Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
عرباض بن ساریہ ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی ، پھر آپ نے اپنا رخ انور ہماری طرف کیا تو ایک بڑے بلیغ انداز میں ہمیں وعظ و نصیحت فرمائی جس سے آنکھیں اشکبار ہو گئیں اور دل ڈر گئے ، ایک آدمی نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ تو الوداعی نصیحتیں معلوم ہوتی ہیں ، پس آپ ہمیں وصیت فرمائیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے ، سننے اور اطاعت کرنے کی وصیت کرتا ہوں خواہ وہ (امیر) حبشی غلام ہو ، کیونکہ تم میں سے جو شخص میرے بعد زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا ، پس تم پر میری اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت لازم ہے ، پس تم اس سے تمسک اختیار کرو اور داڑھوں کے ساتھ اسے پکڑ لو ، اور دین میں نئے کام جاری کرنے سے بچو ، کیونکہ دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ ۔ البتہ امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نماز کا ذکر نہیں کیا ۔ صحیح ، رواہ احمد (۴/ ۱۲۶ ، ۱۲۷ ح ۱۷۲۷۵) و ابوداؤد (۴۶۰۷) و الترمذی (۲۶۷۶) و ابن ماجہ (۴۳) و ابن حبان (۱۰۲) و الحاکم (۱/ ۹۵ ، ۹۶) ۔
The Messenger of Allah embraced me and said: 'O Allah, teach him wisdom and the (correct) interpretation of the Book.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینہ سے لگایا، اور یہ دعا فرمائی: «اللهم علمه الحكمة وتأويل الكتاب» اے اللہ! اس کو میری سنت اور قرآن کی تفسیر کا علم عطاء فرما ۔
When the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم urinated, he performed ablution and sprinkled water on private parts of the body. Abu Dawud said: A group of scholars agreed with Sufyan upon this chain of narrators. Some have mentioned the name of Sufyan bin al-Hakam, and others al-Hakam bin Sufyan.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پیشاب کرتے تو وضو کرتے، اور ( وضو کے بعد ) شرمگاہ پر ( تھوڑا ) پانی چھڑک لیتے۔
ابوداؤد نے کہا:سفیان اور ایک گروہ نے اس سلسلہ روایت پر اتفاق کیا اور ان میں سے بعض نے کہا: الحکم، یا ابن الحکم۔
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There are three qualities for which any one who is characterised by them will relish the savour of faith: that he loves man and he does not love him but for Allah's sake alone; he is to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who prefers to be thrown into fire than to return to unbelief after Allah has rescued him out of it.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تین باتیں جس میں بھی ہوں گی و ہ ایمان کا ذائقہ پا لے گا ( 1 ) جوشخص کسی انسان سے محبت کرتا ہے او راللہ کے سوا کسی اور کی خاطر اس سے محبت نہیں کرتا ۔ ( 2 ) جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ باقی ہر کسی سے زیادہ پیارے ہیں ( 3 ) اور جب اللہ نے اسے کفر سے بچا لیا ہے تو آ گ میں ڈالا جانا ، اسے کفر میں دوبارہ لوٹنے سے زیادہ پسند ہے ۔ ‘ ‘
It was narrated that 'Aishah said: The Messenger of Allah (ﷺ) used to pray when I was lying in front of him as the bier is placed (in front of the Imam), and when he wanted to pray Witr he would nudge me with his foot.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے اور میں آپ کے سامنے جنازے کی طرح چوڑان میں لیٹی رہتی تھی، یہاں تک کہ جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے اپنے پاؤں سے کچوکے لگاتے ۱؎۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے لیے ایک خط کھینچا ، پھر فرمایا :’’ یہ اللہ کی راہ ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے دائیں بائیں کچھ خط کھینچے ، اور فرمایا :’’ یہ اور راہیں ہیں ، اور ان میں سے ہر راہ پر ایک شیطان ہے جو اس راہ کی طرف بلاتا ہے ۔‘‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ یہ میری سیدھی راہ ہے ، پس اس کی اتباع کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۱/ ۴۳۵ ح ۴۱۴۲) و النسائی (فی الکبریٰ : ۱۱۱۷۴ ، التفسیر : ۱۹۴) و الدارمی (۱/ ۶۷ ، ۶۸ ح ۲۰۸) و ابن حبان (۱۷۴۱ ، ۱۷۴۲) و الحاکم (۲/ ۳۱۸) و ابن ماجہ (۱۱) ۔
He mentioned the Khawarij, and said: Among them there will be a man with a defective hand, or a short hand, or small hand. If you were to exercise restraint (i.e., not become overjoyed), I would tell you of what Allah has promised upon the lips of Muhammed for those who kill them. I ('Ubaidah) said: Did you hear that from Muhammed? He said: Yes, by the Lord of the Ka'bah!' - three times.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے خوارج کا ذکر کیا، اور ذکر کرتے ہوئے کہا: ان میں ایک آدمی ناقص ہاتھ کا ہے ، اور اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ تم خوشی سے اترانے لگو گے تو میں تمہیں ضرور بتاتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان سے ان کے قاتلین کے لیے کس ثواب اور انعام و اکرام کا وعدہ فرمایا ہے، میں نے کہا: کیا آپ نے یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ کہا: ہاں، کعبہ کے رب کی قسم! ( ضرور سنی ہے ) ، اسے تین مرتبہ کہا۔
