Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Sunan Abi Dawud • Purification (Kitab Al-Taharah) • Hadith 329
I and Abdullah bin Yasar, the freed slave of Maimunah, wife of the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, came and entered upon Abu al-Juhaim bin al-Harith bin al-Simmat al-Ansari رضی اللہ عنہ. Abu al-Juhaim said: The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came from Bir Jamal (a place near Madina) and a man met him and saluted him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not return the salutation until he came to a wall and wiped his face and hands and then returned the salutation (i.e. after performing tayammum).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ بن یسار دونوں ابوجہیم بن حارث بن صمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو ابوجہیم نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بئرجمل ( مدینے کے قریب ایک جگہ کا نام ) کی طرف سے تشریف لائے تو ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور اس نے آپ کو سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ آپ ایک دیوار کے پاس آئے اور آپ نے ( دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مار کر ) اپنے منہ اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا۔
When it was revealed to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): To Allah belongs whatever is in the heavens and whatever is in the earth and whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it. Then He forgives whom He pleases and chastises whom He Pleases; and Allah is over everything Potent (ii. 284). the Companions of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) felt it hard and severe and they came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and sat down on their knees and said: Messenger of Allah, we were assigned some duties which were within our power to perform, such as prayer, fasting, struggling (in the cause of Allah), charity. Then this (the above-mentioned) verse was revealed unto you and it is beyond our power to live up to it. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do you intend to say what the people of two books (Jews and Christians) said before you: We hear and disobey ? You should rather say: We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return. And they said: We hear and we obey, (we seek) Thy forgiveness, Our Lord! and unto Thee is the return. When the people recited it and it smoothly flowed on their tongues, then Allah revealed immediately afterwards: The Apostle believes in that which is sent down unto him from his Lord, and so do the believers. Each one believes in Allah and His Angels and His Books and His Apostles, saying: We differentiate not between any of His Apostles and they say: We hearken and we obey: (we seek) Thy forgiveness, our Lord! and unto Thee is the return (ii. 285). When they did that, Allah abrogated this (verse) and the Great, Majestic Allah revealed: Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, punish us not if we forget or make a mistake. (The Prophet said: ) Yes, our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. (The Prophet said: ) Yes, our Lord, impose not on us (burdens) which we have not the strength to bear (The Prophet said: ) Yes, and pardon us and grant us protection! and have mercy on us. Thou art our Patron, so grant us victory over the disbelieving people (ii. 286). He (the Lord) said: Yes.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت اتری : ’’ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، اللہ ہی کا ہے اور تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ تعالیٰ اس پر تمہارا محاسبہ کرے گا ، پھر جسے چاہے گا بخش دے گا اور جسے چاہے گا عذاب دے گا اور ا للہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ ‘ ‘ تو رسول اللہ ﷺ سے ساتھیوں پر یہ بات انتہائی گراں گزری ۔ کہا : وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! ( پہلے ) ہمیں ایسے اعمال کا پابند کیا گیا جو ہماری طاقت میں ہیں : نماز ، روزہ ، جہاد اور صدقہ او راب آپ پر یہ آیت اتری ہے جس کی ہم طاقت نہیں رکھتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم وہی بات کہنا چاہتے ہو جو تم سے پہلے دونوں اہل کتاب نے کہی : ہم نے سنا اور نافرمانی کی ! بلکہ تم کہو : ہم نے سنا اور اطاعت کی ۔ اے ہمارے رب ! تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹنا ہے ۔ ‘ ‘ جب صحابہ نے یہ الفاظ دہرانے لگے اور ان کی زبانیں ان الفاظ پر رواں ہو گئیں ، تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری : ’’رسو ل اللہ ﷺ اس ( ہدایت ) پر ایمان لائے جوان کے رب کی طرف ان پر نازل کی گئی اور سارے مومن بھی ۔ سب ایمان لائے اللہ پر ، اس کے فرشتوں پر ، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ، ( اورکہا : ) ہم ( ایمان لانے میں ) اس کے رسولوں کے درمیان فرق نہیں کرتے اور انہوں نے کہا : ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ، اے ہمارے رب !تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ جب انہوں نے یہ ( مان کر اس پر عمل ) کیا تو اللہ عزوجل نےاس آیت ( کے ابتدائی معنی ) منسوخ کرتے ہوئے یہ آیت نازل فرمائی : ’’ اللہ کسی شخص پر اس کی طاق سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اس نے جو ( نیکی ) کمائی اورجو ( برائی ) کمائی ( اس کا وبال ) اسی پر ہے ، اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا ہم خطا کریں تو ہمارا مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔ ( انہوں نے کہا : ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! اور ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ان لوگوں پر ڈالا جوہم سے پہلے ( گزر چکے ) ہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں! ( پھر کہا : ) ’’اے ہمارے رب ! ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ! ( پھر کہا : ) ’’ او رہم سےدرگزر فرما اور ہمیں بخشش دے اور ہم پر مہربانی فرما ۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے ، پس تو کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد فرما ۔ ‘ ‘ ( اللہ نے ) فرمایا : ہاں ۔
I went to Ibn Abbas رضی اللہ عنہما for a certain work. He (Ibn Abbas رضی اللہ عنہما ) narrated a tradition saying: A man passed by the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم in a street, while he returned from the toilet or just urinated. He (the man) saluted him, but the Prophet did not return the salutation. When the man was about to disappear (from sight) in the street he struck the wall with both his hands and wiped his face with them. He then struck another stroke and wipes his arms. He then returned the man's salutation. Then he said: I did not return the salutation to you because I was not purified. Abu Dawud said: I heard Ahmad bin Hanbal say: Muhammad bin Thabit reported a rejected tradition. Ibn Dasah said: Abu Dawud said: No one supported Muhammad bin Thabit in respect of narrating this tradition as to striking the wall twice (for wiping) from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, but reported it as an action of Ibn Umar رضی اللہ عنہما .
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں کسی ضرورت کے تحت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی ضرورت پوری کی اور اس دن ان کی گفتگو میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ایک آدمی ایک گلی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہو کر گزرا اور آپ ( ابھی ) پاخانہ یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے کہ اس آدمی نے سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ جب وہ شخص گلی میں آپ کی نظروں سے اوجھل ہو جانے کے قریب ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور انہیں اپنے چہرے پر پھیرا، پھر دوسری بار اپنے دونوں ہاتھ دیوار پر مارے اور اس سے دونوں ہاتھوں کا مسح کیا پھر اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: مجھے تیرے سلام کا جواب دینے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے اس کے کہ میں پاکی کی حالت میں نہیں تھا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد بن حنبل کو کہتے سنا کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے باب میں ایک منکر حدیث روایت کی ہے۔ ابن داسہ کہتے ہیں کہ ابوداؤد نے کہا ہے کہ اس قصے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دو ضربہ پر محمد بن ثابت کی متابعت ( موافقت ) نہیں کی گئی ہے، صرف انہوں نے ہی دو ضربہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل قرار دیا ہے، ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل روایت کیا ہے۔
