Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I saw near the Ka'bah a man of fair complexion with straight hair, placing his hands on two persons. Water was flowing from his head or it was trickling from his head. I asked: Who is he? They said: He is Jesus son of Mary or al-Masih son of Mary. The narrator) says: I do not remember which word it was. He (the Holy Prophet) said: And I saw behind him a man with red complexion and thick curly hair, blind in the right eye. I saw in him the greatest resemblance with Ibn Qitan I asked: Who is he? They replied: It is al-Masih al-Dajjal.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے کعبہ کے پاس ایک گندم گوں ، سر کے سیدھے کھلے بالوں والے آدمی کو دیکھا جو اپنے دونوں ہاتھ دو آدمیوں پر رکھے ہوئے تھا ، اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا ( یا اس کے سر سے پانی کے قطرے گر رہے تھے ) میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ تو انہوں ( جواب دینے والوں ) نے کہا : عیسیٰ ابن مریم یا مسیح ابن مریم ( راوی کو یاد نہ تھا کہ ( دونوں میں سے ) کو ن سالفظ کہا تھا ) او ران کے پیچھے میں نے ایک آدمی دیکھا : سرخ رنگ کا ، سر کےبال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا ، میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ، ان میں سب سے زیادہ ابن قطن اس کے مشابہ ہے ۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا : مسیح دجال ہے ۔ ‘ ‘
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When the Quraish belied me, I was staying in Hatim and Allah lifted before me Bait-ul-Maqdis and I began to narrate to them (the Quraish of Mecca) its signs while I was in fact looking at it.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب قریش نے مجھے جھٹلایا ، میں نے حجر ( حطیم ) میں کھڑا ہو گیا ، اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس میرے سامنے اچھی طرح نمایاں کر دیا اور میں نے اسے دیکھ کر اس کی نشانیاں ان کو بتانی شروع کر دیں ۔ ‘ ‘
He heard from the Messenger of Allah (ﷺ) say: I was sleeping when I saw myself making circuit around the Ka'bah, and I saw there a man of fair complexion with straight hair between two men. Water was flowing from his head or water was falling from his head. I said: Who is he? They answered: He is the son of Mary. Then I moved forward and cast a glance and there was a bulky man of red complexion with thick locks of hair on his head, blind of one eye as it his eye was a swollen grape. I asked: Who is he? They said: He is Dajjal. He had close resemblance with Ibn Qatan amongst men.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جب میں نیند میں تھا ، میں نے اپنے آپ کو کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور دیکھا کہ ایک آدمی ہے جس کا رنگ گندمی ہے ، بال سیدھے ہیں ، اور دو آدمیٔن کے درمیان ہے ، اس کا سر پانی ٹپکا رہا ہے ( یا اس کا سر پانی گرا رہا ہے ) میں نے پوچھا : یہ کون ہیں ؟ ( جواب دینے والوں نے ) کہا : یہ ابن مریم ہیں ۔ پہر میں دیکھتا گیا تو اچانک ایک سرخ رنگ کا آدمی ( سامنے ) تھا ، جسم کا بھاری ، سر کے بال گھنگریالے ، آنکھ کانی ، جیسے ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو ، میں نے پوچھا : یہ کو ن ہے ؟ انہوں نے کہا : دجال ہے ، لوگوں میں اس کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن ہے ۔ ‘ ‘
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I found myself in Hijr and the Quraish were asking me about my might journey. I was asked about things pertaining to Bait-ul-Maqdis which I could not preserve (in my mind). I was very much vexed, so vexed as I had never been before. Then Allah raised it (Bait-ul-Maqdis) before my eyes. I looked towards it, and I gave them the information about whatever they questioned me I also saw myself among the group of apostles. I saw Moses saying prayer and found him to be a well-built man as if he was a man of the tribe of Shanu'a. I saw Jesus son of Mary (peace be upon him) offering prayer, of all of men he had the closest resemblance with 'Urwa b. Masu'd al-Thaqafi. I saw Ibrahim (peace be upon him) offering prayer; he had the closest resemblance with your companion (the Prophet himself) amongst people. When the time of prayer came I led them. When I completed the prayer, someone said: Here is Malik, the keeper of the Hell; pay him salutations. I turned to him, but he preceded me in salutation.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ میں نے اپنے آپ کو حجر ( حطیم ) میں دیکھا ، قریش مجھ سے میرے رات کے سفر کے بارے میں سوال کر رہے تھے ، انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ چیزوں کےبارے میں پوچھا جو میں نے غور سے نہ دیکھی تھیں ، میں اس قدر پریشانی میں مبتلا ہواکہ کبھی اتنا پریشان نہ ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اس پر اللہ تعالیٰ نے اس ( بیت المقدس ) اٹھا کر میرے سامنے کر دیا میں اس کی طرف دیکھ رہاتھا ، وہ مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی پوچھتے ، میں انہیں بتا دیتا ۔ اور میں نے خود کو انبیاء کی ایک جماعت میں دیکھا تو وہاں موسیٰ علیہ السلام تھے کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے تھے ، جیسے قبیلہ شنوءہ کے آدمیوں میں سے ایک ہوں ۔ اور عیسیٰ ابن مریم ( رضی اللہ عنہ ) کو دیکھا ، وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ اور ( وہاں ) ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز پڑھ رہے تھے ، لوگوں میں سب سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں ، آپ نے اپنی ذلت مراد لی ، پھر نماز کا وقت ہو گیا تو میں نے ان سب کی امامت کی ۔ جب میں نماز سے فارغ ہو ا تو ایک کہنے والے نے کہا : اے محمد! یہ مالک ہیں ، جہنم کے داروغے ، انہیں سلام کہیے : میں ان کی طرف متوجہ ہوا تو انہوں نے پہل کر کے مجھےسلام کیا ۔ ‘ ‘
When the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was taken for the Night journey, he was taken to Sidrat-ul-Muntaha, which is situated on the sixth heaven, where terminates everything that ascends from the earth and is held there, and where terminates every- thing that descends from above it and is held there. (It is with reference to this that) Allah said: When that which covers covered the lote-tree (al-Qur'an, Iiii. 16). He (the narrator) said: (It was) gold moths. He (the narrator further) said: The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was given three (things): he was given five prayers, be was given the concluding verses of Sura al-Baqara, and remission of serious Sins for those among his Ummah who associate not anything with Allah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب رسول اللہ ﷺ کو ’’اسراء ‘ ‘ کروایا گیا تو آپ کوسدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا ، وہ چھٹے آسمان پر ہے ، ( جبکہ اس کی شاخیں ساتویں آسمان کے اوپر ہیں ) وہ سب چیزیں جنہیں زمین سے اوپر لے جایا جاتا ہے ، اس تک پہنچتی ہیں اوروہاں سے انہیں لے لیا جاتا ہے اور وہ چیزیں جنہیں اوپر سے نیچے لایا جاتا ہے ، وہاں پہنچتی ہیں اور وہیں سے انہیں وصول کر لیا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ جب ڈھانپ لیا ، سدرہ ( بیری کے درخت ) کو جس چیز نے ڈھانپا ۔ ‘ ‘ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : سونے کےپتنگوں نے ۔ اور کہا : پھر رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں : پانچ نمازیں عطا کی گئیں ، سورۃ بقرہ کی آخری آیات عطا کی گئیں اور آپ کی امت کے ( ایسے ) لوگوں کے ( جنہوں نے اللہ کے ساتھ شرک نہیں کیا ) جہنم میں پہنچانے والے ( بڑے بڑے ) گناہ معاف کر دیے گئے ۔
I asked Zirr bin Hubaish about the words of Allah (the Mighty and Great): So he was (at a distance) of two bows or nearer (al-Qur'an, Iiii 8). He said: Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ informed me that, verily, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw Gabriel and he had six hundred wings.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے زربن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں سوال کیا : ’’وہ دو کمان کے برابر فاصلے پر تھے یا اس سے بھی زیادہ قریب تھے ۔ ‘ ‘ زر نے کہا : مجھے عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےخبر دی کہ رسو ل اللہﷺنےجبریل علیہ السلام کو دیکھا ، ان کے چھ سو پر تھے ۔
The heart belied not what he saw (al-Qur'an, Iiii. 11) and Certainly he saw Him in another descent (al-Qur'an, Iiii. 13) imply that he saw him twice with his heart.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے آیت : ﴿مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى﴾ ’’جھوٹ نہ دیکھا دل نے جو دیکھا ‘ ‘ اور ﴿وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَى﴾ ’’اور آپ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا ‘ ‘ ( کےبارے میں ) کہا : رسول ا للہ ﷺ نے اسے ( رب تعالیٰ کو ) اپنے دل دو بار دیکھا ۔
Narrator: مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا,اسماعیل بن ابراہیم نے داود سے ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا
It is narrated on the authority of Masruq that he said: I was resting at (the house of) 'A'isha that she said: O Abu 'A'isha (kunya of Masruq), there are three things, and he who affirmed even one of them fabricated the greatest lie against Allah. I asked that they were. She said: He who presumed that Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saw his Lord (with his ocular vision) fabricated the greatest lie against Allah. I was reclining but then sat up and said: Mother of the Faithful, wait a bit and do not be in a haste. Has not Allah (Mighty and Majestic) said: And truly he saw him on the clear horizon (Al-Qur'an, Surat at-Takwir, 81:23) and he saw Him in another descent (Al-Qur'an, Surat Najm 53:13)? She said: I am the first of this Ummah who asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about it, and he said: Verily he is Gabriel. I have never seen him in his original form in which he was created except on those two occasions (to which these verses refer); I saw him descending from the heaven and filling (the space) from the sky to the earth with the greatness of his bodily structure. She said: Have you not heard Allah saying: Eyes comprehend Him not, but He comprehends (all) vision. and He is Subtle, and All-Aware (Al-Qur'an, Surat al-An`am 6:103)? (She, i.e. 