Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Sunan Abi Dawud • Purification (Kitab Al-Taharah) • Hadith 116
I saw Ali رضی اللہ عنہ perform ablution. He (Abu Hayyah) then described that Ali went through every part of the ablution three times, i. e. he performed each detail of his ablution three times. He then wiped his head, then washed his feet up to the ankles. He then said: I wanted to show you how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed ablution.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے وضو کیا، پھر ابوحیہ نے آپ کے پورے ( اعضاء ) وضو کے تین تین بار دھونے کا ذکر کیا، وہ کہتے ہیں: پھر آپ نے اپنے سر کا مسح کیا، اور اپنے دونوں پیر ٹخنوں تک دھوئے، پھر کہا: میری خواہش ہوئی کہ میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو دکھلاؤں ( کہ آپ کس طرح وضو کرتے تھے ) ۔
I was an interpreter between Ibn Abbas and the people, that a woman happened to come there and asked about nabidh or the pitcher of wine. He replied: A delegation of the people of 'Abdul-Qais came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He (the Holy Prophet) asked the delegation or the people (of the delegation about their identity). They replied that they belonged to the tribe of Rabi'a. He (the Holy Prophet) welcomed the people or the delegation which were neither humiliated nor put to shame. They (the members of the delegation) said: Messenger of Allah, we come to you from a far-off distance and there lives between you and us a tribe of the unbelievers of Mudar and, therefore, it is not possible for us to come to you except in the sacred months. Thus direct us to a clear command, about which we should inform people beside us and by which we may enter heaven. He (the Holy Prophet) replied: I command you to do four deeds and forbid you to do four (acts), and added: I direct you to affirm belief in Allah alone, and then asked them: Do you know what belief in Allah really implies? They said: Allah and His Messenger know best. The Prophet said: It implies testimony to the fact that there is no god but Allah, and that Muhammad is the messenger of Allah, establishment of prayer, payment of Zakat, fast of Ramadan, that you pay one-fifth of the booty (fallen to your lot) and I forbid you to use gourd, wine jar, or a receptacle for wine. Shu'ba sometimes narrated the word naqir (wooden pot) and sometimes narrated it as muqayyar. The Prophet also said: Keep it in your mind and inform those who have been left behind.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور ( دوسرے ) لوگوں کے درمیان ترجمان تھا ، ان کے پاس ایک عورت آئی ، وہ ان سے گھڑے کی نبیذ کے بارے میں سوال کر رہی تھی توحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں عبد القیس کا وفد آیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : ’’یہ کون سا وفد ہے ؟ ( یا فرمایا : یہ کو ن لوگ ہیں ؟ ) ‘ ‘ انہوں نے کہا : ربیعہ ( قبیلہ سے ہیں ۔ ) فرمایا : ’’ اس قوم ( یا وفد ) کو خوش آمدید جو رسوا ہوئے نہ نادم ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ) کہا ، ان لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کےرسول ! ہم لوگ آپ کے پاس بہت دور سے آتے ہیں ، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافروں کا یہ قبیلہ ( حائل ) ہے ، ہم ( کسی ) حرمت والے مہینے کے سوا آپ کے پاس نہیں آ سکتے ، آپ ہمیں فیصلہ کن بات بتائیے جو ہم اپنے ( گھروں میں ) پیچھے لوگوں کو ( بھی ) بتائیں اور اس کے ذریعے سے ہم جنت میں داخل ہو جائیں ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا : آپ نے ان چار باتوں کا حکم دیا اور چار چیزیں سے روکا ۔ آپ نے ان کو اکیلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا کا حکم دیا اور پوچھا : ’’جانتے ہو ، صرف اللہ پر ایمان لانا کیا ہے ؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : ’’اس حقیقت کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا ، زکاۃ دینا ، رمضان کے روزے رکھنا اور یہ کہ تم مال غنیمت میں سے اس کا پانچواں حصہ ادا کرو ۔ ‘ ‘ اور انہیں خشک کدو سے بنائے ہوئے برتن ، سبز مٹکے اور تارکول ملے ہوئے برتن ( استعمال کرنے ) سے منع کیا ( شعبہ نے کہا : ) ابو جمرہ نے شاید نقیر ( لکڑی میں کھدائی کر کے بنایا ہوا برتن کہا یا شاید مقیر ( تارکول ملا ہوا برتن ) کہا ۔ اور آپ نے فرمایا : ’’ان کو خوب یاد رکھو اور اپنے پیچھے ( والوں کو ) بتا دو ۔ ‘ ‘ ابو بکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ( من ورائکم کے بجائے ) من وراءکم ( ان کو ( بتاؤ ) جو تمہارے پیچھے ہیں ) کے الفاظ ہیں اور ان کی روایت میں مقیر کا ذکر نہیں ( بلکہ نقیر کا ہے ۔ )
It was narrated that Humran the freed slave of 'Uthman said: Uthman called for water for Wudu'. He washed his hands three times, then he rinsed his mouth and nose, then he washed his face three times, then washed his right hand up to the elbow three times. Then he washed his left hand likewise. Then he washed his left hand likewise. Then he wiped his head, then he washed his right foot up to the ankle three times, and he washed his left foot likewise, and he washed his left foot likewise. Then he said: 'I saw the Messenger of Allah (ﷺ) performing Wudu' as I have just done.' Then he said: The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever performs Wudu' as I have just done, then prayes two Rak'ahs without letting his thoughts wander, his previous sins will be forgiven.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عثمان رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی مانگا، اور وضو کیا، تو انہوں نے اپنے دونوں ہتھیلی تین بار دھو لی، پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنا چہرہ تین بار دھویا، پھر اپنا دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح اپنا بایاں ہاتھ دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر اپنا دایاں پاؤں ٹخنے تک تین بار دھویا، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا، پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے میرے اسی وضو کی طرح وضو کیا، پھر کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو میرے اس وضو کی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پڑھے، اور اپنے دل میں دوسرے خیالات نہ لائے تو اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے ۱؎۔
نافع ؒ سے روایت ہے کہ ایک آدمی ابن عمر کے پاس آیا تو اس نے کہا : فلاں شخص آپ کو سلام کہتا ہے ، تو انہوں نے کہا : مجھے پتا چلا ہے کہ اس نے بدعت ایجاد کی ہے ، پس اگر تو اس نے بدعت ایجاد کی ہے تو پھر میری طرف سے اسے سلام نہ کہنا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میری امت میں یا اس امت میں ، زمین میں دھنسنا ، صورتیں مسخ ہو جانا یا آسمان سے پتھروں کی بارش ہونا ہو گا ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، امام ترمذی نے کہا : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۱۵۲) و ابوداؤد (۴۶۱۳) و ابن ماجہ (۴۰۶۱) و تقدم طرفہ (۱۰۶) ۔
Abu Laila used to travel with 'Ali رضی اللہ عنہ, and he used to wear summer clothes in winter and winter clothes in summer. We said: 'Why don't you ask him (about that)?' He said: The Messenger of Allah sent for me and my eyes were sore, on the Day of Khaibar. I said: 'O Messenger of Allah, my eyes are sore.' He put some spittle into my eyes, then he said: 'O Allah, take heat and cold away from him.' I never felt hot or cold again after that day. He (the Prophet) said: 'I will send a man who loves Allah and His Messenger, and whom Allah and His Messenger love, and he is not one who flees from the battlefield.' The people craned their necks to see, and he sent for 'Ali رضی اللہ عنہ and gave it (the banner) to him.