Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Sunan An-Nasa`i • The Book of Purification • Hadith 314
It was narrated that 'Ammar bin Yasir said: I became Junub while I was on a camel and I could not find any water, so I rolled in the dust like an animal. I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and told him about that, and he said: 'Tayammum would have been sufficient for you.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں اونٹ چرا رہا تھا کہ میں جنبی ہو گیا، اور مجھے پانی نہیں ملا، تو میں نے جانور کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ کو اس کی خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس تیمم ہی کافی تھا ۔
Aishah رضی اللہ عنہا made a mention of the women of the Ansar and admired them stating that they had obliged (all Muslims). She then said: One of their women came upon the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. She then reported the rest of the tradition to the same effect; but this version she said the words: a musk-scented piece of cloth. Musaddad said: Abu 'Awanah used the word firsah (i.e. a piece of cloth), but Abu Al-Ahwas used the word qasrah (i.e. a small piece of cloth).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے انصار کی عورتوں کا ذکر کیا تو ان کی تعریف کی اور ان کے حق میں بھلی بات کہی اور بولیں: ان میں سے ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، پھر راوی نے سابقہ مفہوم کی حدیث بیان کی، مگر اس میں انہوں نے«فرصة ممسكة» ( مشک میں بسا ہوا پھاہا ) کہا۔ مسدد کا بیان ہے کہ ابوعوانہ «فرصة» ( پھاہا ) کہتے تھے اور ابوالاحوص «قرصة» ( روئی کا ٹکڑا ) کہتے تھے۔
Narrator: This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ by another chain of transmitters in which these words are found:
Thabit bin Qais رضی اللہ عنہ was the orator of the Ansar, when this verse was revealed: the rest of the hadith is the same with the exception that there is no mention of Sa'd bin Mu'adh رضی اللہ عنہ in it.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ انصار کے خطیب تھے ۔ جب یہ آیت اتری ..... آگے حماد کی ( سابقہ ) حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کاذکر نہیں ہے ۔
It was narrated that 'Ammar said: The Messenger of Allah (ﷺ) stopped to rest at the end of the night in Uwlat Al-Jaish. His wife 'Aishah was with him and her necklace of Zifar beads [1] broke and fell. The army was detained looking for that necklace of hers until the break of the light of dawn and the people had no water with them. Abu Bakr got angry with her and said: 'You have detained the people and they do not have any water.' Then Allah the Mighty and Sublime revealed the concession allowing Tayammum with clean earth. So the Muslims got up with the Messenger of Allah (ﷺ) and struck with their hands, then they raised their hands and did not strike them together to knock off any dust, then they wiped their faces and arms up to the shoulders, and from the inner side of their of their arms up to the armpits. [1] Black and white Yemeni beads.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے پچھلے پہر اولات الجیش میں اترے، آپ کے ساتھ آپ کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، تو ان کا ظفار کے مونگوں والا ہار ٹوٹ کر گر گیا، تو ان کے اس ہار کی تلاش میں لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ فجر روشن ہو گئی، اور لوگوں کے پاس پانی بالکل نہیں تھا، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہوئے، اور کہنے لگے: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے اور حال یہ ہے کہ ان کے پاس پانی بالکل نہیں ہے، تو اللہ عزوجل نے مٹی سے تیمم کرنے کی رخصت نازل فرمائی، عمار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور ان لوگوں نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر انہیں بغیر جھاڑے اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور اپنے ہاتھوں کے نیچے ( کے حصہ پر ) بغل تک مل لیا ۱؎۔
