Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Sunan An-Nasa`i • The Book of Purification • Hadith 129
It was narrated that Shuraih bin Hani' said: I asked 'Aishah about wiping over the Khuffs and she said: 'Go to 'Ali, for he knows more about that than I do.' So I went to 'Ali and asked him about wiping (over the Khuffs) and he said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) used to tell us to wipe (over the Khuffs) for one day and one night for the resident, and three for the traveler.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے موزوں پر مسح کے متعلق دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: علی رضی اللہ عنہ سے جا کر پوچھو، وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہیں، چنانچہ میں علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے مسح کے متعلق دریافت کیا؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں حکم دیتے تھے کہ مقیم ایک دن ایک رات، اور مسافر تین دن اور تین راتیں مسح کرے ۱؎۔
زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار بنونجار کے باغ میں تھے جبکہ ہم بھی آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک خچر بدکا ، قریب تھا کہ وہ آپ کو گرا دیتا ، وہاں پانچ ، چھ قبریں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، میں : آپ نے فرمایا :’’ وہ کب فوت ہوئے تھے ؟‘‘ اس نے کہا : حالت شرک میں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اس امت کے لوگوں کا ان کی قبروں میں امتحان لیا جائے گا ، اگر ایسے نہ ہوتا کہ تم دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ عذاب قبر تمہیں سنا دے جو میں سن رہا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رخ انور ہماری طرف کرتے ہوئے فرمایا :’’ جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہم ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
I heard Sa'd bin Abu Waqqas رضی اللہ عنہ say: 'The Messenger of Allah mentioned his parents together for me on the Day of Uhud. He said: 'Shoot, Sa'd! May my father and mother be sacrificed for you!'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے غزوہ احد کے دن اپنے والدین کو جمع کیا، اور فرمایا: اے سعد! تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں ۔
A woman asked `Aishah: Shouldn't one of us make up her prayers the days of her menstruation? So she said, Are you one of the Haruriyyah? Indeed we would menstruate, and we were not ordered to make up.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ایک عورت نے عائشہ رضی الله عنہا سے پوچھا: کیا ہم حیض کے دنوں والی نماز کی قضاء کیا کریں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ۱؎ ہے؟ ہم میں سے ایک کو حیض آتا تھا تو اسے قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور عائشہ سے اور کئی سندوں سے بھی مروی ہے کہ حائضہ نماز قضاء نہیں کرے گی، ۳- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ حائضہ روزہ قضاء کرے گی اور نماز قضاء نہیں کرے گی۔
It Is narrated on the authority of Abu Malik: I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: He who professed that there is no god but Allah and made a denial of everything which the people worship beside Allah, his property and blood became inviolable, an their affairs rest with Allah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
مروان فزاری نے ابو مالک ( سعد بن طارق اشجعی ) سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد ( طارق بن اشیم ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس نے لا اله الا الله کہا اور اللہ کے سوا جن کی بندگی کی جاتی ہے ، ان ( سب ) کا انکار کیا تو اس کا مال و جان محفوظ ہو گیا اور اس کا حساب اللہ پر ہے ۔ ‘ ‘
