Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Sunan An-Nasa`i • The Book of Purification • Hadith 119
ابودرداء ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے آدم ؑ کو پیدا فرمایا ۔ جب انہیں پیدا فرمایا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دائیں کندھے پر مارا اور سفید اولاد کو نکالا جیسے چیونٹیاں ہوں ، اور اس نے ان کے بائیں کندھے پر مارا تو کالی اولاد نکالی جیسے کوئلہ ہو ، تو اللہ نے ان کی دائیں طرف والوں کے متعلق فرمایا : یہ جنتی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ، اور جو ان کے بائیں کندھے کی طرف تھے ان کے متعلق فرمایا : یہ جہنمی ہیں اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۶/ ۴۴۱ ح ۲۸۰۳۶) ۔
'Ali رضی اللہ عنہ said: 'I am the slave of Allah and the brother of His Messenger. I am the greatest teller of the truth (Siddiq Akbar), and no one will say this after me except a liar. I prayed seven years before the people.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی.
He asked the Prophet: "Can one of us sleep while he is Junub?" So he replied: "Yes, when he performs Wudu."
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے سوال کیا: کیا ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ وضو کر لے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں عمار، عائشہ، جابر، ابوسعید اور ام سلمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۲- عمر رضی الله عنہ والی حدیث اس باب میں سب سے عمدہ اور صحیح ہے، ۳- یہی قول نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے اصحاب اور تابعین میں سے بہت سے لوگوں کا ہے اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ جب جنبی سونے کا ارادہ کرے تو وہ سونے سے پہلے وضو کر لے ۲؎۔
He saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performing ablution. He then described his ablution saying: He wiped his head with water which was not what was left over after washing his hands (i. e. he wiped his head with clean water); then he washed his feet until he cleansed them.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وضو کرتے ہوئے ) دیکھا، پھر آپ کے وضو کا ذکر کیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح اپنے ہاتھ کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ نئے پانی سے کیا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے یہاں تک کہ انہیں صاف کیا۔
When the delegation of the tribe of Abdul-Qais came to the Prophet of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), (its members) said: Apostle of Allah, may God enable us to lay down our lives for you, which beverage is good for us? He (the Prophet) said: (Not to speak of beverages, I would lay stress) that you should not drink in the wine jars. They said: Apostle of Allah, may God enable us to lay down our lives for you, do you know what al-naqir is? He (the Holy Prophet) replied: Yes, it is a stump which you hollow out in the middle, and added: Do not use gourd or receptacle (for drink). Use water-skin the mouth of which is tied with a thong (for this purpose).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب قبیلہ عبد قیس کا وفدرسول اللہﷺ کی خمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے بنیﷺہم آپﷺپر قربان کون سے برتن میں پینا حلال ہے؟آپﷺنے فرمایا لکڑی کے برتن میں نہ پیا کرولوگوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺلکڑی کا کھٹلا کیا ہوتا ہے؟آپﷺ نے فر مایا لکڑی کو اندر سے کھود کر برتن بنانے کو کھٹلا کہتے ہیں اور لکڑی کے تونبے میں بھی نہ پیا کرواور سبز کھڑی میں بھی نہ پیا کرومگر چمڑے کے برتن میں پی لیا کرو جس کا منہ ڈوری سے باندھ دیا جاتا ہو-