Asma رضی اللہ عنہا asked the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and then narrated the rest of the tradition to the same effect. He (the Prophet) said: a musk-scented piece of cloth. She (Asma رضی اللہ عنہا) said: How should I purify with it ? He said: By glory of Allah! Purify with it, and he covered his face with the cloth. This version also adds: She asked about the washing because of sexual defilement. He said: Take your water and purify yourself as best as possible. Then pour water over yourself. Aishah رضی اللہ عنہا said: The best of the women are the women of the Ansar. Shyness would not prevent them from inquiring about religion and from acquiring deep understanding in it.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
اسماء رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، پھر آگے اسی مفہوم کی حدیث ہے، اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشک لگا ہوا روئی کا پھاہا ( لے کر اس سے پاکی حاصل کرو ) ، اسماء نے کہا: اس سے میں کیسے پاکی حاصل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکی حاصل کرو ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کپڑے سے ( اپنا چہرہ ) چھپا لیا۔ اس حدیث میں اتنا اضافہ ہے کہ اسماء رضی اللہ عنہا نے غسل جنابت کے بارے میں بھی دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پانی لے لو، پھر اس سے خوب اچھی طرح سے پاکی حاصل کرو، پھر اپنے سر پر پانی ڈالو، پھر اسے اتنا ملو کہ پانی بالوں کی جڑوں میں پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی بہاؤ ۔ راوی کہتے ہیں: عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں کتنی اچھی ہیں انہیں دین کا مسئلہ دریافت کرنے اور اس کو سمجھنے میں حیاء مانع نہیں ہوتی۔
When the verse was revealed: Do not raise your voice louder than the voice of the Apostle, no mention was made of Sa'd bin Mu'adh رضی اللہ عنہ in it.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب یہ آیت اتری : ﴿ لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ ﴾..... انہوں نے بھی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
It was narrated that 'Ammar bin Yasir said: We did Tayammum with the Messenger of Allah (ﷺ) using dust, and we wiped our faces and our arms up to the shoulders.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مٹی سے تیمم کیا، تو ہم نے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مونڈھوں تک مسح کیا۔
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent Usayd bin Hudayr رضی اللہ عنہ and some people with him to search the necklace lost by Aishah رضی اللہ عنہا . The time of prayer came and they prayed without ablution. When they returned to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and related the fact to him, the verse concerning tayammum was revealed. Ibn Nufayl added: Usayd رضی اللہ عنہ said to her: May Allah have mercy upon you! Never has there been an occasion when you were beset with an unpleasant matter but Allah made the Muslims and you come out of that.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ کچھ لوگوں کو وہ ہار ڈھونڈنے کے لیے بھیجا جسے عائشہ نے کھو دیا تھا، وہاں نماز کا وقت ہو گیا تو لوگوں نے بغیر وضو نماز پڑھ لی، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو تیمم کی آیت اتاری گئی۔ ابن نفیل نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ آپ پر رحم کرے! آپ کو جب بھی کوئی ایسا معاملہ پیش آیا جسے آپ ناگوار سمجھتی رہیں تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اور آپ کے لیے اس میں ضرور کشادگی پیدا کر دی ہے۔
When This Verse was revealed" and he narrated the Hadith and he did not
hadith is narrated on the authority of Anas by another chain of transmitters in which there is no mention of Sa'd bin Mu'adh رضی اللہ عنہ , but the following words are there: We observed a man, one of the dwellers of Paradise, walking about amongst us.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب یہ آیت اتری ( آگے گزشتہ حدیث بیان کی ) لیکن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا ذکر نہیں کیا اور یہ اضافہ کیا : ہم انہیں ( اس طرح ) دیکھتے کہ ہمارے درمیان اہل جنت میں سے ایک فرد چل پھر رہا ہے.