An-Nazzal bin Sabrah said: I saw 'Ali (may Allah be please with him) praying Zuhr, then he sat to tend to the people's needs, and when the time for 'Asr came, a vessel of water was brought to him. He took a handful of it and wiped his face, forearms, head and feet with it, then he took what was left and drank standing up. He said: 'People dislike this, but I saw the Messenger of Allah (ﷺ) doing it. This is the Wudu' of one who has not committed Hadath.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے نزال بن سبرہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ نے ظہر کی نماز پڑھی، پھر لوگوں کی ضرورتیں پوری کرنے یعنی ان کے مقدمات نپٹانے کے لیے بیٹھے، جب عصر کا وقت ہوا تو پانی کا ایک برتن لایا گیا، آپ نے اس سے ایک ہتھیلی میں پانی لیا، پھر اسے اپنے چہرہ، اپنے دونوں بازو، سر اور دونوں پیروں پر ملا ۱؎، پھر بچا ہوا پانی لیا اور کھڑے ہو کر پیا، اور کہنے لگے کہ کچھ لوگ اسے ناپسند کرتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ہے، اور یہ ان لوگوں کا وضو ہے جن کا وضو نہیں ٹوٹا ہے۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب میت کو قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے ۔ تو سیاہ فام نیلی آنکھوں والے دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہتے ہیں ۔ پس وہ کہتے ہیں ؟ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے ؟ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں : ہمیں پتہ تھا کہ تم یہی کہو گے ، پھر اس کی قبر کو طول و عرض میں ستر ستر ہاتھ کشادہ کر دیا جاتا ہے ، پھر اس کے لیے اس میں روشنی کر دی جاتی ہے ، پھر اسے کہا جاتا ہے : سو جاؤ ، وہ کہتا ہے : میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں تاکہ انہیں بتا آؤں ، لیکن وہ کہتے ہیں دلہن کی طرح سو جا ، جسے اس کے گھر کا عزیز ترین فرد ہی بیدار کرتا ہے ، حتیٰ کہ اللہ اسے اس کی خواب گاہ سے بیدار کرے گا ، اور اگر وہ منافق ہوا تو وہ کہے گا : میں نے لوگوں کو ایک بات کرتے ہوئے سنا ، تو میں نے بھی ویسے ہی کہہ دیا ، میں کچھ نہیں جانتا ، وہ فرشتے کہتے ہیں : ہمیں پتہ تھا کہ تم یہی کہو گے، پس زمین سے کہا جاتا ہے : اس پر تنگ ہو جا ، وہ اس پر تنگ ہو جاتی ہے ۔ اس سے اس کی ادھر کی پسلیاں ادھر آ جائیں گی ، پس اسے اس میں مسلسل عذاب ہوتا رہے گا حتیٰ کہ اللہ اس کی اس خواب گاہ سے اسے دوبارہ زندہ کرے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۰۷۱) و ابن حبان (لاحسان : ۳۱۰۷) ۔
The Prophet said: The menstruating woman does not recite - nor the Junub - anything from the Qur'an. [He said:] There is narration on this topic from Ali
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس باب میں علی رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۲- ابن عمر رضی الله عنہما کی حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن عیاش ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ جس میں ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”جنبی اور حائضہ ( قرآن ) نہ پڑھیں“، ۳- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اور ان کے بعد کے لوگ مثلاً سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ حائضہ اور جنبی آیت کے کسی ٹکڑے یا ایک آدھ حرف کے سوا قرآن سے کچھ نہ پڑھیں، ہاں ان لوگوں نے جنبی اور حائضہ کو تسبیح و تہلیل کی اجازت دی ہے۔
It was narrated from 'Amr bin 'Amir that Anas mentioned: The Messenger of Allah (ﷺ) was brought a small vessel (of water) and he performed Wudu'. I said: Did the Messenger of Allah (ﷺ) perform Wudu' for every prayer? He said: Yes. He said: What about you? He said: We used to pray all the prayers so long as we did not commit Hadath. He said: And we used to pray all the prayers with (one) Wudu'.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹا سا برتن لایا گیا، تو آپ نے ( اس سے ) وضو کیا، عمرو بن عامر کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے لیے وضو کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں ۱؎! اس پر ( عمرو بن عامر ) نے پوچھا: اور آپ لوگ؟ کہا: ہم لوگ جب تک وضو نہیں توڑتے نماز پڑھتے رہتے تھے، نیز کہا: ہم لوگ کئی نمازیں ایک ہی وضو سے پڑھتے تھے۔