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابولیلیٰ رات میں علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کیا کرتے تھے، اور علی رضی اللہ عنہ گرمی کے کپڑے جاڑے میں اور جاڑے کے کپڑے گرمی میں پہنا کرتے تھے، ہم نے ابولیلیٰ سے کہا: کاش آپ ان سے اس کا سبب پوچھتے تو بہتر ہوتا، پوچھنے پر علی رضی اللہ عنہ نے ( جواباً ) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غزوہ خیبر کے موقع پر اپنے پاس بلا بھیجا، اس وقت میری آنکھ دکھ رہی تھی، اور ( حاضر خدمت ہو کر ) میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میری آنکھیں آئی ہوئی ہیں، میں مبتلا ہوں، آپ نے میری آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر دعا فرمائی: اے اللہ اس سے سردی اور گرمی کو دور رکھ ۔ علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس دن کے بعد سے آج تک میں نے سردی اور گرمی کو محسوس ہی نہیں کیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایسے آدمی کو ( جہاد کا قائد بنا کر ) بھیجوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں، اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہے ۔ لوگ ایسے شخص کو دیکھنے کے لیے گردنیں اونچی کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ کو بلایا، اور جنگ کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں دے دیا ۔
She washed Mani from the garment of Allah's Messenger.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے، ۳- اور عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث ”کہ انہوں نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے کپڑے سے منی دھوئی“ ان کی کھرچنے والی حدیث کے معارض نہیں ہے ۱؎۔ اس لیے کہ کھرچنا کافی ہے، لیکن مرد کے لیے یہی پسند کیا جاتا ہے کہ اس کے کپڑے پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دے۔ ( کیونکہ مرد کو آدمیوں کی مجلسوں میں بیٹھنا ہوتا ہے ) ابن عباس کہتے ہیں: منی رینٹ ناک کے گاڑھے پانی کی طرح ہے، لہٰذا تم اسے اپنے سے صاف کر لو چاہے اذخر ( گھاس ) ہی سے ہو۔
Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ entered upon me after he has passed water. He then called for water for ablution. We brought to him a vessel containing water, and placed it before him. He said: O Ibn Abbas, may I not show you how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم used to perform ablution? I replied: Why not? He then inclined the vessel to his hand and washed it. He then put his right hand in the vessel and poured water over the other hand and washed his hands up to the wrist. He then rinsed his mouth and snuffed up water. He then put both of his hands together in the water and took out a handful of water and threw it upon the face. He then inserted both of his thumbs in the front part of the ears. He did like that twice and thrice. He then took a handful of water and poured it over his forehead and left it running down his face. He then washed his forearms up to the elbow three times. He then wiped his head and the back of his ears. He then put both of his hands together in the water and took a handful of it and threw it on his foot. He had a shoe foot like that. Do you wash your foot while it is in the shoe? He replied: Yes, while it is in the shoe. This question and answer were repeated thrice. Abu Dawud said: The version transmitted by Ibn Juraij from Shaibah is similar to the one narrated by Ali رضی اللہ عنہ . In this version Hajjaj reported on the authority of Ibn Juraij the wording: He wiped his head once. Ibn Wahb narrated from Ibn Juraij the wording: he wiped his head three times.