When this verse: Whether you disclose that which is in your mind or conceal it, Allah will call you to account according to it (ii 284), there entered in their minds something (of that fear) such as had never entered their hearts (before). The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم) observed: Say: We have heard and obeyed and submitted ourselves. He (the reporter) said: Allah instilled faith in their hearts and He revealed this verse: Allah burdens not a soul beyond its capacity. It gets every good that it earns and it suffers every ill that it earns. Our Lord, call us not to account if we forget or make a mistake. He the (Lord) said: I indeed did it. Our Lord! do not lay on us a burden as Thou didst lay on those before us. He (our Lord) said: I indeed did it. And pardon us, have mercy on us. Thou art our Protector (ii. 286). He said: I indeed did it.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے ، اس کو ظاہر کر دیا چھپاؤ ، اللہ اس پر تمہارا مؤاخذہ کرے گا ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس سے صحابہ کے دلوں میں ایک چیز ( شدید خوف کی کیفیت کہ احکام الہٰی کے اس تقاضے پر عمل نہ ہو سکے گا ) در آئی جو کسی اور بات سے نہیں آئی تھی ۔ تب نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ کہو : ہم نے سنا او رہم نے اطاعت کی او رہم نے تسلیم کیا ۔ ‘ ‘ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس پر اللہ تعالیٰ کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا ۔ اسی کے لیے ہے جو اس نے کمایا اور اسی پر ( وبال ) پڑتا ہے ( اسی پر برائی کا ) جس کا اس نے ارتکاب کیا ۔ اے ہمارے رب ! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہماری مؤاخذہ نہ کرنا ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔ ’’ اے ہمارے رب ! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈال جیسا کہ تو ان لوگوں پر ڈالا جو ہم سے پہلے تھے ۔ ‘ ‘ فرمایا : میں ایسا کر دیا ۔ ’’ہمیں بخش دے او رہم پر رحم فرما ، تو ہی ہمارا مولیٰ ہے ۔ ‘ ‘ اللہ نے فرمایا : میں نے ایسا کر دیا ۔
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم came from the privy. A man met him near Bir Jamal and saluted him. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم did not return the salutation until he came to a wall and placed his hands on the wall and wiped his face and hands; he then returned the man's salutation.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پاخانہ سے فارغ ہو کر آئے تو بئر جمل کے پاس ایک آدمی کی ملاقات آپ سے ہو گئی، اس نے آپ کو سلام کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ ایک دیوار کے پاس آئے اور اپنے دونوں ہاتھوں کو دیوار پر مارا پھر اپنے چہرے اور دونوں ہاتھوں کا مسح کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے سلام کا جواب دیا۔
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: Verily Allah forgave my people the evil promptings which arise within their hearts as long as they did not speak about them or did not act upon them.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول ا للہﷺ نے فرمایا : ’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ ( دل میں ) اپنے آپ سے کریں : جب تک وہ ان کو زبان پر نہ لائیں یا ان پر عمل نہ کریں ۔ ‘ ‘
A few goats got collected with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Abu Dharr, drive them to the wood. I drove them to Rabadhah (a place near Madina). I would have sexual defilement (during my stay there) and I would remain (in this condition) for five or six days. Then I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: O Abu Dharr. I kept silence. He then said: May your mother bereave you, Abu Dharr: woe be to your mother. He then called a black slave-girl for me. She brought a vessel which contained water. She then concealed me by drawing a curtain and I concealed myself behind a she-camel, and took a bath. I felt as if I had thrown away a mountain from me. He said: Clean earth is a means for ablution for a Muslim, even for ten years (he does not find water); but when you find water, you should make it touch your skin, for that is better. The version of Musaddad has: the goats (were collected) from the alms, and the tradition reported by Amr is complete.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابوذر! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ ، چنانچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ نے فرمایا: ابوذر! ، میں خاموش رہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہاری ماں تم پر روئے، ابوذر! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ۱؎ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور ( دوسری طرف سے ) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، ( غسل کر کے مجھے ایسا لگا ) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ( کے پانی کے حکم میں ) ہے، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو، اس لیے کہ یہ بہتر ہے ۔ مسدد کی روایت میں «غنيمة من الصدقة» کے الفاظ ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عمرو کی روایت زیادہ کامل ہے۔