A man from Thaqif on the authority of his father reported: I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم urinate, and he sprinkled water on the private parts of his body.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے پیشاب کیا، پھر اپنی شرمگاہ پر پانی چھڑکا۔
"The messenger of Allah said..." a similar Hadith (as no. 166), except that he said: ".... then he returning to judaism or christianity.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا...... ( پھر اسی طرح بیان کیا ) جیسے سابقہ راویوں نے بیان کیا ہے ، البتہ انہوں نے یہ ( الفاظ ) کہے : ’’اس کو پھر سے یہودی یا عیسائی ہو جانے سے ( آگ میں ڈالا جانا زیادہ پسند ہو ۔ ) ‘ ‘
It was narrated that 'Aishah said: I remember lying in front of the Messenger of Allah (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) was praying. When he wanted to prostrate he would nudge my foot and I would draw it up (out of the way) until he had finished prostrating.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
تم لوگوں نے دیکھا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی اور آپ نماز پڑھتے ہوتے، جب آپ سجدہ کا ارادہ کرتے تو میرے پاؤں کو کچوکے لگاتے، تو میں اسے سمیٹ لیتی، پھر آپ سجدہ کرتے۔
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ اس کی خواہشات میری لائی ہوئی شریعت کے تابع ہو جائیں ،‘‘ امام بغوی نے شرح السنہ میں اسے روایت کیا ہے ۔ امام نووی نے اربعین میں فرمایا : یہ حدیث صحیح ہے اور ہم نے اسے کتاب الحجہ میں صحیح سند کےساتھ روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ (۱/ ۲۱۲ ، ۲۱۳ ح ۱۰۴) و النووی فی الاربعین (۴۱) ۔
The Messenger of Allah said: 'At the end of time there will appear a people with new teeth (i.e. young in age), with foolish minds. They will speak the best words ever uttered by mankind and they will recite the Qur'an, but it will not go any deeper than their collarbones. They will pass through Islam like an arrow passes through its target. Whoever meets them, let him kill them, for killing them will bring a reward from Allah for those who kill them.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اخیر زمانہ میں کچھ نوعمر، بیوقوف اور کم عقل لوگ ظہور پذیر ہوں گے، لوگوں کی سب سے اچھی ( دین کی ) باتوں کو کہیں گے، قرآن پڑھیں گے، لیکن ان کے حلق سے نہ اترے گا، وہ اسلام سے ویسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے، تو جو انہیں پائے قتل کر دے، اس لیے کہ ان کا قتل قاتل کے لیے اللہ تعالیٰ کے نزدیک باعث اجر و ثواب ہے ۔
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: No bondsman believes, and, in the hadith narrated by Abdul Warith, no person believes, till I am dearer to him than the members of his household, his wealth and the whole of mankind.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی بندہ ( اور عبد الوارث کی حدیث میں ہے کوئی آدمی ) اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے اہل و عیال ، مال اورسب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں ۔ ‘ ‘
It was narrated that 'Aishah said: I used to sleep in front of the Messenger of Allah (ﷺ) and my feet were in the direction of his Qiblah. When he prostrated he nudged me and I drew up my feet, then when he stood up I stretched them out again. And there were no lamps in the houses at the time.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوتی تھی اور میرے دونوں پاؤں آپ کے قبلہ کی طرف ہوتے، جب آپ سجدہ کرتے تو مجھے کچوکے لگاتے تو میں اپنے دونوں پاؤں سمیٹ لیتی، پھر جب آپ کھڑے ہو جاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی، ان دنوں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔
بلال بن حارث مزنی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے میری کسی ایسی سنت کا احیا کیا ، جسے میرے بعد ترک کر دیا گیا ، تو اسے بھی ، اس پر عمل کرنے والوں کے برابر ثواب ملے گا اور ان کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہو گی ، اور جس نے بدعت و ضلالت کو جاری کیا جسے اللہ اور اس کے رسول پسند نہیں کرتے ، تو اسے بھی اتنا ہی گناہ ملے گا جتنا اس پر عمل کرنے والوں کو ملے گا اور ان کے گناہوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی (۲۶۷۷) و ابن ماجہ (۲۰۹) ۔
