Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
40,465 records
Filter Ahadees
40,465 records
Jami' at-Tirmidhi • The Book on Salat (Prayer) • Hadith 295
Abdullah narrated: The Prophet would say the Salam from his right and from his left (saying): (As-Salamu alaikum wa rahmatullah, as-Salamu alaikum wa rahmatullah) 'Peace be upon you, and Allah's mercy. Peace be upon you, and Allah's mercy.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دائیں اور بائیں «السلام عليكم ورحمة الله السلام عليكم ورحمة الله» کہہ کر سلام پھیرتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں سعد بن ابی وقاص، ابن عمر، جابر بن سمرہ، براء، ابوسعید، عمار، وائل بن حجر، عدی بن عمیرہ اور جابر بن عبداللہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔ ۳- صحابہ کرام اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی سفیان ثوری، ابن مبارک، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
The Messenger of Allah said: 'These Hushush (waste areas) are visited (by devils), so when anyone of you enters, let him say: 'Allahumma inni a`udhu bika minal-khubthi wal-khaba'ith (O Allah, I seek refuge with You from male and female devils).' (Sahih) Other chains with similar wording.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پاخانہ جنوں کے حاضر ہونے کی جگہیں ہیں، لہٰذا جب کوئی پاخانہ میں جائے تو کہے:«اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» یعنی: اے اللہ! میں ناپاک جنوں اور جنیوں سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔
Aishah narrated: Allah's Messenger would say one Taslim for the Salat while facing forward and turning to his right side a little.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں اپنے چہرے کے سامنے داہنی طرف تھوڑا سا مائل ہو کر ایک سلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث ہم صرف اسی سند سے مرفوع جانتے ہیں، ۲- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: زہیر بن محمد سے اہل شام منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ البتہ ان سے مروی اہل عراق کی روایتیں زیادہ قرین صواب اور زیادہ صحیح ہیں، ۳- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل کا کہنا ہے کہ شاید زہیر بن محمد جو اہل شام کے یہاں گئے تھے، وہ نہیں جن سے عراق میں روایت کی جاتی ہے، کوئی دوسرے آدمی ہیں جن کا نام ان لوگوں نے بدل دیا ہے، ۴- اس باب میں سہل بن سعد رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے، ۵- نماز میں سلام پھیرنے کے سلسلے میں بعض اہل علم نے یہی کہا ہے، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی سب سے صحیح روایت دو سلاموں والی ہے ۱؎، صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے اکثر اہل علم اسی کے قائل ہیں۔ البتہ صحابہ کرام اور ان کے علاوہ میں سے کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ فرض نماز میں صرف ایک سلام ہے، شافعی کہتے ہیں: چاہے تو صرف ایک سلام پھیرے اور چاہے تو دو سلام پھیرے۔
The Messenger of Allah said: 'The screen between the Jinn and the nakedness of the sons of Adam is that when a person enters the Kanif, he should say: Bismillah (in the name of Allah).'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنوں اور بنی آدم ( انسانوں ) کی شرمگاہوں کے درمیان پردہ یہ ہے کہ جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو «بسم اللہ» کہے ۔
Abu Hurairah narrated: Hadhf the Salam is a Sunnah.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
«حذف سلام» سنت ہے۔ علی بن حجر بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں: «حذف سلام» کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسے یعنی سلام کو زیادہ نہ کھینچے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- یہی ہے جسے اہل علم مستحب جانتے ہیں، ۳- ابراہیم نخعی سے مروی ہے وہ کہتے ہیں تکبیر جزم ہے اور سلام جزم ہے ( یعنی ان دونوں میں مد نہ کھینچے بلکہ وقف کرے ) ۔
Whenever the Messenger of Allah entered the toilet, he would say: 'A'udhu Billahi minal-khubthi wa'l-khaba'ith (I seek refuge with Allah from male and female devils).'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ میں داخل ہوتے تو فرماتے: «أعوذ بالله من الخبث والخبائث» یعنی: میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں ناپاک جنوں اور جنیوں کے شر سے ۔
Aishah narrated: When Allah's Messenger said the Salam he would not remain seated except long enough to say: (Allahumma antas-salam, wa minkas-salam, tabarakta dhal jalali wal-Ikram) 'O Allah! You are the One free of defects, and perfection is from You. Blessed are You, Possessor of Majesty and Honor.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سلام پھیرتے تو «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت ذا الجلال والإكرام» ”اے اللہ تو سلام ہے، تجھ سے سلامتی ہے، بزرگی اور عزت والے! تو بڑی برکت والا ہے“ کہنے کے بقدر ہی بیٹھتے۔
The Messenger of Allah said: None of you should fail to say, when he enters his toilet: 'Allahumma inni a`udhu bika minar-rijsin-najis, al-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (O Allah, I seek refuge with You from the filthy and impure, the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).' (Da'if)
Another chain with a slightly different wording from Ibn Abi Maryam who mentioned similar, but he did not say in his narration: Minar-rijsin-najis (From the filthy and the impure) he only said: Minal-khabithil-mukhbith, ash-Shaitanir-rajim (From the evil one with evil companions, the accursed Shaitan).