'A'isha, further said): Have you not heard that, verily, Allah says: And it is not for any human being that Allah should speak to him except by revelation or from behind a partition or that He sends a messenger to reveal, by His permission, what He wills. Indeed, He is Most High and Wise. (Al-Qur'an, Surat ash-Shura, 42:51) She said: He who presumes that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) concealed anything from the Book of Allah fabricates the greatest lie against Allah. Allah says: O Messenger, announce that which has been revealed to you from your Lord, and if you do not, then you have not conveyed His message. And Allah will protect you from the people. Indeed, Allah does not guide the disbelieving people. (Al-Qur'an, Surat al-Ma'idah, 5:67). She said: He who presumes that he would inform about what was going to happen tomorrow fabricates the greatest lie against Allah. And Allah says Say, 'None in the heavens and earth knows the unseen except Allah , and they do not perceive when they will be resurrected.' (Al-Qur'an, Surat an-Naml, 27:65).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں ٹیک لگائے ہوئے بیٹھا تھا کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ابو عائشہ ! ( یہ مسروق کی کنیت ہے ) تین چیزیں ہیں جس نے ان میں سے کوئی بات کہی ، اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ، میں نے پوچھا : وہ باتیں کون سی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : جس نے یہ گمان کیا کہ محمدﷺ نے اپنےرب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا ۔ انہوں نےکہا : میں ٹیک لگائے ہوئے تھا تو ( یہ بات سنتے ہی ) سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور کہا : ام المومنین !مجھے ( بات کرنے کا ) موقع دیجیے اور جلدی نہ کیجیے ، کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا : ’’ بےشک انہوں نے اسے روشن کنارے پر دیکھا ‘ ‘ ( اسی طرح ) ’’اور آپ ﷺ نے اسے ایک بار اترتے ہوئے دیکھا ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں اس امت میں سب سے پہلی ہوں جس نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سےسوال کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ وہ یقیناً جبرئیل ہیں ، میں انہیں اس شکل میں ، جس میں پیدا کیے گئے ، دو دفعہ کے علاوہ کبھی نہیں دیکھا : ایک دفعہ میں نے انہیں آسمان سے اترتے دیکھا ، ان کے وجود کی بڑائی نے آسمان و زمین کےدرمیان کی وسعت کو بھر دیا تھا ‘ ‘ پھر ام المومنین نے فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا : ’’ آنکھیں اس کا ادراک نہیں کر سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرتا ہے اور وہ باریک بین ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے ‘ ‘ اور کیا تم نے یہ نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ اور کسی بشر میں طاقت نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کی اوٹ سے یا وہ کسی پیغام لانےوالا ( فرشتے ) کو بھیجے تو وہ اس کے حکم سے جو چاہے وحی کرے بلاشبہ وہ بہت بلند اوردانا ہے ۔ ‘ ‘ ( ام المومنین نے ) فرمایا : جوشخص یہ سمجھتا ہے کہ رسول ا للہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں سے کچھ چھپا لیا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا بہتان باندھا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’اے رسول ! پہنچا دیجیے جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا اور اگر ( بالفرض ) آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ نے اس کا پیغام نہ پہنچایا ( فریضئہ رسالت ادا نہ کیا ۔ ) ‘ ‘ ( اور ) انہوں نے فرمایا : اور جوشخص یہ کہے کہ آپ اس بات کی خبر دے دیتے ہیں کہ کل کیا ہو گا تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا ، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ ( اے نبی! ) فرما دیجیے ! کوئی ایک بھی جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، غیب نہیں جانتا ، سوائے اللہ کے ۔ ‘ ‘
She ('A'isha) said: If Muhammad were to conceal anything which was sent to him, he would have certainly concealed this verse: And when thou saidst to him on whom Allah had conferred favour and thou too had conferred favour: Keep thy wife to thyself and fear Allah, and thou wast concealing in thy heart that which Allah was going to disclose, and thou wast fearing men while Allah has a better right that thou shouldest fear Him.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