It was narrated that 'Abddur-Rahman bin Abza said: We were with 'Umar when a man came to him and said: 'O Commander of the Believers! sometimes we stay for a month or two without finding any water. Umar said: As if I did not find water, I would not pray until I found water.' 'Ammar bin Yasir said: 'Do you remember, O Commander of the Believer, when you were in such and such a place and we were rearing the camels, and you know that we became Junub?' He said: 'Yes.' 'As for me I rolled in the dust, then we came to the Prophet (ﷺ) and he laughed and said: Clean earth would have been sufficient for you. And he struck his hands on the earth then blew on them, then he wiped his face and part of his forearms. He ('Umar) said: Fear Allah, O 'Ammar!' He said: 'O Commander of the Believers! If you wish I will not mention it.' He said: 'No, we will let you bear the burden of what you took upon yourself.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ہم عمر رضی اللہ عنہ کے پاس تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! بسا اوقات ہمیں ایک ایک دو دو مہینہ بغیر پانی کے رہنا پڑ جاتا ہے، ( تو ہم کیا کریں؟ ) تو آپ نے کہا: رہا میں تو میں جب تک پانی نہ پا لوں نماز نہیں پڑھ سکتا، اس پر عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد ہے؟ جب آپ اور ہم فلاں اور فلاں جگہ اونٹ چرا رہے تھے، تو آپ کو معلوم ہے کہ ہم جنبی ہو گئے تھے، کہنے لگے: ہاں، تو رہا میں تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ( اور ہم نے اسے آپ سے بیان کیا ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہنس کر فرمایا: تمہارے لیے مٹی سے اس طرح کر لینا کافی تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک ماری ۱؎، پھر اپنے چہرہ کا اور اپنے دونوں بازووں کے کچھ حصہ کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عمار! اللہ سے ڈرو، تو انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو میں اسے نہ بیان کروں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ جو تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
They (the Companions of the Prophet) wiped with pure earth (their hands and face) to offer the dawn prayer in the company of the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. They struck the ground with their palms and wiped their faces once. Then they repeated and struck the ground with their palms once again and wiped their arms completely up to the shoulders and up to the armpits with the inner side of their hands.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
لوگوں نے فجر کی نماز کے لیے پاک مٹی سے تیمم کیا، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، تو انہوں نے مٹی پر اپنا ہاتھ مارا اور منہ پر ایک دفعہ پھیر لیا، پھر دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارا اور اپنے پورے ہاتھوں پر پھیر لیا یعنی اپنی ہتھیلیوں سے لے کر کندھوں اور بغلوں تک ۱؎۔
Some people said to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance (before embracing Islam)? Upon his he (the Holy Prophet) remarked: He who amongst you performed good deeds in Islam, He would not be held responsible for them (misdeeds which he committed in ignorance) and he who committed evil (even after embracing Islam) would be held responsible or his misdeeds that he committed in the state of ignorance as well as in that of Islam.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
کچھ لوگوں نے رسول اللہﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا جاہلیت کےاعمال پر ہمارا مواخذہ ہو گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے ، اس کا جاہلیت کے اعمال پر مواخذہ نہیں ہو گا اور جس نے برے اعمال کیے ، اس کا جاہلیت اور اسلام دونوں کے اعمال پر مؤاخذہ ہو گا ۔ ‘ ‘
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man asked 'Umar bin Al-Khattab about Tayammum and he did not know what to say. 'Ammar said: Do you remember when we were on a campaign, and I became Junub and rolled in the dust, then I came to the Prophet (ﷺ) and he said: 'This would have been sufficient.' (One of the narrators) Shu'bah struck his hands on his knees and blew into his hands, then he wiped his face and palms with them once.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک شخص نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے تیمم کے متعلق سوال کیا، تو وہ نہیں جان سکے کہ کیا جواب دیں، عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ کو یاد ہے؟ جب ہم ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، اور میں جنبی ہو گیا تھا، تو میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ، شعبہ نے ( تیمم کا طریقہ بتانے کے لیے ) اپنے دونوں ہاتھ دونوں گھٹنوں پر مارے، پھر ان میں پھونک ماری، اور ان دونوں سے اپنے چہرہ اور اپنے دونوں ہتھیلیوں پر ایک بار مسح کیا ۔
