Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
Abu Huraira reported: Verity the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is for every apostle a (special) prayer with which he would pray. I wish I could reserve, my prayer for intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
مالک بن انس رضی اللہ عنہ نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضر ت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر نبی کی ایک ( یقینی ) دعا ہے جو وہ مانگتا ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں ۔ ‘ ‘
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is for every apostle a prayer, and I intend (if Allah so willed) that I would reserve my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقیناً ہر نبی کی ایک دعا ہے ( جس کی قبولیت یقینی ہے ۔ ) میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان شاءاللہ میں اپنی اس دعا کو قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کرنے کے لیے محفوظ رکھوں گا ۔ ‘ ‘
Amr bin Abu Sufyan transmitted a hadith like this from Abu Huraira رضی اللہ عنہ who narrated it from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابن شہاب کے بھتیجے نے ابن شہاب سے اور انہوں نے ( ابو سلمہ کے بجائے ) عمرو بن ابی سفیان بن اسید بن جاریہ ثقفی سے اسی کے مانند حدیث حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ said to Ka'b al-Ahbar رضی اللہ عنہ that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had said: For every apostle there Is a (special) prayer by which he would pray (to his Lord). I, however, intend (if Allah so willed) that I would reserve my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection. Ka'b said to Abu Hurairaرضی اللہ عنہ : Did you hear this from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم )? Abu Huraira رضی اللہ عنہ said: Yes.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار رضی اللہ عنہ سے کہا ، بلاشبہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ ہر نبی کی ایک ( یقینی ) دعا ہے جو وہ کرتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا قیامت کےدن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ رکھوں ۔ ‘ ‘ اس پر کعب نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے یہ فرمان ( براہ راست ) رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا؟ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نےجواب دیا : ہاں !
The Prophet of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is for every apostle a prayer which is granted, but every prophet showed haste in his prayer. I have, however, reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection, and it would be granted, if Allah so willed, in case of everyone amongst my Ummah provided he dies without associating anything with Allah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہر نبی کی ایک دعا ایسی ہے جو ( یقینی طور پر ) قبول کی جانے والی ہے ۔ ہر نبی نےاپنی وہ دعا جلدی مانگ لی ) جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے ، چنانچہ یہ دعا ان شاء اللہ میری امت کے ہر اس فرد کو پہنچے گی جو ا للہ کے ساتھ کسی کوشریک نہ کرتے ہوئے فوت ہوا ۔ ‘ ‘
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Every Messenger is endowed with a prayer which is granted and by which he would (pray to his Lord) and it would he granted for him. I have, however, reserved my prayer for the intercession of my Ummab on the Day of Resurrection.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہر نبی کے لیے ایک قبول کی جانے والی دعا ہے ، وہ اسےمانگتا ہے تو ( ضرور ) قبول کی جاتی ہے اور وہ اسے عطا کر دی جاتی ہے ۔ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے چھپا ( بچا ) کر رکھی ہے ۔ ‘ ‘
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There was for every apostle a prayer with which he prayed for his Ummah and it was granted to him; but I wish, if Allah so wills, to defer my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسو ل اللہ ﷺنے فرمایا : ’’ہر نبی کی ایک دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے بارے میں مانگی اور وہ اس کے لیے قبول ہوئی ۔ اور میں چاہتا ہوں کہ ان شاء اللہ میں اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کے لیے مؤخر کر دوں ۔ ‘ ‘
Verily the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is for every apostle a prayer with which he prays (to Allah) for his Ummah. I have reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ہر نبی کی ایک ( یقینی مقبول ) دعا ہے جو اس نے اپنی امت کے لیے کی جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے روز اپنی امت کی سفارش کے لیے محفوظ کر لی ہے ۔ ‘ ‘
It was also narrated from Qatadah with this chain. Except that in the version of (one of the narrators) Waki, he said: "He (ﷺ) said: 'Which is given."' And in the version of (one of the narrators) Abu Usamah, he said: "From the Prophet (ﷺ)."
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا اور ابن ابی خلف نے کہا : ہم سے ایک روح نے بیان کیا ,مذکورہ بالا روایت ( ہشام کے بجائے ) شعبہ نے قتادہ سےباقی ماندہ اسی سند کے ساتھ بیان کی ۔
Mis'ar transmitted it with the same chain of narrators from Qatada except that in the hadith narrated by Waki' (the Prophet ﷺ) said: He was endowed, and in the hadith reported by Abu Usama (the words are): It is reported from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابو کریب نے ہم سے کہا,وکیع اور ابو اسامہ نےمسعر سے حدیث سنائی ، انہوں نےقتادہ سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، اتنا فرق ہے کہ وکیع کی روایت کے الفاظ ہیں : ’’ آپ نے فرمایا : ( ہر نبی کو ایک دعا ) ’’عطا کی گئی ہے ‘ ‘ اور ابو اسامہ کی روایت کے الفاظ ہیں : ’’نبی اکرم ﷺ سے روایت ہے ۔ ‘ ‘
Narrator: Muhammad bin 'Abd al-A'la reported it to me: Mu'tamir narrated to us on the authority of his father who transmitted it from Anas رضی اللہ عنہ :
Verity the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said, and then narrated the hadith like the one transmitted by Qatada on the authority of Anas رضی اللہ عنہ .