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: Verily the Great and Mighty Allah forgave my people the evil promptings arising in their minds, but they neither talked about them nor acted upon them.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کی ان باتوں سے درگزر فرمایا ہے جو وہ دل میں اپنے آپ سے کریں ، جب تک اس پر عمل یا کلام نہ کریں ۔ ‘ ‘
A man from Banu Amir said: I embraced Islam and my (ignorance of the) religion made me anxious (to learn the essentials). I came to Abu Dharr رضی اللہ عنہ . Abu Dharr said: The climate of Madina did not suit me. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم ordered me to have a few camels and goats. He said to me: Drink their milk. (The narrator Hammad said): I doubt whether he (the Prophet) said: their urine. Abu Dharr رضی اللہ عنہ said: I was away from the watering place and I had my family with me. I would have sexual defilement and pray without purification. I came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم at noon. He was resting in the shade of the mosque along with a group of Companions. He (the Prophet) said: Abu Dharr رضی اللہ عنہ . I said: Yes, I am ruined, Messenger of Allah. He said: What ruined you ? I said: I was away from the watering place and I had family with me. I used to be sexually defiled and pray without purification. He commanded (to bring) water for me. Then a black slave-girl brought a vessel of water that was shaking as the vessel was not full. I concealed myself behind a camel and took bath and them came (to the Prophet). The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم said: Abu Dharr رضی اللہ عنہ , clean earth is a means of ablution, even if you do not find water for ten years. When you find water, you should make it touch your skin. Abu Dawud said: This is transmitted by Hammad bin Zaid from Ayyub. This version does not mention the words their urine. This is not correct. The words their urine occur only in the version reported by Anas رضی اللہ عنہ and transmitted only by the people of Basrah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
وہ قبیلہ بنی عامر کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو مجھے اپنا دین سیکھنے کی فکر لاحق ہوئی لہٰذا میں ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے کہا: مجھے مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کچھ اونٹ اور بکریاں دینے کا حکم دیا اور مجھ سے فرمایا: تم ان کا دودھ پیو ، ( حماد کا بیان ہے کہ مجھے شک ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیشاب بھی پینے کے لیے کہا یا نہیں، یہ حماد کا قول ہے ) ، پھر ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پانی سے ( اکثر ) دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی بھی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دوپہر کے وقت آیا، آپ صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد کے سائے میں ( بیٹھے ) تھے، آپ نے فرمایا: ابوذر؟ ، میں نے کہا: جی، اللہ کے رسول! میں تو ہلاک و برباد ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کس چیز نے تمہیں ہلاک و برباد کیا؟ ، میں نے کہا: میں پانی سے دور رہا کرتا تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، مجھے جنابت لاحق ہوتی تو میں بغیر طہارت کے نماز پڑھ لیتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، چنانچہ ایک کالی لونڈی بڑے برتن میں پانی لے کر آئی جو برتن میں ہل رہا تھا، برتن بھرا ہوا نہیں تھا، پھر میں نے اپنے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا، پھر آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تم دس سال تک پانی نہ پاؤ، لیکن جب تمہیں پانی مل جائے تو اسے اپنی کھال پر بہاؤ ( غسل کرو ) ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے حماد بن زید نے ایوب سے روایت کیا ہے اور اس میں انہوں نے پیشاب کا ذکر نہیں کیا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ صحیح نہیں ہے اور پیشاب کا ذکر صرف انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے، جس میں اہل بصرہ منفرد ہیں۔
The same hadith has been narrated by Zuhair bin Harb, Waki, Ishaq bin Mansur, Husain bin 'Ali.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا,مسعر ، ہشام اور شیبان سب نے قتادہ سے سابقہ سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کی ۔