The Muslims stood up and struck the earth with their palms, but did not get any earth (in their hands). He (Ibn Wahb) then narrated the rest of the tradition in like manner, but he did not mention the words shoulders and armpits. Ibn al-Laith said: (They) wiped above the elbows.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
، اس میں ہے کہ مسلمان کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنی ہتھیلیوں کو مٹی پر مارا اور مٹی بالکل نہیں لی ، پھر راوی نے اسی جیسی حدیث ذکر کی، اس میں انہوں نے «المناكب والآباط» ( کندھوں اور بغلوں ) کا ذکر نہیں کیا ۔ اس کے بعد اس نے (ابن وھب) نے باقی روایت کو اسی طرح بیان کیا، لیکن کندھوں اور بغلوں کا ذکر نہیں کیا۔ابن لیث نے کہا: (انہوں نے) کہنیوں کے اوپر مسح کیا۔
We once said: Messenger of Allah, would we be held responsible for our deeds committed in the state of ignorance? He (the Holy Prophet) observed: He who did good deeds in Islam would not be held responsible for what he did in the state of ignorance, but he who committed evil (after having come within the fold of Islam) would be held responsible for his previous and later deeds.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! ہم نے جاہلیت میں جو عمل کیے ، کیا ان کی وجہ سے ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’جس نے اسلام لانے کے بعد اچھے عمل کیے ، اس کا ان اعمال پر مؤاخذہ نہیں ہو گا جو اس نے جاہلیت میں کیے اور جس نے اسلام میں برے کام کیے ، وہ اگلے اور پچھلے دونوں طرح کے عملوں پر پکڑا جائے گا ۔ ‘ ‘
أخبرنا إسماعيل بن مسعود أنبأنا خالد أنبأنا شعبة عن الحكم سمعت ذرا يحدث عن ابن أبزى عن أبيه قال وقد سمعه الحكم من ابن عبد الرحمن قال أجنب رجل فأتى عمر - رضى الله عنه - فقال إني أجنبت فلم أجد ماء . قال لا تصل . قال له عمار أما تذكر أنا كنا في سرية فأجنبنا فلم نجد ماء فأما أنت فلم تصل وأما أنا فإني تمعكت فصليت ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم فذكرت ذلك له فقال إنما كان يكفيك . وضرب شعبة بكفيه ضربة ونفخ فيهما ثم دلك إحداهما بالأخرى ثم مسح بهما وجهه . فقال عمر شيئا لا أدري ما هو . فقال إن شئت لا حدثته . وذكر شيئا في هذا الإسناد عن أبي مالك وزاد سلمة قال بل نوليك من ذلك ما توليت .
HadithAPI (English) (en)
HadithAPI
It was narrated that Ibn 'Abdur-Rahman said: A man became Junub and came to 'Umar, may Allah be pleased with him, and said: 'I have become Junub and I cannot find any water.' He said: 'Do not pray.' 'Ammar said to him: 'Do you not remember when we were on a campaign and became Junub. You did not prayed, then I came to the Prophet (ﷺ) and told him that, and he said: 'This would have been sufficient for you.' - (One of the narrators) Shu'bah struck his hands once and blew into them, then he rubbed them together, then wiped his face with them - ('Ammar said): 'Umar said something I did not understand. So he said: If you wish, I shall not narrate it. Salamah mentioned something in this chain from Abu Malik, and Salamah added that he said: Rather, we will let you bear the burden of what you tool upon yourself.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک آدمی جنبی ہو گیا، تو وہ عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ( تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا: ( جب تک پانی نہ ملے ) نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب ہم لوگ ایک سریہ ( فوجی مہم ) میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے تھے، تو رہے آپ، تو آپ نے نماز نہیں پڑھی تھی، اور رہا میں، تو میں نے زمین پر لوٹ پوٹ لیا، پھر نماز پڑھ لی، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، شعبہ نے اپنی ہتھیلی ( گھٹنوں پر ) ایک مرتبہ ماری، اور اس میں پھونک ماری، پھر ایک کو دوسرے سے رگڑا، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا میں ایسی چیز ( سن رہا ہوں ) جو مجھے معلوم نہیں، تو عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر آپ چاہیں تو میں اسے بیان نہ کروں؟ سلمہ نے اس سند میں ابو مالک سے کچھ اور بھی چیزوں کا ذکر کیا ہے، اور سلمہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بلکہ اس سلسلہ میں جو کچھ تم کہہ رہے ہو ہم تم کو اس کا ذمہ دار بناتے ہیں۔