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا......... آگے کی حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت کی طرح ہے ۔
For every apostle was a prayer with which he prayed (to his Lord) for his Ummah, but I have reserved my prayer for the intercession of my Ummah on the Day of Resurrection.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
’’ہر نبی کے لیے ایک دعا ہے جو وہ اپنی امت کے بارے میں کر چکا جبکہ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی سفارش کےلیے محفوظ کر رکھی ہے ۔ ‘ ‘
Verily the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) recited the words of Allah, the Great and Glorious, that Ibrahim uttered. My Lord! lo! they have led many of mankind astray: But whoso followeth me, he verily is of me (al-Qur'an, xiv. 35) and Jesus (peace be upon him) said: If thou punisheth them, lo! they are Thy slaves, and if Thou forgiveth them-verily Thou art the Mighty, the Wise (al-Qur'an, v 117). Then he raised his hands and said: O Lord, my Ummah, my Ummah, and wept; so Allah the High and the Exalted said: O Gabriel, go to Muhammad (though your Lord knows it fully well) and ask him: What makes thee weep? So Gabriel (peace be upon him) came to him and asked him, and the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) informed him what he had said (though Allah knew it fully well). Upon this Allah said: O Gabriel, go to Muhammad and say: Verily We will please thee with regard to your Ummah and would not displease thee.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبیﷺ نےابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : ’’پروردگار ، ان بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے ( ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کر دیں ، لہٰذا ان میں سے ) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تو درگزر کرنے والا مہربان ہے ۔ ‘ ‘ اور عیسیٰ علیہ السلام کے قول ’’اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو انہیں معاف فرما دے تو بلاشبہ توہی غالب حکمت والا ہے ‘ ‘ کی تلاوت فرمائی اور اپنے ہاتھ اٹھ کر فرمایا : ’’ اے اللہ ! میری امت ، میری امت ‘ ‘ اور ( بے اختیار ) روپڑے ۔ اللہ تعالیٰ نےحکم دیا : اے جبرئیل !محمدﷺ کے پاس جاؤ ، جبکہ تمہارا رب زیادہ جاننےوالا ہے ، ان سے پوچھو کہ آپ کو کیا بات رلا رہی ہے ؟ جبریل علیہ السلام آپ کےپاس آئے اور ( وجہ ) پوچھی تو رسو ل ا للہﷺ نے جو بات کہی تھی ان کو بتائی ، جبکہ وہ ( اللہ اس بات سے ) زیادہ اچھی طرح آگاہ ہے ، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے جبریل! محمدﷺ کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم آپ کی امت کے بارے میں آپ کو راضی کریں گے اور ہم آپ کو تکلیف نہ ہونے دیں گے ۔
Verily, a person said: Messenger of Allah, where is my father? He said: (He) is in the Fire. When he turned away, he (the Holy Prophet) called him and said: Verily my father and your father are in the Fire.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ آگ میں ۔ ‘ ‘ پھر جب وہ پلٹ گیا توآپ نے اسے بلا کر فرمایا : ’’ بلاشبہ میراباپ اور تمہارا باپ آگ میں ہیں ۔ ‘ ‘
When this verse was revealed: And warn thy nearest kindred (al-Qur'an, xxvi. 214), the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) called the Quraish; so they gathered and he gave them a general warning. Then he made a particular (reference to certain tribes) and said: O sons of Ka'b bin Luwayy, rescue yourselves from the Fire; O sons of Murra bin Ka'b, rescue yourselves from the Fire: O sons of Abd Shams, rescue yourselves from the Fire; 0 sons of Abd Manaf rescue yourselves from the Fire; O sons of Hashim, rescue yourselves from the Fire; 0 sons of Abd al-Muttalib, rescue yourselves from the Fire; O Fatimah, rescue thyself from the Fire, for I have no power (to protect you) from Allah in anything except this that I would sustain relationship with you.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب یہ آیت اتری : ’’اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈائیے ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ نے قریش کو بلایا ۔ جب وہ جمع ہو گئے تو آپ نے عمومی حیثیت سے ( سب کو ) اور خاص کر کے ( الگ خاندانوں اور لوگوں کے ان کے نام لے لے کر ) فرمایا : ’’اے کعب بن لؤی کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے مرہ بن کعب کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے عبدمناف کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے بنو ہاشم کی اولاد! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، اے عبد المطلب کی اولاد! اپنےآپ کو آگ سے بچالو ، اے فاطمہ ( ینت رسول اللہﷺ ) ! اپنے آپ کو آگ سے بچالو ، میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( کسی مؤاخذے کی صورت میں ) تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ، تم لوگوں کے ساتھ رشتہ ہے ، اسے میں اسی طرح جوڑتا رہوں گا جس طرح جوڑنا چاہیے ۔ ‘ ‘