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ استنجاء کر کے میرے پاس آئے، اور وضو کے لیے پانی مانگا، ہم ایک پیالہ لے کر ان کے پاس آئے جس میں پانی تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں ان کے سامنے رکھا تو انہوں نے مجھ سے کہا: اے ابن عباس! کیا میں تمہیں دکھاؤں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو کرتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، ضرور دکھائیے، تو آپ نے برتن جھکا کر ہاتھ پر پانی ڈالا پھر اسے دھویا پھر اپنا داہنا ہاتھ ( برتن میں ) داخل کیا ( اور پانی لے کر ) اسے دوسرے پر ڈالا پھر اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دھویا، پھر کلی کی اور ناک جھاڑی، پھر اپنے دونوں ہاتھ ( ملا کر ) ایک ساتھ برتن میں ڈالے اور لپ بھر پانی لیا اور اسے اپنے منہ پر مارا پھر دونوں انگوٹھوں کو کانوں کے اندر یعنی سامنے کے رخ پر پھیرا، پھر دوسری اور تیسری بار ( بھی ) ایسا ہی کیا، پھر اپنی داہنی ہتھیلی میں ایک چلو پانی لے کر اپنی پیشانی پر ڈالا اور اسے چھوڑ دیا، وہ آپ کے چہرے پر بہہ رہا تھا، پھر دونوں ہاتھ تین تین بار کہنیوں تک دھوئے، اس کے بعد سر اور دونوں کانوں کے اوپری حصہ کا مسح کیا، پھر اپنے دونوں ہاتھ پانی میں ڈال کر ایک لپ بھر پانی لیا اور اسے ( دائیں ) پیر پر ڈالا، اس وقت وہ پیر میں جوتا پہنے ہوئے تھے اور اس سے پیر دھویا پھر دوسرے پیر پر بھی اسی طرح پانی ڈال کر اسے دھویا ۱؎۔ عبیداللہ خولانی کہتے ہیں کہ میں نے ( عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ) پوچھا: علی رضی اللہ عنہ نے دونوں پیر میں جوتا پہنے پہنے ایسا کیا؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے کیا، میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں، جوتا پہنے پہنے، پھر میں نے کہا: جوتا پہنے پہنے؟ آپ نے کہا: ہاں چپل پہنے پہنے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: ابن جریج کی حدیث جسے انہوں نے شیبہ سے روایت کیا ہے علی رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے اس لیے کہ اس میں حجاج بن محمد نے ابن جریج سے «مسح برأسه مرة واحدة» کہا ہے اور ابن وہب نے اس میں ابن جریج سے «ومسح برأسه ثلاثا» روایت کیا ہے۔
Narrator: There is another hadith narrated on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہ (the contents of which are similar to the one) narrated by Shu'ba
in which the Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I forbid you to prepare nabidh in a gourd, hollowed block of wood, a varnished jar or receptacle. Ibn Mu'adh made this addition on the authority of his father that the Messenger of Allah said to Ashajj, of the tribe of 'Abdul-Qais: You possess two qualities which are liked by Allah: insight and deliberateness.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں تمہیں اس نبیذ سے منع کرتا ہوں جو خشک کدو کے برتن ، لکڑی سے تراشیدہ برتن ، سبز مٹکے اور تارکول ملے برتن میں تیار کی جائے ( اس میں زیادہ خمیر اٹھنے کا خدشہ ہے جس سے نبیذ شراب میں بدل جاتی ہے ۔ ) ‘ ‘ ابن معاذ نے اپنے والد کی روایت میں اضافہ کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عبد القیس کے پیشانی پر زخم والے شخص ( اشج ) سے کہا : ’’تم میں دو خوبیاں ہیں جنہیں اللہ پسند فرماتا ہے : عقل اور تحمل ۔ ‘ ‘
It was narrated that 'Ubaid bin Juraih said: I said to Ibn 'Umar: 'I see you are wearing Sibtiyyah sandals, [1] and you performed Wudu' in them.' He said: 'I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wearing then and performing Wudu' in them.' [1] Made of hairless, tanned leather.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں دیکھتا ہوں کہ آپ چمڑے کی ان سبتی جوتوں کو پہنتے ہیں، اور اسی میں وضو کرتے ہیں؟ ۱؎ تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انہیں پہنتے اور ان میں وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے، سبتی جوتوں سے مراد بالوں کے بغیر نری کے چمڑے کی جوتیاں ہیں۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، خدیجہ ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے زمانہ جاہلیت میں وفات پانے والے اپنے دو بچوں کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ جہنم میں ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، جب آپ نے ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات دیکھے تو فرمایا :’’ اگر آپ ان دونوں کی جگہ دیکھ لیں تو آپ ان سے بغض رکھیں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ سے جو میری اولاد پیدا ہوئی ہے ؟ آپ نے فرمایا :’’ جنت میں ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مومن اور ان کی اولاد جنت میں ، مشرک اور ان کی اولاد جہنم میں ۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی اولاد نے ایمان لانے میں ان کی پیروی کی تو ہم ان کی اولاد کو بھی ان کے ساتھ ملا دیں گے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (فی زوائد المسند ۱/ ۱۳۴ ، ۱۳۵ ح ۱۱۳۱) ۔
Amr bin Yahya al-Mazini reports on the authority of his father who asked Abdullah bin Zaid, the grandfather of Amr bin Yahya al-Mazini: Can you show me how the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم performed ablution? Abdullah bin Zaid رضی اللہ عنہ replied: Yes. He called for ablution water, poured it over his hands, and washed them; then he rinsed his mouth and snuffed up water in the nose three times; then he washed his face three times and washed his forearms up to elbow twice; then he wiped his head with both hands, moving them front and back of the head, beginning from his forehead, and moved them to the nape; then he pulled them back to the place from where he had started (wiping); then he washed his feet.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے عبداللہ بن زید بن عاصم ( جو عمرو بن یحییٰ مازنی کے نانا ہیں ) سے کہا: کیا آپ مجھے دکھا سکتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح وضو فرماتے تھے؟ تو عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، پس آپ نے وضو کے لیے پانی منگایا، اور اپنے دونوں ہاتھوں پر ڈالا اور اپنے دونوں ہاتھ دھوئے، پھر تین بار کلی کی، اور تین بار ناک جھاڑی، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا، پھر دونوں ہاتھ کہنیوں تک دو دو بار دھوئے، پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کا مسح کیا، ان دونوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے اس طرح کہ اس کی ابتداء اپنے سر کے اگلے حصے سے کی، پھر انہیں اپنی گدی تک لے گئے پھر انہیں اسی جگہ واپس لے آئے جہاں سے شروع کیا تھا، پھر اپنے دونوں پیر دھوئے۔
It is reported on the authority of Qatada that one among the delegates of the 'Abdul-Qais tribe narrated this tradition to him. Sa'id said that Qatada had mentioned the name of Abu Nadra on the authority of Abu Sa'id Khudri who narrated this tradition: That people from the- tribe of 'Abdul-Qais came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Messenger of Allah, we belong to the tribe of Rabi'a and there live between you and us the unbelievers of the Mudar tribe and we find it impossible to come to you except in the sacred months; direct us to a deed which we must communicate to those who have been left behind us and by doing which we may enter heaven. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I enjoin upon you four (things) and forbid you to do four (things): worship Allah and associate none with Him, establish prayer, pay Zakat, and observe the fast of Ramadan, and pay the fifth part out of the booty. And I prohibit you from four (things): dry gourds, green-coloured jars, hollowed stumps of palm-trees, and receptacles. They (the members of the delegation) said: Do you know what al-naqir is? He replied: Yes, it is a stump which you hollow out and in which you throw small dates. Sa'id said: He (the Holy Prophet) used the word tamar (dates). (The Prophet then added): Then you sprinkle water over it and when its ebullition subsides, you drink it (and you are so intoxicated) that one amongst you, or one amongst them (the other members of your tribe, who were not present there) strikes his cousin with the sword. He (the narrator) said: There was a man amongst us who had sustained injury on this very account due to (intoxication), and he told that he tried to conceal it out of shame from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). I, however, inquired from the Messenger of Allah (it we discard those utensils which you have forbidden us to use), then what type of vessels should be used for drink? He (the Holy Prophet) replied: In the waterskin the mouths of which are tied (with a string). They (again) said: Prophet of Allah, our land abounds in rats and water-skins cannot remain preserved. The holy Prophet of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: (Drink in water-skins) even if these arenibbled by rats. And then (addressing) al-Ashajj of 'Abdul-Qais he said: Verily, you possess two such qualities which Allah loves: insight and deliberateness.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
( اسماعیل ) ابن علیہ نے کہا : ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : مجھے اس شخص نے بتایا جو رسو ل اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والے عبد القیس کے وفد سے ملے تھا ( سعید نےکہا : قتادہ نے ابو نضرہ کا نام لیا تھا یہ وفد سے ملے تھے ، اور تفصیل حضرت ابو سعید سے سن کر بیان کی ) انہوں نےحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے یہ روایت کی کہ عبد القیس کے کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! ہم ربیعہ کے لوگ ہیں ، ہمارے اور آپ کے درمیان مضر کے کافر حائل ہیں اور ہم حرمت والے مہینوں کے علاوہ آپ کی خدمت میں نہیں پہنچ سکتے ، اس لیے آپ ہمیں وہ حکم دیجیے جو ہم اپنے پچھلوں کو بتائیں اور اگر اس پر عمل کر لیں تو ہم ( سب ) جنت میں داخل ہو جائیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے روکتا ہ و : ( حکم دیتا ہوں کہ ) اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ ، نماز کی پابندی کرو ، زکاۃ دیتے رہو ، رمضان کے روزے رکھو اور غنیمتوں کا پانچواں حصہ ادا کرو ۔ اور چار چیزیں سے میں تمہیں روکتا ہوں : خشک کدو کے برتن سے ، سبز مٹکے سے ، ایسے برتن سے جس کو روغن زفت ( تارکول ) لگایا گیا ہو اور نقیر ( لکڑی کے تراشے ہوئے برتن ) سے ۔ ‘ ‘ ان لوگوں نے کہا : اے اللہ کے نبی ! آپ کو نقیر کے بارے میں کیا علم ہے ؟ فرمایا : ’’کیوں نہیں ! ( یہ ) تنا ہے ، تم اسے اندر سے کھوکھلا کرتے ہو ، اس میں ملی جلی چھوٹی کھجوریں ڈالتے ہو ) پھر اس میں پانی ڈالتے ہو ، پھر جب اس کا جوش ( خمیر اٹھنے کے بعد کا جھاگ ) ختم ہو جاتا ہے تواسے پی لیتے ہو یہاں تک کہ تم میں سے ایک ( یا ان میں ایک ) اپنے چچازاد کو تلوار کا نشانہ بناتا ہے ۔ ‘ ‘ ابو سعید نے کہا : لوگوں میں ایک آدمی تھا جس کو اسی طرح ایک زخم لگا تھا ۔ اس نے کہا : میں شرم و حیا کی بنا پر اسے رسول اللہ ﷺ سے چھپا رہا تھا ، پھر میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! تو ہم کس پیا کریں ؟ آپ نے فرمایا : ’’چمڑے کی ان مشکوں میں پیو جن کے منہ ( دھاگے وغیرہ سے ) باندھ دیے جاتے ہیں ۔ ‘ ‘ اہل وفد بولے : اے اللہ کے رسول ! ہماری زمین میں چوہے بہت ہیں ، وہاں چمڑے کے مشکیزے نہیں بچ پاتے ۔ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا : ’’چاہے انہیں چوہے کھا جائیں ، چاہے انہیں چوہے کھا جائیں ، چاہے انہیں کھا جائیں ۔ ‘ ‘ کہا : ( پھر ) رسول اللہ ﷺ نے عبد القیس کے اس شخص سے جس کے چہرے پر زخم تھا ، فرمایا : ’’تمہارے اندر دو ایسی خوبیاں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے : عقل اور تحمل ۔ ‘ ‘