The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم encamped at Ulat al-Jaysh and Aishah رضی اللہ عنہا was in his company. Her necklace of onyx of Zifar was broken (and fell somewhere). The people were detained to make a search for that necklace until the dawn broke. There was no water with the people. Therefore Abu Bakr رضی اللہ عنہا became angry with her and said: You detained the people and they have no water with them. Thereupon Allah, the Exalted, sent down revelation about it to His Messenger صلی اللہ علیہ وسلم granting concession to purify themselves with pure earth. Then the Muslims stood up with the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم and struck the ground with their hands and then they raised their hands, and did not take any earth (in their hands). Then they wiped with them their faces and hands up to the shoulders, and from their palms up to the armpits. Ibn Yahya added in his version: Ibn Shihab said in his tradition: The people do not take this (tradition) into account. Abu Dawud said: Ibn Ishaq also reported it in a similar way. In this (version) he said on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہما . He mentioned the words two strikes (i. e. striking the earth twice) as mentioned by Yunus. And Mamar also narrated on the authority of al-Zuhri two strikes . And Malik said: From al-Zuhri from Ubaid Allah bin Abdullah رضی اللہ عنہا from his father on the authority of Ammar. Abu Uwais also reported it in a similar way on the authority of al-Zuhri. But Ibn Uyainah doubted it, he sometimes said: from his father, and sometimes he said: from Ibn Abbas رضی اللہ عنہما . Ibn Uyainah was confused in it and in his hearing from al-Zuhri. No one has mentioned two strikes in this tradition except those whose names I have mentioned.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اولات الجیش ۱؎ میں رات گزارنے کے لیے ٹھہرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں، ان کا ہار جو ظفار کے مونگوں سے بنا تھا ٹوٹ کر گر گیا، چنانچہ ہار کی تلاش کے سبب لوگ روک لیے گئے یہاں تک کہ صبح روشن ہو گئی اور لوگوں کے پاس پانی موجود نہیں تھا، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر ناراض ہو گئے اور کہا: تم نے لوگوں کو روک رکھا ہے، حالانکہ ان کے پاس پانی نہیں ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنے کی رخصت نازل فرمائی، مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اپنے ہاتھ زمین پر مار کر اسے اس طرح اٹھا لیا کہ مٹی بالکل نہیں لگی، پھر اپنے چہروں اور ہاتھوں کا مونڈھوں تک اور ہتھیلیوں سے بغلوں تک مسح کیا۔ ابن یحییٰ نے اپنی روایت میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ ابن شہاب نے اپنی روایت میں کہا: لوگوں کے نزدیک اس فعل کا اعتبار نہیں ہے ۲؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: نیز اسی طرح ابن اسحاق نے روایت کی ہے اس میں انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے دو ضربہ ۳؎ کا ذکر کیا ہے جس طرح یونس نے ذکر کیا ہے، نیز معمر نے بھی زہری سے دو ضربہ کی روایت کی ہے۔ مالک نے زہری سے، زہری نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، عبیداللہ نے اپنے والد عبداللہ سے، عبداللہ نے عمار رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے، اور اسی طرح ابواویس نے زہری سے روایت کی ہے، اور ابن عیینہ نے اس میں شک کیا ہے: کبھی انہوں نے «عن عبيد الله عن أبيه» کہا، اور کبھی «عن عبيد الله عن ابن عباس» یعنی کبھی «عن أبيه» اور کبھی «عن ابن عباس» ذکر کیا۔ ابن عیینہ اس میں ۴؎ اور زہری سے اپنے سماع میں ۵؎ مضطرب ہیں نیز زہری کے رواۃ میں سے کسی نے دو ضربہ کا ذکر نہیں کیا ہے سوائے ان لوگوں کے جن کا میں نے نام لیا ہے ۶؎۔
It was narrated from Ibn 'Abdur-Rahman bin Abza, from his father, that a man came to 'Umar, may Allah be please with him, and said: I have become Junub and I cannot find any water. 'Umar said: Do not pray. 'Ammar said: Do you not remember, O Commander of the Believers, when you and I were on a campaign and became Junub, and we could not find any water. You did not pray, but I rolled in the dust then prayed. When we came to the Messenger of Allah (ﷺ) I told him about that and he said: 'This would have been sufficient for you,' and then Prophet (ﷺ) struck the earth with his hands then blew on them and wiped his face and hands - (one of the narrators) Salamah was uncertain and said: I do not know if he said it should be up to the elbows or just the hands. - 'Umar said: We will let you bear the burden of what you took upon yourself. (One of the narrators) Shu'bah said: He used to say the hands, face and forearms. (Another) Mansur said to him: What are you saying? No one mentions the forearms except you. Salamah was not certain and said: I do not know whether he mentioned the forearms or not.