براء بن عازب ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، تو اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں ، تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے ، پھر وہ پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے ، پھر وہ پوچھتے ہیں : یہ آدمی جو تم میں مبعوث کیے گئے تھے ، وہ کون تھے ؟ وہ جواب دے گا وہ اللہ کے رسول ہیں ، وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں : تمہیں کس نے بتایا ؟ وہ کہتا ہے : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی ، تو میں اس پر ایمان لے آیا اور تصدیق کی ، اس کا یہ جواب دینا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے :’’ اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں ، سچی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے ۔‘‘ فرمایا : آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا ، اسے جنتی بچھونا بچھا دو ، جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو ، وہ کھول دیا جاتا ہے ، وہاں سے معطر بادنسیم اس کے پاس آتی ہے ، اور اس کی حد نگاہ تک اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کافر کی موت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹایا جاتا ہے ، دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، تو وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ پوچھتے ہیں : وہ شخص جو تم میں مبعوث کیے گئے تھے ، کون تھے ؟ پھر وہی جواب دیتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے : اس نے جھوٹ بولا ، لہذا اسے جہنم سے بستر بچھا دو ۔ جہنم سے لباس پہنا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو ، فرمایا : جہنم کی حرارت اور وہاں کی گرم لو اس تک پہنچے گی ، فرمایا : اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے ، حتیٰ کہ اس کی ادھر کی پسلیاں ادھر نکل جاتی ہیں ۔ پھر ایک اندھا اور بہرا داروغہ اس پر مسلط کر دیا جاتا ہے ۔ جس کے پاس لوہے کا بڑا ہتھوڑا ہوتا ہے ، اگر اسے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے ، وہ اس کے ساتھ اسے مارتا ہے تو جن و انس کے سوا مشرق و مغرب کے مابین موجود ہر چیز اس مار کو سنتی ہے ، وہ مٹی ہو جاتا ہے ، تو پھر روح کو دوبارہ اس میں لوٹا دیا جاتا ہے ۔ ‘‘ حسن ، رواہ احمد (۴/ ۲۸۷ ح ۱۸۷۳۳) و ابوداؤد (۳۲۱۲ ، ۴۷۵۳) و الحاکم (۱/ ۳۷ ، ۳۸ ح ۱۰۷) و الطبرانی (المعجم الکبیر ۲۵/ ۲۳۸ ، ۲۴۰ ح ۲۵) و البیھقی فی شعب الایمان (۳۹۵) ۔
When I would menstruate, Allah's Messenger ordered me to wear a waist wrap, then he would fondle me.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
مجھے جب حیض آتا تو رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مجھے تہ بند باندھنے کا حکم دیتے پھر مجھ سے چمٹتے اور بوس و کنار کرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام و تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ۲- اس باب میں ام سلمہ اور میمونہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں۔
I saw the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وسلم wiping his head once up to his nape. Musaddad reported: He wiped his head from front to back until he moved his hands from beneath the ears. Abu Dawud said: I heard Ahmad say: People thought that Ibn Uyainah had considered it to be munkar (rejected) and said: What is this chain: Talhah - his father - his grandfather ?