It was narrated that Usamah bin Zaid said: The Messenger of Allah (ﷺ) and Bilal entered Al-Aswaf [1] and he went to relieve himself and then came out. Usamah said: I asked Bilal: 'What did he do?' Bilal said: 'The Prophet (ﷺ) went to relieve himself, then he performed Wudu', so he washed his hands and face, and wiped his head and he wiped over his Khuffs, then prayed.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ اسواف ۱؎ میں داخل ہوئے، تو آپ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر نکلے، اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ تو میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا کیا؟ بلال رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، چنانچہ اپنا چہرہ اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، اور اپنے سر کا مسح کیا، اور دونوں موزوں پر مسح کیا، پھر نماز ادا کی۔
ابونضرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ابوعبداللہ نامی صحابی بیمار ہو گئے تو ان کے ساتھی ان کی عیادت کے لیے آئے تو وہ رو رہے تھے ، انہوں نے کہا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سے یہ نہیں فرمایا اپنی موچھیں کتراؤ ، پھر اس پر قائم رہو حتیٰ کہ تم (حوض کوثر پر) مجھ سے آ ملو ، انہوں نے کہا : کیوں نہیں ۔ ضرور فرمایا تھا ۔ لیکن میں نے رسول اللہ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ اللہ عزوجل نے اپنے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھری ، اور دوسرے ہاتھ سے دوسری ، اور فرمایا : یہ اس (جنت) کے لیے ہے اور یہ اس (جہنم) کے لیے ہے ، اور مجھے کوئی پرواہ نہیں ۔‘‘ جبکہ مجھے معلوم نہیں کہ میں ان دو مٹھیوں میں سے کس میں ہوں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد (۵/ ۶۸ ح ۲۰۹۴۴ ، ۴/ ۱۷۶ ح ۱۷۷۳۶) ۔
Mu`awiyah رضی اللہ عنہ came on one of his pilgrimages and Sa`d رضی اللہ عنہ entered upon him. They mentioned `Ali رضی اللہ عنہ, and Mu`awiyah رضی اللہ عنہ criticized him. Sa`d رضی اللہ عنہ became angry and said: 'Are you saying this of a man of whom I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: If I am a person's close friend, `Ali is also his close friend. And I heard him say: You are to me like Harun was to Musa, except that there will be no Prophet after me. And I heard him say: I will give the banner today to a man who loves Allah and His Messenger.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ایک سفر حج میں آئے تو سعد رضی اللہ عنہ ان کے پاس ملنے آئے، لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کو نامناسب الفاظ سے یاد کیا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور بولے: آپ ایسا اس شخص کی شان میں کہتے ہیں جس کے بارے میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جس کا مولیٰ میں ہوں، علی اس کے مولیٰ ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے یہ بھی سنا: تم ( یعنی علی ) میرے لیے ویسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، نیز میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: آج میں لڑائی کا جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے ۔
The Prophet met him while he was Junub. He said: [So I slipped away from him - meaning:] I withdrew - to perform Ghusl. Then he returned, so he said: 'Where have you been?' Or: 'Where did you go?' I replied: 'I was Junub.' So he said: 'Indeed the believer is not defiled.'''
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم ان سے ملے اور وہ جنبی تھے، وہ کہتے ہیں: تو میں آنکھ بچا کر نکل گیا اور جا کر میں نے غسل کیا پھر خدمت میں آیا تو آپ نے پوچھا: تم کہاں تھے؟ یا: کہاں چلے گئے تھے ( راوی کو شک ہے ) ۔ میں نے عرض کیا: میں جنبی تھا۔ آپ نے فرمایا: مسلمان کبھی نجس نہیں ہوتا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حذیفہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اور ان کے قول «فانخنست» کے معنی «تنحیت عنہ» کے ہیں ”یعنی میں نظر بچا کر نکل گیا“، ۴- بہت سے اہل علم نے جنبی سے مصافحہ کی اجازت دی ہے اور کہا ہے کہ جنبی اور حائضہ کے پسینے میں کوئی حرج نہیں ۱؎۔