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہیں مسعر اور ہشام نے، اور ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، انہوں نے ذی عائدہ سے اور شعبان سے۔ تمام قتادہ کے اختیار میں، اس کے مشابہ نشریات کے سلسلے کے ساتھ۔
I had a sexual dream on a cold night in the battle of Dhat as-Salasil. I was afraid, if I washed I would die. I, therefore, performed tayammum and led my companions in the dawn prayer. They mentioned that to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. He said: Amr, you led your companions is prayer while you were sexually defiled? I informed him of the cause which impeded me from washing. And I said: I heard Allah say: Do not kill yourself, verily Allah is merciful to you. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم laughed and did not say anything. Abu Dawud said: Abdur-Rahman bin Jubair is an Egyptian and a freed slave of Kharijah bin Hudhafah. He is not Jubair bin Nufair
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
غزوہ ذات السلاسل کی ایک ٹھنڈی رات میں مجھے احتلام ہو گیا اور مجھے یہ ڈر لگا کہ اگر میں نے غسل کر لیا تو مر جاؤں گا، چنانچہ میں نے تیمم کر کے اپنے ساتھیوں کو فجر پڑھائی، تو لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: عمرو! تم نے جنابت کی حالت میں اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھائی؟ ، چنانچہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل نہ کرنے کا سبب بتایا اور کہا: میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا کہ «ولا تقتلوا أنفسكم إن الله كان بكم رحيما» ( سورۃ النساء: ۲۹ ) تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر رحم کرنے والا ہے یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسے اور آپ نے کچھ نہیں کہا۔ابوداؤد کہتے ہیں: عبدالرحمٰن بن جبیر مصری تھے، خارجہ بن حذافہ کے مؤکل تھے، اور وہ جبیر بن نفیر کے بیٹے نہیں تھے۔
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Great and the Glorious Lord said (to angels): Whenever My bondsman intends to corn it an evil, do not record it against him, but if he actually commits it, then write it as one evil. And when he intends to do good but does not do it, then take it down is one act of goodness, but if he does it, then write down ten good deeds (in his record).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ عز وجل نے فرمایا : جب میرا بندہ کسی برائی کا قصد کرے تو اس کو ( اس کے نامہ اعمال میں ) نہ لکھو ۔ اگر وہ اس کو کر گزرے تو اسے ایک برائی لکھو ۔ اور جب کسی نیکی کا قصد کرے تو اس کو ایک نیکی لکھ لو ، پھر اگر اس پر عمل کرے تو دس نیکیاں لکھو ۔ ‘ ‘
Amr bin al-As was in a battle. He then narrated the rest of the tradition. He then said: He washed his armpits and other joints where dirt was found, and he performed ablution like that for prayer. Then he led them in prayer. He then narrated the tradition in a similar way but did not mention of tayammum. Abu Dawud said: This incident has also been narrated by al-'Awzai on the authority of Hassan bin Atiyyah. This version has the words: Then he performed tayammum.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عمرو بن العاص ایک سریہ کے سردار تھے، پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی، اس میں ہے: تو انہوں نے اپنی شرمگاہ کے آس پاس کا حصہ دھویا، پھر وضو کیا جس طرح نماز کے لیے وضو کرتے ہیں پھر لوگوں کو نماز پڑھائی، آگے راوی نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی مگر اس میں تیمم کا ذکر نہیں کیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ واقعہ اوزاعی نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا ہے، اس میں «فتيمم» کے الفاظ ہیں ( یعنی انہوں نے تیمم کیا ) ۔
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: Allah, the Great and Glorious, said: Whenever my bondsman intends to do good, but does not do it, I write one good act for him, but if he puts it into practice I wrote from ten to seven hundred good deeds in favour of him. When he intends to commit an evil, but does not actually do it, do not record it. But if he does it, I write only one evil.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے کہا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد کرے اور اس کو عمل میں نہ لائے تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھوں گا ، پھر اگر وہ اسے کر لے تو میں اس کو دس سے سات سو گنا برس تک لکھوں گا اور جب میرا بندہ کسی برائی کا قصدکرے اور اس کو عمل میں نہ لائے تو اس میں اس بندے کے خلاف نہیں لکھوں گا ، پھر اگر وہ اس پر عمل کرے تو میں ایک برائی لکھوں گا ۔ ‘ ‘
