Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Sunan Ibn Majah • The Book of the Sunnah • Hadith 13
The Messenger of Allah (ﷺ) said: I do not want to find anyone of you reclining on his pillow, and when bad news comes to him of something that I have commanded or forbidden, he says, 'I do not know, whatever we find in the Book of Allah, we will follow.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم میں سے کسی کو ہرگز اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے آراستہ تخت پر ٹیک لگائے ہو، اور اس کے پاس جن چیزوں کا میں نے حکم دیا ہے، یا جن چیزوں سے منع کیا ہے میں سے کوئی بات پہنچے تو وہ یہ کہے کہ میں نہیں جانتا، ہم نے تو اللہ کی کتاب میں جو چیز پائی اس کی پیروی کی ۔
Allah's Messenger صلی الله علیہ وسلم came to a waste area used by people, so he urinated on it while standing. I brought him the (water for) Wudu. Then I left to be away from him, but he called me until I was behind him. So he performed Wudu and wiped (Masaba) over his Khuff.
[Abu Eisa said:] I heard Al-Jarud saying: "I heard 'Waki narrating this Hadith from Al-Amash, then Waki said, This is the most correct Hadith reported from the prophet about wiping (over khuff)'" And I heard Abu Ammar Al-Husain bin Huraith saying: "I heard Waki," then he mentioned a similar narration.]
[Abu Eisa said:] Like this was reported by Mansur, And 'Ubaidah Ad-Dabbi, from
Abu Wail from Hudhaifah, (all) similar to the narration of Al-Amash. Hammd bin Abu Sulaiman and 'Asim bin Bahdalah reported it from Abu Wail from Al-Mughirah bin Shubah, from the prophet . But the Hadith of Abu Wail from Hudhaifah is more correct.
There are those among the people of knowledge who have permitted urinating from while standing.
[Abu Eisa said: It was reported from Abidah bin Amr As- Salmani by Ibrahim An-Nakha'i and Abidah is one of the major Tabi'in, It is reported that Abidah said, I accepted Islam from the prophet died by two years." 'Ubaidah add-Dabbi, the companion of Ibrahim, is Ubaidah bin Mu'attib Ad-Dabbi, and his kunya is Abu 'Abdul karim].
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا گزر ایک قوم کے کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر سے ہوا تو آپ نے اس پر کھڑے ہو کر پیشاب کیا، میں آپ کے لیے وضو کا پانی لایا، اسے رکھ کر میں پیچھے ہٹنے لگا، تو آپ نے مجھے اشارے سے بلایا، میں ( آ کر ) آپ کی ایڑیوں کے پاس کھڑا ہو گیا، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- وکیع کہتے ہیں: یہ حدیث مسح کے سلسلہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی حدیثوں میں سب سے زیادہ صحیح ہے۔ ۲- یہ حدیث بروایت مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مروی ہے ۱؎ ابووائل کی حدیث جسے انہوں نے حذیفہ سے روایت کیا ( مغیرہ کی روایت سے ) زیادہ صحیح ہے ۲؎، ۳- محدثین میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے کھڑے ہو کر پیشاب کرنے کی اجازت دی ہے۔
The Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وسلم forbade us to face the qiblah at the time of making water. Then I saw him facing it (qiblah) urinating or easing himself one year before his death.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پیشاب کے وقت قبلہ کی طرف رخ کرنے سے منع فرمایا، ( لیکن ) میں نے وفات سے ایک سال پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( قضائے حاجت کی حالت میں ) قبلہ رو دیکھا ۔
انسؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ہماری نماز کی طرح نماز پڑھے ، ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرے اور ہمارا ذبیحہ کھائے تو وہ ایسا مسلمان ہے جسے اللہ اور اس کے رسول کی امان حاصل ہے ، سو تم اللہ کی امان اور ذمہ کو نہ توڑو ۔‘‘ رواہ البخاری (۳۹۱) ۔
When the Prophet wanted to relieve himself, he would not raise his garment until he was close to the ground.
When the Prophet wanted to relieve himself, he would not raise his garment until he was close to the ground.
Abu Eisa said: This is how Muhammad bin Rabi'ah reported this hadith: "from Al-Amash, from Anas."
Waki, and [Abu Yahya] Al-Himmani reported that Al-Amash said: "Ibn Umar, may Allah most high be pleased with him, said, when the prophet wanted to relieve himself, he would not raise until he was close to the ground.'"
Both of the Ahadith are Mursal. They say that Al-Amash did not hear from Anas, nor any of the companions of the prophet. But he saw Anas bin Malik. He said, "I saw him prayer." And he mention something about him regarding the prayer. And Al-Amash's name is Sulaiman bin Mihran, Abu Muhammad Kahili, being their freed slave. Al-Amash said, "My father was a Hamil so he made Masruq an heir."