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک شخص عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اور کہنے لگا: میں جنبی ہو گیا ہوں، اور مجھے پانی نہیں ملا ( کیا کروں؟ ) تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ( جب تک پانی نہ ملے ) تم نماز نہ پڑھو، اس پر عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں؟ جب میں اور آپ دونوں ایک سریہ میں تھے، تو ہم جنبی ہو گئے، اور ہمیں پانی نہیں ملا، تو آپ نے تو نماز نہیں پڑھی، لیکن میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، پھر میں نے نماز پڑھ لی، تو جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر اپنے دونوں ہاتھ مارے، پھر ان میں پھونک ماری، پھر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کا مسح کیا۔ سلمہ نے شک کیا اور کہا: مجھے نہیں معلوم کہ ( میرے شیخ ذر نے دونوں کہنیوں تک مسح کا ذکر کیا یا دونوں ہتھیلیوں تک ) ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اس سلسلہ میں جو تم کہہ رہے ہو اس کی ذمہ داری ہم تمہارے ہی سر ڈالتے ہیں شعبہ کہتے ہیں: سلمہ دونوں ہتھیلیوں، چہرے اور دونوں بازؤوں کا ذکر کر رہے تھے، تو منصور نے ان سے کہا: یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ آپ کے سوا کسی اور نے بازؤوں کا ذکر نہیں کیا ہے، تو سلمہ شک میں پڑ گئے اور کہنے لگے مجھے نہیں معلوم کہ ( ذر نے ) بازؤوں کا ذکر کیا یا نہیں؟۔
While I was sitting between Abdullah and Abu Musa رضی اللہ عنہما , the latter said: Abu Abdur-Rahman, what do you think if a man becomes defiled (because of seminal omission) and does not find water for a month; should he not perform tayammum ? He replied: No, even if he does not find water for a month. Abu Musa رضی اللہ عنہا then said: How will you do with the Quranic version (about tayammum) in the chapter al-Ma'idah which says: . . . and you find no water, then go to clean, high ground (5: 6)? Abdullah (bin Masud) then said: If they (the people) are granted concession in this respect, they might perform tayammum with pure earth when water is cold. Abu Musa رضی اللہ عنہا said: For this (reason) you forbade it ? He said: Yes. Abu Musa رضی اللہ عنہا then said: Did you not hear what Ammar said to Umar رضی اللہ عنہا ? (He said): The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم sent me on some errand. I had seminal emission and I did not find water. Therefore, I rolled on the ground just as an animal rolls down. I then came to the Prophet صلی اللہ علیہ وسلم and made a mention of that to him. He said: It would have been enough for you to do thus. Then he struck the ground with his hands and shook them off and then stuck the right hand with his left hand and his left hand with his right hand (and wiped) over his hands (up to the wrist) and wiped his face. Abdullah رضی اللہ عنہما then said to him: Did you not see that Umar رضی اللہ عنہا was not satisfied with the statement of Ammar ?
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں عبداللہ بن مسعود اور ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما کے درمیان بیٹھا ہوا تھا کہ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: ابوعبدالرحمٰن! ( یہ عبداللہ بن مسعود کی کنیت ہے ) اس مسئلے میں آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص جنبی ہو جائے اور ایک مہینے تک پانی نہ پائے تو کیا وہ تیمم کرتا رہے؟ عبداللہ بن مسعود نے کہا: تیمم نہ کرے، اگرچہ ایک مہینہ تک پانی نہ ملے۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ سورۃ المائدہ کی اس آیت: «فلم تجدوا ماء فتيمموا صعيدا طيبا» پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو عبداللہ بن مسعود نے کہا: اگر تیمم کی رخصت دی جائے تو قریب ہے کہ جب پانی ٹھنڈا ہو تو لوگ مٹی سے تیمم کرنے لگیں۔ اس پر ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ نے اسی وجہ سے اسے ناپسند کیا ہے؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، تو ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے عمار رضی اللہ عنہ کی بات ( جو انہوں نے عمر رضی اللہ عنہ سے کہی ) نہیں سنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی ضرورت کے لیے بھیجا تو میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہیں ملا تو میں مٹی ( زمین ) پر لوٹا جیسے جانور لوٹتا ہے، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں تو بس اس طرح کر لینا کافی تھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، پھر اسے جھاڑا، پھر اپنے بائیں سے اپنی دائیں ہتھیلی پر اور دائیں سے بائیں ہتھیلی پر مارا، پھر اپنے چہرے کا مسح کیا، تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ عمر رضی اللہ عنہ، عمار رضی اللہ عنہ کی اس بات سے مطمئن نہیں ہوئے؟ ! ۔