جب ہم دشمن کا مقابلہ کریں تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکون نازل فرما۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ عامر نے کہا: یہ امیر ہے۔ اس نے کہا: تمہارا خدا تمہیں معاف کرے۔ راوی نے کہا: جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خاص شخص کے لیے استغفار کیا تو اس کی شہادت یقینی تھی۔ عمر بی۔ اپنے اونٹ پر سوار خطاب نے آواز دی: اے اللہ کے رسول، کاش آپ نے ہمیں امیر سے استفادہ کرنے دیا ہوتا۔ سلام نے بات جاری رکھی: جب ہم خیبر پہنچے تو اس کے بادشاہ مرحب نے اپنی تلوار کو آگے بڑھایا اور یہ نعرہ لگایا: خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں (جو اس کی طرح برتاؤ کرتا ہے) ایک مکمل مسلح، اور خوب آزمایا ہوا جنگجو ہوں۔ جب جنگ آتی ہے اپنے شعلے پھیلاتی ہے۔ میرے چچا، امیر، اس سے مقابلہ کرنے کے لیے نکلے، اور کہا: خیبر یقیناً جانتا ہے کہ میں امیر، ایک مکمل مسلح تجربہ کار ہوں جو لڑائیوں میں کودتا ہے۔ انہوں نے ہاتھا پائی کی۔ مارباب کی تلوار امیر کی ڈھال پر لگی جو نیچے سے اپنے مخالف پر حملہ کرنے کے لیے آگے بڑھی لیکن اس کی تلوار اس پر چل پڑی اور مرکزی شریان کو کاٹ دیا: اس کے بازو میں جو اس کی موت کا سبب بنی۔ سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں باہر نکلا تو صحابہ میں سے کچھ لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ امیر کا عمل ضائع ہو گیا ہے۔ اس نے خود کو مار لیا ہے. چنانچہ میں روتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! عامر کا عمل ضائع ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ قول کس نے گزرا؟ میں نے کہا:آپ کے بعض صحابہ کرام۔ آپ نے فرمایا: جس نے یہ قول پاس کیا اس نے جھوٹ بولا، امیر کے لیے دوہرا اجر ہے۔ اس کے بعد اس نے مجھے علی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جس کی آنکھیں دکھی تھیں اور کہا: میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے یا اللہ اور اس کا رسول جس سے محبت کرتا ہے۔ چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہیں لایا، ان کو پیٹتے ہوئے ان کی آنکھوں میں درد تھا، میں انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا، آپ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا تو وہ ٹھیک ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جھنڈا دیا (اور علی رضی اللہ عنہ ایک ہی لڑائی میں مرحب سے ملنے گئے)۔ مؤخر الذکر اعلی درجے کا نعرہ: خیبر یقینی طور پر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ایک مکمل طور پر مسلح اور اچھی طرح سے آزمایا ہوا بہادر جنگجو (ہیرو) جب جنگ آتی ہے تو اپنے شعلے پھیلاتے ہیں۔ علی نے جواب میں کہا: میں وہ ہوں جس کی ماں نے اس کا نام حیدر رکھا ہے، (اور میں) جنگل کے شیر کی مانند ہوں جس کا چہرہ دہشت زدہ ہو۔ میں اپنے مخالفین کو صاع کے بدلے سندارا کا پیمانہ دیتا ہوں (یعنی تیرے کے حملے کا جواب اس سے زیادہ شدید ہو)۔ راوی نے کہا: علی نے میرحب کے سر پر مارا اور اسے قتل کر دیا، تو فتح (خیبر پر قبضہ) اسی کی وجہ سے ہوئی۔ اس طویل روایت کو ٹرانسمیٹر کی ایک مختلف زنجیر کے ذریعے بھی منتقل کیا گیا ہے۔

Sahih al-BukhariRevelation • Hadith 6644

Hadith Record

Sahih

Narrator: Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا حَبَّانُ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ أَتِمُّوا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنِّي لأَرَاكُمْ مِنْ بَعْدِ ظَهْرِي إِذَا مَا رَكَعْتُمْ وَإِذَا مَا سَجَدْتُمْ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

I heard the Prophet (ﷺ) saying, "Perform the bowing and the prostration properly (with peace of mind), for, by Him in Whose Hand my soul is, I see you from behind my back when you bow and when you prostrate."