The same hadith is narrated by Ubaidallah bin Umar al-Qawariri from Abu 'Uwana, who transmitted it to 'Abdul-Malik bin 'Umair on the same chain of transmitter and the hadith of Jarir is more perfect and comprehensive.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ہم سے عبید اللہ بن عمر القواری نے بیان کیا، ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا،عبدالملک سے ( جریر کے علاوہ ) ابوعوانہ نے بھی یہ حدیث اسی سند کے ساتھ بیان کی , لیکن جریر کی روایت زیادہ مکمل اور سیر حاصل ہے ۔
When this verse was revealed: And warn thy nearest kindred, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood up on Safa' and said: O Fatima, daughter of Muhammad. O Safiya, daughter of 'Abd al-Muttalib, O sons of 'Abd al-Muttalib. I have nothing which can avail you against Allah; you may ask me what you want of my worldly belongings.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب آیت : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ نازل ہوئی تو رسو ل ا للہﷺ نے صفا پہاڑ پر کھڑے ہو کر فرمایا : ’’ اے محمد ( ﷺ ) کی بیٹی فاطمہ ! اے عبد المطلب کی بیٹی صفیہ ! اے عبدالمطلب کی اولاد! میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لیے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا ۔ ( ہاں! ) میرے مال میں سے جوچاہو مجھ سے مانگ لو ۔ ‘ ‘
When (this verse) was revealed to him: Warn your nearest kinsmen. the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: O people of Quraish, buy yourselves from Allah, I cannot avail you at all against Allah; O sons of Abd al-Muttalib. I cannot avail you at all against Allah; 0 Abbas b. 'Abd al- Muttalib, I cannot avail you at all against Allah; O Safiya (aunt of the Messenger of Allah), I cannot avail you at all against Allah; 0 Fatima, daughter of Muhammad, ask me whatever you like, but I cannot avail you at all against Allah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتاری گئی : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کوڈرائیں ‘ ‘ تو آپ نے فرمایا : ’’ اے قریش کےلوگو!اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ سے خرید لو ، میں اللہ تعالیٰ کے ( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آسکتا ، اے عبد المطلب کے بیٹے عباس! میں اللہ کے ( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ، اے اللہ کے رسول کی پھوپھی صفیہ ! میں اللہ کے ( فیصلے کے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ، اے اللہ کےرسول کے بیٹی فاطمہ ! مجھ سے ( میرے مال میں سے ) جو چاہو مانگ لو ، میں اللہ کے ( فیصلےکے ) سامنے تمہارے کچھ کام نہیں آ سکتا ۔ ‘ ‘
This hadith is narrated from the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) by another chain of narrators, 'Amr al-Naqid, Mu'awiya bin 'Amr, Abdullah bin Dhakwan, A'raj on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ .
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
مجھ سے عمرو النقید نے بیان کیا، کہا ہم سے معاویہ بن عمرو نے بیان کیا، کہا ہم سے زیدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ذکوان نے بیان کیا,ایک اور سند سے اعرج نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی ۔
When this verse was revealed: And warn thy nearest kindred, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) set off towards a rock of the hill and ascended the highest of the rocks and then called: 0 sons of 'Abd Manaf! I am a warner; my similitude and your similitude is like a man who saw the enemy and went to guard his people, but, being afraid they might get there before him, he shouted: Be on your guard!
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
، دونوں نےکہا کہ جب آیت : ’’ اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ‘ ‘ اتری ، کہا : تو اللہ کے نبی ﷺ ایک پہاڑی چٹان کی طرف تشریف لے گئے اور اس کے سب سے اونچے پتھروں والے حصے پر چڑھے ، پھر آواز دی : ’’ اے عبد مناف کی اولاد! میں ڈرانے والا ہوں ، میری اور تمہاری مثال اس آدمی کی ہے جس نے دشمن کو دیکھا تو وہ خاندان کو بچانے کے لیے چل پڑا اور اسے خطرہ ہوا کہ دشمن اس سے پہلے نہ پہنچ جائے تووہ بلند آواز سے پکارنے لگاؤ : وائے اس کی صبح ( کی تباہی! ) ‘ ‘