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو جب تک زمین سے بالکل قریب نہ ہو جاتے اپنے کپڑے نہیں اٹھاتے تھے۔ دوسری سند میں اعمش سے روایت ہے، ابن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے کپڑے جب تک زمین سے قریب نہیں ہو جاتے نہیں اٹھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ دونوں احادیث مرسل ہیں، اس لیے کہ کہا جاتا ہے: دونوں احادیث کے راوی سلیمان بن مہران الأعمش نے نہ ہی تو انس بن مالک رضی الله عنہ سے سماعت کی ہے اور نہ ہی کسی اور صحابی سے، صرف اتنا ہے کہ انس کو صرف انہوں نے دیکھا ہے، اعمش کہتے ہیں کہ میں نے انہیں نماز پڑھتے دیکھا ہے پھر ان کی نماز کی کیفیت بیان کی۔
When the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم wanted to relieve himself, he would not raise his garment, until he lowered himself near the ground. Abu Dawud said: This tradition has been transmitted by Abdul-Salam bin Harb on the authority of al-Amash from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ . This chain of narrators is weak (because Amash's hearing tradition from Anas bin Malik is not established).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کا ارادہ فرماتے تو اپنا کپڑا ( شرمگاہ سے اس وقت تک ) نہ اٹھاتے جب تک کہ زمین سے قریب نہ ہو جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالسلام بن حرب نے اعمش سے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، مگر یہ ضعیف ہے ۔
It was narrated that Anas bin Malik said: A time limit was set for us, by the Messenger of Allah (ﷺ), regarding trimming the mustache, clipping the nails and plucking the pubes; we were not to leave that for more than forty days, on one occasion he said: Forty nights.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھ کترنے، ناخن تراشنے، زیر ناف کے بال صاف کرنے، اور بغل کے بال اکھیڑنے کی مدت ہمارے لیے مقرر فرما دی ہے کہ ان چیزوں کو چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے رکھیں ۱؎، راوی نے دوسری بار «أربعين يومًا» کے بجائے «أربعين ليلة» کے الفاظ کی روایت کی ہے۔
ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ، ایک دیہاتی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے عرض کیا ، مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جس کے کرنے سے میں جنت میں داخل ہو جاؤں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہ کرو ، فرض نماز قائم کرو ۔ فرض زکوۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو ۔‘‘ اس نے کہا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کروں گا ، جب وہ چلا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص کو پسند ہو کہ وہ جنتی شخص کو دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۹۷) و مسلم
A man from the Ansar had a dispute with Zubair رضی اللہ عنہ in the presence of the Messenger of Allah (ﷺ) concerning a stream in the Harrah which they used to irrigate the date-palm trees. The Ansari said: Let the water flow but Zubair رضی اللہ عنہ refused. So they referred that dispute to the Messenger of Allah (ﷺ) who said: Irrigate (your land), O Zubair., and then let the water flow to your neighbor. The Ansari became angry and said O Messenger of Allah, is it because he is your cousin? The face of the Messenger of Allah (ﷺ) changed color (because of anger) and he said: O Zubair, irrigate (your land) then block the water until it flows back to the walls around the date-palm trees. Zubair said: By Allah, I think that this verse was revealed concerning this matter.' But no, by your Lord, they can have no Faith, until they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them, and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مقام حرہ کی اس نالی کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے لوگ کھجور کے باغات کی سینچائی کرتے تھے، انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ میرے کھیت میں چلا جائے، زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کیا، ان دونوں نے اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیش کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا کھیت سینچ لو! پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، انصاری غضبناک ہو کر بولا: اللہ کے رسول! یہ اس وجہ سے کہ وہ آپ کے پھوپھی کے بیٹے ہیں؟ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زبیر! تم اپنا باغ سینچ لو، پھر پانی روکے رکھو یہاں تک کہ وہ مینڈوں تک پہنچ جائے ، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: زبیر نے کہا: قسم اللہ کی! میرا خیال ہے کہ یہ آیت اسی سلسلہ میں نازل ہوئی ہے: «فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في أنفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما» قسم ہے آپ کے رب کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس کے سارے اختلافات اور جھگڑوں میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلہ آپ ان میں کر دیں اس سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں، اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں ( سورة النساء: 65 ) ۔
"The Prophet prohibited that a man should touch his penis with his right hand."
There are narrations on this topic from 'Aishah, Salman, Abu Hurairah and Sahl bin Hunif رضی الله عنہم .
Abu Eisa said: This Hadith is Hasan Sahih. The name of Abu Qatadah [Al-Ansari] is: Al-Harith bin Rib'i.
This is acted upon according to the people of knowledge [in general ], they dislike Istinja' with the right hand.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ آدمی اپنے داہنے ہاتھ سے اپنا ذکر ( عضو تناسل ) چھوئے.