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

انہوں نے نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ فرما رہے تھے کہ رکوع اور سجدہ پورے طور پر ادا کیا کرو ۔ اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں اپنی کمر کے پیچھے سے تم کو دیکھ لیتا ہوں جب رکوع اور سجدہ کرتے ہو ۔

Sahih al-BukhariRevelation • Hadith 6652

Whoever swears by a religion other than Islam

Sahih

Narrator: Narrated Thabit bin Ad-Dahhak:

حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ الضَّحَّاكِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ مِلَّةِ الإِسْلاَمِ فَهْوَ كَمَا قَالَ ـ قَالَ ـ وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَىْءٍ عُذِّبَ بِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، وَلَعْنُ الْمُؤْمِنِ كَقَتْلِهِ، وَمَنْ رَمَى مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ فَهْوَ كَقَتْلِهِ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Prophet (ﷺ) said, "Whoever swears by a religion other than Islam, is, as he says; and whoever commits suicide with something, will be punished with the same thing in the (Hell) Fire; and cursing a believer is like murdering him; and whoever accuses a believer of disbelief, then it is as if he had killed him."

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو اسلام کے سوا کسی اور مذہب پر قسم کھائے پس وہ ایسا ہی ہے جیسی کہ اس نے قسم کھائی ہے اور جو شخص اپنے نفس کو کسی چیز سے ہلاک کرے وہ دوزخ میں اسی چیز سے عذاب دیا جاتا رہے گا اور مومن پر لعنت بھیجنا اس کو قتل کرنے کے برابر ہے اور جس نے کسی مومن پر کفر کا الزام لگایا پس وہ بھی اس کے قتل کرنے کے برابر ہے ۔

Sahih al-BukhariBelief • Hadith 8

Your invocation means your faith

Sahih

Narrator: Narrated Ibn 'Umar:

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

Allah's Messenger (ﷺ) said: Islam is based on (the following) five (principles): 1. To testify that none has the right to be worshipped but Allah and Muhammad is Allah's Messenger (ﷺ). 2. To offer the (compulsory congregational) prayers dutifully and perfectly. 3. To pay Zakat (i.e. obligatory charity) . 4. To perform Hajj. (i.e. Pilgrimage to Mecca) 5. To observe fast during the month of Ramadan.

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے سچے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔

Sahih al-BukhariBelief • Hadith 9

(What is said) regarding the deeds of faith

Sahih

Narrator: Narrated Abu Huraira:

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Prophet (ﷺ) said, "Faith (Belief) consists of more than sixty branches (i.e. parts). And Haya (This term "Haya" covers a large number of concepts which are to be taken together; amongst them are self respect, modesty, bashfulness, and scruple, etc.) is a part of faith."

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں ۔ اور حیاء ( شرم ) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے ۔

Narrator: Narrated 'Abdullah bin 'Amr:

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، وَإِسْمَاعِيلَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَقَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ عَامِرٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَقَالَ عَبْدُ الأَعْلَى عَنْ دَاوُدَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Prophet (ﷺ) said, "A Muslim is the one who avoids harming Muslims with his tongue and hands. And a Muhajir (emigrant) is the one who gives up (abandons) all what Allah has forbidden."