The ablution water was brought to the Messenger صلی اللہ علیہ وسلم and he performed ablution; he washed his hands up to wrists three times, then washed his forearms three times. He then rinsed his mouth and snuffed up water three times; then he wiped his head and ears inside and outside.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وضو کا پانی لایا گیا تو آپ نے وضو کیا، اپنے دونوں پہونچے تین بار دھلے، پھر کلی کی اور تین بار ناک میں پانی ڈالا اور اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر دونوں ہاتھ ( کہنیوں تک ) تین تین بار دھلے، پھر اپنے سر کا اور اپنے دونوں کانوں کے باہر اور اندر کا مسح کیا۔
The Messenger of Allah sent me (as a governor of Yemen) and (at the time of departure) instructed me thus: You will soon find yourself in a community one among the people of the Book, so first call them to testify that there is no god but Allah, that I (Muhammad) am the messenger of Allah, and if they accept this, then tell them Allah has enjoined upon them five prayers during the day and the night and if they accept it, then tell them that Allah has made Zakat obligatory for them that it should be collected from the rich and distributed among the poor, and if they agree to it don't pick up (as a share of Zakat) the best of their wealths. Beware of the supplication of the oppressed for there is no barrier between him and Allah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا اور فرمایا : ’’تم اہل کتاب کی ایک قوم کے پاس جا رہے ہو ، انہیں اس کی گواہی دینے کی دعوت دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اگر وہ اس میں ( تمہاری ) اطاعت کریں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ہر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں ۔ اگر وہ اسے مان لیں تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر صدقہ ( زکاۃ ) فرض کیا ہے جو ان کے مالدار لوگوں سے لیا جائے گا اور ان کے مجتاجوں کوواپس کیا جائے گا ، پھر اگر وہ اس بات کو قبول کر لیں تو ان کے بہترین مالوں سے احتراز کرنا ( زکاۃ میں سب سے اچھا مال وصول نہ کرنا ۔ ) اور مظلوم کی بددعا س ےبچنا کیونکہ اس ( بددعا ) کے اور اللہ کے درمیان کو ئی حجاب نہیں ۔ ‘ ‘
ابن عباس ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ نے عرفہ کے نزدیک مقام نعمان پر اولاد آدم سے عہد لینے کا ارادہ فرمایا تو ان کی صلب سے (ان کی) تمام اولاد کو ’’جسے پیدا کرنا تھا ‘‘ نکالا تو انہیں ان کے سامنے بکھیر دیا ، جیسے چیونٹیاں ہوں ، پھر ان سے براہ راست خطاب کیا تو فرمایا :’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ سب نے کہا : کیوں نہیں ۔ ہم اس پر گواہ ہیں (یہ اقرار اس لیے لیا گیا ) کہ کہیں قیامت کے دن تم یہ نہ کہو کہ ہم تو اس حقیقت سے محض بے خبر تھے ، یا یوں کہو کہ شرک تو ہمارے آباء نے کیا تھا ، ہم تو ان کی اولاد ہیں جو ان کے بعد آئے ، کیا تو ہمیں ان غلط کاروں کے کاموں پر ہلاک کر دے گا ۔‘‘ سندہ حسن ، رواہ احمد (۱/ ۲۷۲ ح ۲۴۵۵) و النسائی فی الکبریٰ (۶/ ۳۴۷ ح ۱۱۱۹۱) و الحاکم (۱/ ۲۷ ، ۲/ ۵۴۴) ۔
The Messenger of Allah said on the Day of Quraizah: 'Who will bring us news of the people?' Zubair رضی اللہ عنہ said: 'I will.' The Prophet said: 'Who will bring us news of the people?' Zubair رضی اللہ عنہ said: 'I will,' three times. Every Prophet has a Hawari (sincere supporter or disciple) and my Hawari is Zubair.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ قریظہ پر حملے کے دن فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم ( یعنی یہود بنی قریظہ ) کی خبر لائے؟، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے جو میرے پاس قوم کی خبر لائے؟ ، زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں، یہ سوال و جواب تین بار ہوا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ( خاص مددگار ) ہوتے ہیں، اور میرے حواری ( خاص مددگار ) زبیر ہیں ۔