We set out on a journey. One of our people was hurt by a stone, that injured his head. The then had a sexual dream. He asked his fellow travelers: Do you find a concession for me to perform tayammum? They said: We do not find any concession for you while you can use water. He took a bath and died. When we came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم, the incident was reported to him. He said: They killed him, may Allah kill them! Could they not ask when they did not know ? The fire of ignorance is inquiry. It was enough for him to perform tayammum and to our some drops of water or bind a bandage over the wound (the narrator Musa was doubtful); then he should have wiped over it and washed the rest of his body.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ہم ایک سفر میں نکلے، تو ہم میں سے ایک شخص کو ایک پتھر لگا، جس سے اس کا سر پھٹ گیا، پھر اسے احتلام ہو گیا تو اس نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا: کیا تم لوگ میرے لیے تیمم کی رخصت پاتے ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم تمہارے لیے تیمم کی رخصت نہیں پاتے، اس لیے کہ تم پانی پر قادر ہو، چنانچہ اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، پھر جب ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس واقعہ کی خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ ان کو مارے، جب ان کو مسئلہ معلوم نہیں تھا تو انہوں نے کیوں نہیں پوچھ لیا؟ نہ جاننے کا علاج پوچھنا ہی ہے، اسے بس اتنا کافی تھا کہ تیمم کر لیتا اور اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا ( یہ شک موسیٰ کو ہوا ہے ) ، پھر اس پر مسح کر لیتا اور اپنے باقی جسم کو دھو ڈالتا ۔
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said: When it occurs to my bondsman that he should do a good deed but he actually does not do it, record one good to him, but if he puts it into practice, I make an entry of ten good acts in his favour. When it occurs to him to do evil, but he does not commit it, I forgive that. But if he commits it, I record one evil against his name. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed. The angels said: That bondsman of Yours intends to commit evil. though His Lord is more Vigilant than he. Upon this He (the Lord) said: Watch him; if he commits (evil), write it against his name but if he refrains from doing it, write one good deed or him, for he desisted from doing it for My sake. The Messenger of Allah said: He who amongst you is good of faith, all his good acts are multiplied from ten to seven hundred times (and are recorded in his name) and all the evils that he commits are recorded as such (i, e. without increase) till he meets Allah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسو ل اللہ ﷺنے بتایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ ( دل میں ) یہ بات کرتا ہے کہ وہ نیکی کرے گا تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہوں ، جب تک عمل نہ کرے ، پھر اگر اس کوعمل میں لے آئے تو میں اسے دس گناہ لکھ لیتا ہوں اور جب ( دل میں ) برائی کرنے کی بات کرتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں جب تک اس پر عمل نہ کرے ۔ جب وہ اس کو عمل میں لے آئے تو میں اسے اس کے برابر ( ایک ہی برائی ) لکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ فرشتوں نے کہا : اے رب ! یہ تیرا بندہ ہے ، برائی کرنا چاہتا ہے او راللہ اس کو خوب دیکھ رہا ہوتا ہے ، اللہ فرماتا ہے : اس پر نظر رکھو ، پس اگر وہ برائی کرے تو اس کے برابر ( ایک برائی ) لکھ لو اور اگر اس کو چھوڑ دے تو اس کے لیے اسے ایک نیکی لکھو ( کیونکہ ) اس نے میری خاطر اسے چھوڑا ہے ۔ ‘ ‘ اوررسو ل اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے ایک انسان اپنے اسلام کو خالص کر لیتا ہے تو ہر نیکی جو وہ کرتا ہے ، دس گناہ سے لے کر سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور ہر برائی جو وہ کرتا ہے ، اسے اس کے لیے ایک ہی لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملتا ہے ۔ ‘ ‘
A man was injured during the lifetime of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم; he then had a sexual dream, and he was advised to wash and he washed himself. Consequently he died. When this was reported to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم he said: They killed him; may Allah kill them! Is not inquiry the cure of ignorance?