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں اور مہاجر وہ ہے جو ان کاموں کو چھوڑ دے جن سے اللہ نے منع فرمایا ۔ ابوعبداللہ امام بخاری نے فرمایا اور ابومعاویہ نے کہ ہم کو حدیث بیان کی داؤد بن ابی ہند نے ، انھوں نے روایت کی عامر شعبی سے ، انھوں نے کہا کہ میں نے سنا عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ، وہ حدیث بیان کرتے ہیں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( وہی مذکورہ حدیث ) اور کہا کہ عبدالاعلیٰ نے روایت کیا داؤد سے ، انھوں نے عامر سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ۔

Sahih al-BukhariBelief • Hadith 11

Whose Islam is the best (Who is the best Muslim)?

Sahih

Narrator: Narrated Abu Musa:

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَىُّ الإِسْلاَمِ أَفْضَلُ قَالَ ‏ "‏ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

Some people asked Allah's Messenger (ﷺ), "Whose Islam is the best? i.e. (Who is a very good Muslim)?" He replied, "One who avoids harming the Muslims with his tongue and hands."

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! کون سا اسلام افضل ہے ؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جس کے ماننے والے مسلمانوں کی زبان اور ہاتھ سے سارے مسلمان سلامتی میں رہیں ۔

Sahih al-BukhariBelief • Hadith 12

To feed (others) is a part of Islam

Sahih

Narrator: Narrated 'Abdullah bin 'Amr:

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَجُلاً، سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَىُّ الإِسْلاَمِ خَيْرٌ قَالَ ‏ "‏ تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلاَمَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

A man asked the Prophet (ﷺ) , "What sort of deeds or (what qualities of) Islam are good?" The Prophet (ﷺ) replied, 'To feed (the poor) and greet those whom you know and those whom you do not Know (See Hadith No. 27).

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

ایک دن ایک آدمی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے ؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی ، الغرض سب کو سلام کرو ۔

Narrator: Narrated Anas:

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَعَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ، قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Prophet (ﷺ) said, "None of you will have faith till he wishes for his (Muslim) brother what he likes for himself."

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اپنے بھائی کے لیے وہ نہ چاہے جو اپنے نفس کے لیے چاہتا ہے ۔

Sahih al-BukhariBelief • Hadith 14

To love the Messenger (Muhammad saws) is a part of faith

Sahih

Narrator: Narrated Abu Huraira:

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، قَالَ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

"Allah's Messenger (ﷺ) said, "By Him in Whose Hands my life is, none of you will have faith till he loves me more than his father and his children."

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

بیشک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ تم میں سے کوئی بھی ایماندار نہ ہو گا جب تک میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں ۔

Sahih al-BukhariBelief • Hadith 15

Hadith Record

Sahih

Narrator: Narrated Anas:

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ح وَحَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Prophet (ﷺ) said "None of you will have faith till he loves me more than his father, his children and all mankind."

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص ایماندار نہ ہو گا جب تک اس کے والد اور اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ اس کے دل میں میری محبت نہ ہو جائے ۔

Sahih al-BukhariBelief • Hadith 16

Sweetness (delight) of faith

Sahih

Narrator: Narrated Anas:

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ ثَلاَثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ وَجَدَ حَلاَوَةَ الإِيمَانِ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِمَّا سِوَاهُمَا، وَأَنْ يُحِبَّ الْمَرْءَ لاَ يُحِبُّهُ إِلاَّ لِلَّهِ، وَأَنْ يَكْرَهَ أَنْ يَعُودَ فِي الْكُفْرِ كَمَا يَكْرَهُ أَنْ يُقْذَفَ فِي النَّارِ ‏"‏‏.‏

HadithAPI (English) (en)

HadithAPI

The Prophet (ﷺ) said, "Whoever possesses the following three qualities will have the sweetness (delight) of faith: 1. The one to whom Allah and His Apostle becomes dearer than anything else. 2. Who loves a person and he loves him only for Allah's sake. 3. Who hates to revert to Atheism (disbelief) as he hates to be thrown into the fire."

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا ۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں ، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے ۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے ۔

Previous

Page 94 of 2024

Next