It was narrated from Jarir bin 'Abdullah that he performed Wudu' and wiped over his Khuffs. it was said to him: Are you wiping (over you Khuffs)? He said: I saw the Messenger of Allah (ﷺ) wiping (over his Khuffs). The companions of 'Abdullah liked what Jarir said, because Jarir became Muslim shortly before the Prophet (ﷺ) died.[1] [1]In the narration recorded by At-Tirmidhi Nos. 93,94) this comment is attributed to Ibrahim, one of the narrators.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے وضو کیا، اور اپنے دونوں موزوں پر مسح کیا، تو ان سے کہا گیا: کیا آپ مسح کرتے ہیں؟ اس پر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسح کرتے دیکھا ہے۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب اللہ نے آدم ؑ کو پیدا کیا تو ان کی پشت پر ہاتھ پھیرا تو ان کی پشت سے وہ تمام روحیں ، جنہیں اس نے ان کی اولاد سے روز قیامت تک پیدا کرنا تھا ، نکل آئیں ، اور ان میں سے ہر انسان کی پیشانی پر نور کا ایک نشان لگا دیا ، پھر انہیں آدم ؑ پر پیش کیا تو انہوں نے عرض کیا : میرے پروردگار ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا : تمہاری اولاد ، پس انہوں نے ان میں ایک شخص کو دیکھا تو اس کی پیشانی کا نشان انہیں بہت اچھا لگا ، تو انہوں نے عرض کیا ، میرے پروردگار ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا : داؤد ؑ ، تو انہوں نے عرض کیا ، میرے پروردگار ! آپ نے اس کی کتنی عمر مقرر کی ہے ؟ فرمایا : ساٹھ سال ، انہوں نے عرض کیا : پروردگار ! میری عمر سے چالیس سال اسے مزید عطا فرما دے ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدم ؑ کی عمر کے چالیس برس باقی رہ گئے تو ملک الموت ان کے پاس آیا تو آدم ؑ نے فرمایا : کیا میری عمر کے چالیس برس باقی نہیں رہتے ؟ اس نے جواب دیا کیا آپ نے وہ اپنے بیٹے داؤد ؑ کو نہیں دیے تھے ؟ آدم ؑ نے انکار کر دیا ، اسی طرح اس کی اولاد نے بھی انکار کیا ، آدم ؑ بھول گئے اور اس درخت سے کچھ کھا لیا ، تو اب اس کی اولاد بھی بھول جاتی ہے ، اور آدم ؑ نے خطا کی اور اس کی اولاد بھی خطا کار ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۳۰۷۶) و الحاکم (۲/ ۵۸۶) ۔
I heard the Messenger of Allah say: ''Ali is part of me and I am part of him, and no one will represent me except 'Ali.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: علی مجھ سے ہیں، اور میں ان سے ہوں، اور میری طرف سے اس پیغام کو سوائے علی کے کوئی اور پہنچا نہیں سکتا ۔
Abu Ishaq: There is a similar report (as no. 1I8) narrated via Abu Ishaq.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابواسحاق سے اسی طرح مروی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہی سعید بن مسیب وغیرہ کا قول ہے، ۲- کئی سندوں سے عائشہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سونے سے پہلے وضو کرتے تھے، ۳- یہ ابواسحاق سبیعی کی حدیث ( رقم ۱۱۸ ) سے جسے انہوں نے اسود سے روایت کیا ہے زیادہ صحیح ہے، اور ابواسحاق سبیعی سے یہ حدیث شعبہ، ثوری اور دیگر کئی لوگوں نے بھی روایت کی ہے اور ان کے خیال میں اس میں غلطی ابواسحاق سبیعی سے ہوئی ہے ۱؎۔
When a delegation from Abdul-Qais came to Messenger of Allah ﷺ... and he narrated a Hadith similar to that of Ibn 'Ulayyah (no. 118), but he said: "And they put small dates, dates and water in it." And he did not say: "Sa'eed said: 'Or he said: "Dates."
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب عبدالقیس کا وفد رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا .... ، پھر ابن علیہ کی حدیث کے مانند روایت بیان کی ، البتہ اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’تم اس میں ملی جلی کھجوریں ، ( عام ) کھجوریں اور پانی ڈالتے ہو ۔ ‘ ‘ ( اور ابن ابی عدی نے اپنی روایت میں ) یہ الفاظ ذکر نہیں کیے کہ سعید نے کہا ، یا آپﷺ نے فرمایا : ’’کچھ کھجوریں ڈالتے ہو ۔ ‘ ‘