۱؎۔ اس باب میں عائشہ، سلمان، ابوہریرہ اور سھل بن حنیف رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں نے داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے کو مکروہ جانا ہے۔
I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم say: When two persons go together for relieving themselves uncovering their private parts and talking together, Allah, the Great and Majestic, becomes wrathful at this (action). Abu Dawud said: This tradition has been narrated only by Ikrimah bin Ammar.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا دو آدمی قضائے حاجت ( پیشاب و پاخانہ ) کے وقت شرمگاہ کھولے ہوئے آپس میں باتیں نہ کریں کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث کو عکرمہ بن عمار کے علاوہ کسی اور نے مسنداً ( مرفوعاً ) روایت نہیں کیا ہے۔
سفیان بن عبداللہ ثقفی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! مجھے اسلام کے متعلق کوئی ایسی بات بتائیں کہ میں اس کے متعلق آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں ، اور ایک روایت میں ہے ۔ آپ کے سوا کسی سے نہ پوچھوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کہو میں اللہ پر ایمان لایا ۔ پھر ثابت قدم ہو جاؤ ۔‘‘ رواہ مسلم
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Do not prevent the female slaves of Allah from praying in the mosque. A son of his said: We will indeed prevent them! He got very angry and said: I tell you a Hadith from the Messenger of Allah (ﷺ) and you say, we will indeed prevent them?!
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ کی بندیوں ( عورتوں ) کو مسجد میں نماز پڑھنے سے نہ روکو ، تو ان کے ایک بیٹے نے ان سے کہا: ہم تو انہیں ضرور روکیں گے، یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہما سخت ناراض ہوئے اور بولے: میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے.
They said to Salman رضی الله عنہ , 'Your Prophet taught you about everything, even defecating?' So Salman رضی الله عنہ said, 'Yes. He prohibited us from facing the Qiblah when defecating and urinating, performing Istinja with the right hand, using less than three stones for Istinja, and using dung or bones for Istinja."
[Abu Eisa said:] There are narrations on this topic from 'Aisha, Khuzaimah bin Thabit, Jabir, and Khallad bin As-Sa'ib from his father.
Abu 'Eisa said: The Hadith of Salman [on this topic] is a Hasan Sahih Hadith.
It is the saying of most of the people of knowledge among the Companions of the prophet and those after them: They see that Istinja' with stones is enough, even if one does not use water for Istinja', when it removes the traces of defecation and urine. This is the saying of Ath-Thawri, Ibn Al-Mubarak, Ash-Shaf'i Ahmad, and Ishaq.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
سلمان فارسی رضی الله عنہ سے بطور طنز یہ بات کہی گئی کہ تمہارے نبی نے تمہیں ساری چیزیں سکھائی ہیں حتیٰ کہ پیشاب پاخانہ کرنا بھی، تو سلمان فارسی رضی الله عنہ نے بطور فخر کہا: ہاں، ایسا ہی ہے ہمارے نبی نے ہمیں پیشاب پاخانہ کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنے، داہنے ہاتھ سے استنجاء کرنے، اور تین پتھر سے کم سے استنجاء کرنے، اور گوبر اور ہڈی سے استنجاء کرنے سے ہمیں منع فرمایا ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عائشہ، خزیمہ بن ثابت جابر اور خلاد بن السائب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- سلمان رضی الله عنہ کی حدیث اس باب میں حسن صحیح ہے، ۳- صحابہ و تابعین میں سے اکثر اہل علم کا یہی قول ہے کہ پتھر سے استنجاء کر لینا کافی ہے جب وہ پاخانہ اور پیشاب کے اثر کو زائل و پاک کر دے اگرچہ پانی سے استنجاء نہ کیا گیا ہو، یہی قول ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی ہے۔
A man passed by the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم while he was urinating, and saluted him. The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم did not return the salutation to him. Abu Dawud said: It is narrated on the authority of Ibn Umar that the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم performed tayammum, then he returned the salutation to the man.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن ) پیشاب کر رہے تھے ( کہ اسی حالت میں ) ایک شخص آپ کے پاس سے گزرا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن عمر وغیرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کیا، پھر اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔
It was narrated that 'Abdur-Rahman bin Abi Qurad said: I went out with the Messenger of Allah (ﷺ) to an isolated area, and when he wanted to relieve himself he moved far away.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قضائے حاجت کے لیے نکلا، اور آپ جب قضائے حاجت کا ارادہ فرماتے تو دور جاتے ۱؎۔
طلحہ بن عبیداللہؓ بیان کرتے ہیں اہل نجد سے پریشان حال بکھرے بالوں والا ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم اس کی آواز کی گنگناہٹ سن رہے تھے لیکن ہم اس کی بات نہیں سمجھ رہے تھے حتیٰ کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہوا ، اور وہ اسلام کے متعلق پوچھنے لگا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دن اور رات میں پانچ نمازیں ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، کیا ان کے علاوہ بھی کوئی چیز مجھ پر فرض ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، مگر یہ کہ تم نفل پڑھو ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔’’ اور ماہ رمضان کے روزے ۔‘‘ اس نے پوچھا : کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی چیز لازم ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، الا یہ کہ تم نفلی روزہ رکھو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے زکوۃ کے متعلق بتایا تو اس نے کہا : کیا اس کے علاوہ مجھ پر کوئی چیز فرض ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہیں ، الا یہ کہ تم نفلی صدقہ کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : وہ آدمی یہ کہتے ہوئے واپس چلا گیا : اللہ کی قسم ! میں اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں کروں گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔’’ اگر اس نے سچ کہا ہے تو وہ کامیاب ہو گیا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۴۶) و مسلم