Umm Sulaim bint Milhan came to the Prophet and she said: 'O Messenger of Allah! Indeed Allah is not embarrassed of the truth. So is it required of a woman - meaning Ghusl - when she sees in her sleep similar to what a man sees?' He replied: 'Yes. When she finds water (wetness), then she is perform Ghusl.' Umm Salamah said: I said to her: 'O Umm SuIaim! You have disgraced the women!'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ام سلیم بنت ملحان نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آئیں اور کہنے لگیں: اللہ کے رسول! اللہ حق سے نہیں شرماتا ۱؎ کیا عورت پر بھی غسل ہے، جب وہ خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے ۲؎ آپ نے فرمایا: ”ہاں، جب وہ منی دیکھے تو غسل کرے“ ۳؎ ام سلمہ کہتی ہیں: میں نے ام سلیم سے کہا: ام سلیم! آپ نے تو عورتوں کو رسوا کر دیا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- بیشتر فقہاء کا قول ہے کہ عورت جب خواب میں وہی چیز دیکھے جو مرد دیکھتا ہے پھر اسے انزال ہو جائے ( یعنی منی نکل جائے ) تو اس پر غسل واجب ہے، یہی سفیان ثوری اور شافعی بھی کہتے ہیں، ۳- اس باب میں ام سلیم، خولہ، عائشہ اور انس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم perform ablution. When he reached the stage of wiping his head, he placed his palms on the front of the head. Then he moved them until he reached the nape. He then returned them to the place from where he had started.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے وضو کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر کے مسح پر پہنچے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اپنے سر کے اگلے حصہ پر رکھا، پھر انہیں پھیرتے ہوئے گدی تک پہنچے، پھر اپنے دونوں ہاتھ اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔ تخریج دارالدعوہ: سنن ابن ماجہ/الطہارة ۵۲ ( ۴۴۲ ) ، ( تحفة الأشراف: ۱۱۵۷۲ ) ( صحیح )
ابی بن کعب ؓ نے اللہ عزوجل کے فرمان :’’ جب آپ کے رب نے بنی آدم سے ان کی پشت سے ان کی نسل کو نکالا ۔‘‘ کی تفسیر میں فرمایا : اس نے ان کو جمع کیا تو ان کی مختلف اصناف بنا دیں ، پھر ان کی تصویر کشی کی ، انہیں بولنے کو کہا تو انہوں نے کلام کیا ، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں ان کی جانوں پر گواہ بنایا :’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں ساتوں آسمانوں ، ساتوں زمینوں اور تمہارے باپ آدم ؑ کو تم پر گواہ بناتا ہوں کہ کہیں تم روز قیامت یہ نہ کہو : ہمیں اس کا پتہ نہیں ، جان لو کہ میرے سوا کوئی معبود برحق ہے نہ کوئی رب ، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا ، میں اپنے رسول تمہاری طرف بھیجوں گا وہ میرا عہد و میثاق تمہیں یاد دلاتے رہیں گے ۔ اور میں اپنی کتابیں تم پر نازل فرماؤں گا ، تو انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب ہے اور ہمارا معبود ہے ۔ تیرے سوا ہمارا کوئی رب ہے نہ معبود ، انہوں نے اس کا اقرار کر لیا ، اور آدم ؑ کو ان پر ظاہر کیا گیا ، وہ انہیں دیکھنے لگے تو انہوں نے غنی و فقیر اور خوبصورت و بدصورت کو دیکھا تو عرض کیا ، پروردگار ! تو نے اپنے بندوں میں مساوات کیوں نہیں کی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں پسند کرتا ہوں کہ میرا شکر کیا جائے ، اور انہوں نے انبیا علیہم السلام کو دیکھا ، ان میں چراغوں کی طرح تھے ان پر نور (برس رہا) تھا ، اور ان سے رسالت و نبوت کے بارے میں خصوصی عہد لیا گیا ، اللہ تعالیٰ کے فرمان سے یہی عہد مراد ہے ’’ اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ، آپ سے ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام سے عہد لیا تھا ۔‘‘ عیسیٰ علیہ السلام ان ارواح میں تھے تو اللہ نے انہیں مریم علیھاالسلام کی طرف بھیجا ۔ ابی ؓ سے بیان کیا گیا کہ اس (روح) کو مریم علیھاالسلام کے منہ کے ذریعے داخل کیا گیا ۔ سندہ ضعیف رواہ احمد (۵/ ۱۳۵ ح ۲۱۵۵۲) و الفریابی فی کتاب القدر (۵۲) و الحاکم (۲/ ۳۲۳ ح ۳۲۴ ح ۳۲۵۵) ۔