I said to Abu Sa'eed Khudri رضی اللہ عنہ : 'Did you hear the Messenger of Allah mention anything about the Haruriyyah (a sect of Khawarij)?' He said: 'I heard him mention a people who would appear to be devoted worshippers: Such that anyone of you would regard his own prayer and fasting as insignificant when compared to theirs. But they will pass through Islam like an arrow passing through its target, then he (the archer) picks up his arrow and looks at its iron head but does not see anything, then he looks at the shaft and does not see anything, then he looks at the band: that which is wrapped around the iron head where it is connected to the shaft, then he looks at the feather and is not sure whether he sees anything or not.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حروریہ ۱؎ ( خوارج ) کے بارے میں کچھ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ایسی قوم کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے جو بڑی عبادت گزار ہو گی، اس کی نماز کے مقابلہ میں تم میں سے ہر ایک شخص اپنی نماز کو کمتر اور حقیر سمجھے گا ۲؎، وہ دین سے ایسے ہی نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے جسم سے نکل جاتا ہے کہ تیر انداز اپنا تیر لے کر اس کا پھل دیکھتا ہے، تو اسے ( خون وغیرہ ) کچھ بھی نظر نہیں آتا، پھر اس کے پھل کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر اپنے تیر کی لکڑی کو دیکھتا ہے تو بھی کچھ نظر نہیں آتا، پھر وہ تیر کے پر کو دیکھتا ہے تو شک میں مبتلا ہوتا ہے کہ آیا اسے کچھ اثر دکھایا نہیں۔
We served ourselves in the company of Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم. We tended our camels by turn. One day I had my turn to tend the camels, and I drove them in the afternoon. I found the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم addressing the people. I heard him say: Anyone amongst you who performs ablution, and does it well, then he stands and offers two rak’ahs of prayer, concentrating on it with his heart and body, Paradise will be his lot by all means. I said: Ha-ha! How fine it is! A man in front of me said: The action (mentioned by the Prophet) earlier, O Uqbah, is finer that this one. I looked at him and found him to be Umar bin al-Khattab رضی اللہ عنہ . I asked him: What is that, O Abu Hafs? He replied: He (the Prophet) had said before you came: If any one of you performs ablution, and does it well, and when he finishes the ablution, he utters the words: I bear witness that there is no deity except Allah, He has o associate, and I bear witness that Muhammad is His Servant and His Messenger, all the eight doors of Paradise will be opened for him; he may enter (through) any of them. Muawiyah said: Rabiah bin Yazid narrated this tradition to me from Abu Idris and the authority of Uqbah bin ’Amir رضی اللہ عنہ .
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنا کام خود کرتے تھے، باری باری اپنے اونٹوں کو چراتے تھے، ایک دن اونٹ چرانے کی میری باری آئی، میں انہیں شام کے وقت لے کر چلا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے، پھر کھڑے ہو کر دو رکعت نماز پوری توجہ اور حضور قلب ( دل جمعی ) کے ساتھ ادا کرے تو اس نے ( اپنے اوپر جنت ) واجب کر لی ، میں نے کہا: واہ واہ یہ کیا ہی اچھی ( بشارت ) ہے، اس پر میرے سامنے موجود شخص نے عرض کیا: عقبہ! جو بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے فرمائی، وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ تھی، میں نے دیکھا تو وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے، عرض کیا: ابوحفص! وہ کیا تھی؟ آپ نے کہا: تمہارے آنے سے پہلے ابھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے جو شخص بھی اچھی طرح وضو کرے، پھر وضو سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھے: «أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأن محمدا عبده ورسوله» میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جائیں گے، وہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو ۔ معاویہ کہتے ہیں: مجھ سے ربیعہ بن یزید نے بیان کیا ہے، انہوں نے ابوادریس سے اور ابوادریس نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
It is reported on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah said: None of you is a believer till I am dearer to him than his child, his father and the whole of mankind.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص ( اس وقت تک ) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد ، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں ۔ ‘ ‘
It was narrated from Abu Hurairah that 'Aishah said: I noticed the Prophet (ﷺ) was not there one night, so I started looking for him with my hand. My hand touched his feet and they were held upright, and he was prostrating and saying: 'I seek refuge in Your pleasure from Your anger, in Your forgiveness from Your punishment, and I seek refuge in You from You. I cannot praise You enough, You are as You have praised yourself.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک رات میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غائب پایا، تو اپنے ہاتھ سے آپ کو ٹٹولنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں پر پڑا، آپ کے دونوں قدم کھڑے تھے اور آپ سجدے میں تھے، کہہ رہے تھے: «أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك» اے اللہ! پناہ مانگتا ہوں تیری رضا مندی کی تیری ناراضگی سے، اور تیری عافیت کی تیرے عذاب سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں تجھ سے، میں تیری شمار کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسے تو نے اپنی تعریف کی ہے ۔