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی کو زخم لگا، پھر اسے احتلام ہو گیا، تو اسے غسل کرنے کا حکم دیا گیا، اس نے غسل کیا تو وہ مر گیا، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ نے فرمایا: ان لوگوں نے اسے مار ڈالا، اللہ انہیں مارے، کیا لاعلمی کا علاج مسئلہ پوچھ لینا نہیں تھا؟ ۔
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: He who intended to do good, but did not do it, one good was recorded for him, and he who intended to do good and also did it, ten to seven hundred good deeds were recorded for him. And he who intended evil, but did not commit it, no entry was made against his name, but if he committed that, it was recorded.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا ، پھر اس پر عمل نہیں کیا ، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے او رجس نے کسی نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کیا ، اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں او رجس نے کسی برائی کا ارادہ کیا لیکن اس کا ارتکاب نہیں کیا تو وہ نہیں لکھی جاتی اور اگر اس کا ارتکاب کیا تو وہ لکھی جاتی ہے ۔ ‘ ‘
Two persons set out on a journey. Meanwhile the time of prayer came and they had no water. They performed tayammum with clean earth and prayed. Later on they found water within the time of the prayer. One of them repeated the prayer and ablution but the other did not repeat. Then they came to the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and related the matter to him. Addressing himself to the one who did not repeat, he said: You followed the sunnah (model behavior of the Prophet) and your (first) prayer was enough for you. He said to the one who performed ablution and repeated: For you there is the double reward. Abu Dawud said: Besides Ibn Nafi this is transmitted by al-Laith from Umairah bin Abi Najiyyah from Bakr bin Sawadah on the authority of Ata bin Yasar from the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم. Abu Dawud said: The mention of (the name of the Companion) Abu Saeed رضی اللہ عنہ in this tradition is not guarded. This is a mural tradition (i.e. the Successor Ata bin Yasar directly narrates it from the Prophet, leaving the name of the Companion in the chain. )
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
دو شخص ایک سفر میں نکلے تو نماز کا وقت آ گیا اور ان کے پاس پانی نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے پاک مٹی سے تیمم کیا اور نماز پڑھی، پھر وقت کے اندر ہی انہیں پانی مل گیا تو ان میں سے ایک نے نماز اور وضو دونوں کو دوہرایا، اور دوسرے نے نہیں دوہرایا، پھر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو ان دونوں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا جس نے نماز نہیں لوٹائی تھی: تم نے سنت کو پا لیا اور تمہاری نماز تمہیں کافی ہو گئی ، اور جس شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی تھی اس سے فرمایا: تمہارے لیے دوگنا ثواب ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن نافع کے علاوہ دوسرے لوگ اس حدیث کو لیث سے، وہ عمیر بن ابی ناجیہ سے، وہ بکر بن سوادہ سے، وہ عطاء بن یسار سے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( مرسلاً ) روایت کرتے ہیں۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا ذکر محفوظ نہیں ہے، یہ مرسل ہے۔
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) transmitted it from the Blessed and Great Lord: Verily Allah recorded the good and the evil and then made it clear that he who intended good but did not do it, Allah recorded one complete good in his favour, but if he intended it and also did it, the Glorious and Great Allah recorded ten to seven hundred virtues and even more to his credit. But it he intended evil, but did not commit it, Allah wrote down full one good in his favour. If he intended that and also committed it, Allah made an entry of one evil against him.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی ( ان احادیث میں سے جنہیں وہ رسو ل اللہ ﷺ اپنے رب عزو جل سے روایت کرتے ہیں ) آپ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نیکیاں اوربرائیاں لکھی ہیں ، پھر ان کی تفصیل بتائی ہے کہ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا ، پھر وہ نیکی نہیں کی تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ دی ۔ اور اگر نیکی کا ارادہ کیا ، پھر وہ نیکی کر ڈالی تو اللہ عزوجل نے اسے اپنے ہاں دس سے سات سو گنا ( یا ) اس سے زیادہ گنا تک لکھ لیا ۔ اور اگر اس نے برائی کا ارادہ کیا ، پھر اس کا ارتکاب نہ کیا تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھی ۔ اور اگر اس نے ( برائی کا ) ارادہ کیا اور اس کو کر ڈالا تو اللہ نے ایک برائی لکھی ۔ ‘ ‘