( حضرت عائشہؓ نے ) فرمایا : اگر محمدﷺ کسی ایک چیز کو جو آپ پر نازل کی گئی ، چھپانے والے ہوتے ، تو آپ یہ آیت چھپا لیتے : ’’ اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام فرمایا اور آپ نے ( بھی ) انعام فرمایا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس روکے رکھو اور اللہ سے ڈرو اور آپ اپنے جی میں وہ ہر چیز چھپا رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا ، آپ لوگوں ( کےطعن و تشنیع ) سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ ہی سب سے زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں ۔ ‘ ‘
I asked 'A'isha if Muhammad ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had seen his Lord. She replied: Hallowed be Allah, my hair stood on end when you said this, and he (Masruq) narrated the hadith as narrated above. The hadith reported by Diwud is more complete and longer.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا محمدﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ؟ انہوں نے کہا : سبحان اللہ ! جو تم نے کہا اس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے ہیں ۔ پھر ( اسماعیل نے ) پورے قصے سمیت حدیث بیان کی لیکن داود کی روایت زیادہ کامل اور طویل ہے ۔
I said to 'A'isha: What about the words of Allah: Then he drew nigh and came down, so he was at a distance of two bows or closer still: so He revealed to His servant what He revealed (al-Qur'an, liii. 8-10)? She said: It implies Gabriel. He used to come to him (the Holy Prophet) in the shape of men; but he came at this time in his true form and blocked up the horizon of the sky.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نےحضرت عائشہ ؓ سے عرض کی : اللہ تعالیٰ کے اس قول کا کیا مطلب ہو گا : ’’ پھر وہ قریب ہوا اور اتر آیا اور د وکمانوں کے برابر یا اس سے کم فاصلے پر تھا ، پھر اس نے اس کے بندے کی طرف وحی کی جو وحی کی ؟ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : وہ تو جبریل تھے ، وہ ہمیشہ آپ کے پاس انسانوں کی شکل میں آتے تھے اور اس دفعہ وہ آپ کے پاس اپنی اصل شکل میں آئے اور انہوں نے آسمان کے افق کو بھر دیا ۔
I said to Abu Dharr رضی اللہ عنہ : Had I seen the Messenger of Allah, I would have asked him. He (Abu Dharr) said: What is that thing that you wanted to inquire of him? He said: I wanted to ask him whether he had seen his Lord. Abu Dharr رضی اللہ عنہ said: I, in fact, inquired of him, and he replied: I saw Light.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نےابو ذر رضی اللہ عنہ سے کہا : اگرمیں رسول اللہ ﷺ کو دیکھتا تو آپ سے سوال کرتا ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا : تم ان کس چیز کے بارے میں سوال کرتے ؟ عبد اللہ بن شقیق نے کہا : میں آپ ﷺ سے سوال کرتا کہ کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے آپ سے ( یہی ) سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایاتھا : ’’ میں نے نور دیکھا ۔ ‘ ‘
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was standing amongst us and he told us five things. He said: Verily the Exalted and Mighty God does not sleep, and it does not befit Him to sleep. He lowers the scale and lifts it. The deeds in the night are taken up to Him before the deeds of the day, and the deeds of the day before the deeds of the night. His veil is the light. In the hadith narrated by Abu Bakr (instead of the word light ) it is fire. If he withdraws it (the veil), the splendour of His countenance would consume His creation so far as His sight reaches.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسو ل اللہ ﷺ نے ہمارے درمیان کھڑے ہو کر پانچ باتوں پر مشتمل خطبہ دیا ، فرمایا : ’’بےشک اللہ تعالیٰ سوتا نہیں اور نہ سونا اس کے شایان شان ہے ، وہ میزان کے پلڑوں کو جھکاتا اور اوپر اٹھاتا ہے ، رات کے اعمال دن کے اعمال سے پہلے اور دن کے اعمال رات سے پہلے اس کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں ، اس کا پردہ نور ہے ( ابو بکر کی روایت میں نور کی جگہ نار ہے ) اگر وہ اس ( پردے ) کو کھول دے تو اس کے چہرے کے انوار جہاں تک اس کی نگاہ پہنچے اس کی مخلوق کو جلا ڈالیں ۔ ‘ ‘ ابو بکر کی روایت میں ہے : ’’ اعمش سے روایت ہے ، ‘ ‘ یہ نہیں کہا : ’’ اعمش نےہمیں حدیث سنائی.
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was standing amongst us and he told us four things. He then narrated the hadith like the one reported by Abu Mua'wiya, but did not mention the words His creation and said: His veil is the light.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہو کر چار باتوں پر مشتمل خطبہ دیا ..... پھر جریر نے ابو معاویہ کی حدیث کی طرح بیان کیا اور ’’مخلوقات کو جلا ڈالے ‘ ‘ کے الفاظ ذکر نہیں کیے اور کہا : اس کا پردہ نور ہے ۔ ‘ ‘