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے سر کا ایک بار مسح کرتے دیکھا یہاں تک کہ یہ «قذال» ( گردن کے سرے ) تک پہنچا۔ مسدد کی روایت میں یوں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے حصہ سے پچھلے حصہ تک اپنے سر کا مسح کیا یہاں تک کہ اپنے دونوں ہاتھوں کو اپنے دونوں کانوں کے نیچے سے نکالا۔ مسدد کہتے ہیں: تو میں نے اسے یحییٰ ( یحییٰ بن سعید القطان ) سے بیان کیا تو آپ نے اسے منکر کہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: میں نے احمد ( احمد بن حنبل ) کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ ( سفیان ) ابن عیینہ ( بھی ) اس حدیث کو منکر گردانتے تھے اور کہتے تھے کہ «طلحة عن أبيه عن جده» کیا چیز ہے؟
Narrator: It is reported by Sa'id bin Musayyib who narrated it on the authority of his father (Musayyib bin Hazm)When Abu Talib was about to die, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to him and found with him Abu Jahl ('Amr bin Hisham) and 'Abdullah bin Abi Umayya ibn al-Mughirah:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: My uncle, you just make a profession that there is no god but Allah, and I will bear testimony before Allah (of your being a believer), Abu Jahl and 'Abdullah bin Abi Umayya addressing him said: Abu Talib, would you abandon the religion of 'Abdul-Muttalib? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) constantly requested him (to accept his offer), and (on the other hand) was repeated the same statement (of Abu Jahl and 'Abdullah bin Abi Umayya) till Abu Talib gave his final decision and be stuck to the religion of 'Abdul-Muttalib and refused to profess that there is no god but Allah. Upon this the Messenger of Allah remarked: By Allah, I will persistently beg pardon for you till I am forbidden to do so (by God), It was then that Allah, the Magnificent and the Glorious, revealed this verse: It is not meet for the Prophet and for those who believe that they should beg pardon for the polytheists, even though they were their kith and kin, after it had been made known to them that they were the denizens of Hell (ix. 113) And it was said to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Verily thou canst not guide to the right path whom thou lovest. And it is Allah Who guideth whom He will, and He knoweth best who are the guided.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ چچا ! ایک کلمہ لا اله ا لله الله کہہ دیں ، میں اللہ کے ہاں آب کے حق میں اس کا گواہ بن جاؤں گا ۔ ‘ ‘ ابو جہل اور عبد اللہ بن امیہ نے کہا : ابو طالب! آپ عبدالمطلب کے دین کو چھوڑ دیں گے ؟ رسول اللہ ﷺ مسلسل ان کویہی پیش کش کرتے رہے اور یہی بات دہراتے رہے یہاں تک کہ ابو طالب نے ان لوگوں سے آخری بات کرتے ہوئے کہا : ’’وہ عبدالمطلب کی ملت پر ( قائم ) ہیں ‘ ‘ اور لا ا له الا الله کہنے سے انکار کر دیا ۔ تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! میں آپ کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے آپ ( کے حوالے ) سے روک نہ دیا جائے ۔ ‘ ‘ اس پر ا للہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : ’’نبی اور ایمان لانے والوں کے لیے جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا کریں ، خواہ وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں جبکہ ان کے سامنے واضح ہو چکا کہ وہ ( مشرکین ) جہنمی ہیں ۔ ‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے ابو طالب کے بارے میں یہ آیت بھی نازل فرمائی اور رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا : ’’ ( اے نبی ! ) بے شک آپ جسے چاہیں ہدایت نہیں دے سکتے لیکن اللہ جس کو چاہے ہدایت دے دیتا ہے او روہ سیدھی راہ پانے والوں کے بارے میں زیادہ آگاہ ہے ۔ ‘ ‘
It was narrated from Ibn 'Abbas that the Messenger of Allah (ﷺ) came out from the toilet and food was brought to him. They said: Shall we not bring water for Wudu'? He said: I have only been commanded to perform Wudu' when I want to pray.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کی جگہ سے نکلے تو آپ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا، تو لوگوں نے پوچھا: کیا ہم لوگ وضو کا پانی نہ لائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: مجھے وضو کرنے کا حکم اس وقت دیا گیا ہے جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوں ۔
عثمان ؓ سے روایت ہے جب آپ کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو ہاں اس قدر روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہو جاتی ، آپ سے پوچھا گیا ، آپ جنت اور جہنم کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں روتے مگر قبر کا ذکر کر کے روتے ہو ؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک قبر منازل آخرت میں سے پہلی منزل ہے ، پس اگر اس سے بچ گیا تو اس کے بعد جو منازل ہیں وہ اس سے آسان تر ہیں ، اور اگر اس سے نجات نہ ہوئی تو اس کے بعد جو منازل ہیں وہ اس سے زیادہ سخت ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے قبر سے زیادہ سخت اور برا منظر کبھی نہیں دیکھا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۳۰۸) و ابن ماجہ (۴۲۶۷) و الحاکم (۱/ ۳۷۱ ، ۴/ ۳۳۰ ، ۳۳۱) ۔