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص پاخانہ میں داخل ہو تو اس دعا کے پڑھنے میں کوتاہی نہ کرے: «اللهم إني أعوذ بك من الرجس النجس الخبيث المخبث الشيطان الرجيم» یعنی: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ناپاک، گندے، برے بدکار راندے ہوئے شیطان کے شر سے ۔
Aishah narrated: (Another chain) which is similar, but he said: (Tabarakta ya dhal-jalali wal-ikram) Blessed are You, O Possessor of Majesty and Honor.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عاصم الاحول سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے اور اس میں «تباركت يا ذا الجلال والإكرام» ( «یا» کے ساتھ ) ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے، خالد الحذاء نے یہ حدیث بروایت عائشہ عبداللہ بن حارث سے عاصم کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ سلام پھیرنے کے بعد «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد يحيي ويميت وهو على كل شيء قدير اللهم لا مانع لما أعطيت ولا معطي لما منعت ولا ينفع ذا الجد منك الجد» ”اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، وہ تنہا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہت اسی کے لیے ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہی زندگی اور موت دیتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے، اے اللہ! جو تو دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے تو نہ دے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور تیرے آگے کسی نصیب والے کا کوئی نصیب کام نہیں آتا“ کہتے تھے، یہ بھی مروی ہے کہ آپ «سبحان ربك رب العزة عما يصفون وسلام على المرسلين والحمد لله رب العالمين» ”پاک ہے تیرا رب جو عزت والا ہے ہر اس برائی سے جو یہ بیان کرتے ہیں اور سلامتی ہو رسولوں پر اور تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہاں کا رب ہے“ بھی کہتے تھے ۱؎، ۳- اس باب میں ثوبان، ابن عمر، ابن عباس، ابوسعید، ابوہریرہ اور مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
I heard my father say: 'I entered upon 'Aishah رضی اللہ عنہا , and I heard her say: When the Messenger of Allah exited the toilet, he would say: Ghufranaka (I seek Your forgiveness).' (Sahih) Another chain with similar wording.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ سے نکلتے تو کہتے:«غفرانك» یعنی: اے اللہ! میں تیری بخشش چاہتا ہوں ۔
Thawban, the freed slave of Allah's Messenger, narrated that : Allah's Messenger said: When Allah's Messenger wanted to turn from his Salat, he would seek forgiveness from Allah three times, then say: (Allahumma Antas-Salam, wa minkas-salam, tabarakta ya dhal-jalali wal-Ikram) 'O Allah! You are the One free of defects and perfection is from You. Blessed are You, O Possesor of Majesty and Honor.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز سے ( مقتدیوں کی طرف ) پلٹنے کا ارادہ کرتے تو تین بار «استغفر الله» ”میں اللہ کی مغفرت چاہتا ہوں“ کہتے، پھر «اللهم أنت السلام ومنك السلام تباركت يا ذا الجلال والإكرام» کہتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Whenever the Prophet exited the toilet, he would say: 'Al-hamdu lillahilladhi adhhaba 'annial-adha wa 'afani (Praise is to Allah Who has relieved me of impurity and given me good health).'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب پاخانہ سے نکلتے تو فرماتے: «الحمد لله الذي أذهب عني الأذى وعافاني» یعنی: تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھ سے تکلیف دور کی، اور مجھے عافیت بخشی ۔
Qabisah bin Hulb narrated that his father said: When Allah's Messenger would lead us in Salat he would turn (to leave) from both sides, on his right and on his left.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ہماری امامت فرماتے ( تو سلام پھیرنے کے بعد ) اپنے دونوں طرف پلٹتے تھے ( کبھی ) دائیں اور ( کبھی ) بائیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ہلب رضی الله عنہ کی حدیث حسن ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، انس، عبداللہ بن عمرو، اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ امام اپنے جس جانب چاہے پلٹ کر بیٹھے چاہے تو دائیں طرف اور چاہے تو بائیں طرف، نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے دونوں ہی باتیں ثابت ہیں ۱؎ اور علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں اگر آپ کی ضرورت دائیں طرف ہوتی تو دائیں طرف پلٹتے اور بائیں طرف ہوتی تو بائیں طرف پلٹتے۔
Rifa`ah bin Rafi` narrated: One day Allah's Messenger was sitting in the Masjid Rifa'ah said: And we were with him. Then what appeared to be a Bedouin man entered to pray, but he performed his Salat in a very brief manner. He then got up and greeted the prophet with Salam. The Prophet said (returning the greeting): 'And upon you. Go back and perform Salat, for indeed you have no prayed.' So he returned to perform Salat then came and greeted the Prophet with Salam. So he (the Prophet) said (returning the greeting): 'And upon you. Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed.' [He did that] two or three times, each time coming to the Prophet, greeted the Prophet with Salam and the Prophet saying: 'And upon you. Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed.' - until the people got scared and became very worried that one whose prayer was so brief had not actually prayed. Then in the end the man said: 'Then show me, and teach me, for I am a human who has suffered and is mistaken.' So he said: 'Alright. When you stand for Salat then perform Wudu as Allah ordered you. Then say the Tashahhud, and the Iqamah as well. If you know any Quran then recite it, if not then praise Allah, mention His greatness, and the Tahlil. Then bow such that you are at rest in your bowing, then stand completely, then prostrate completely, then sit such that you are at rest while sitting them stand. When you have done that, then you have completed your Salat, and if you leave out something, then you have made your Salat deficient.' And this was easier on them than the first matter, because if some of this was deficient, It would only reduce the reward of his Salat, it would not have gone entirely.
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم ایک دن مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے، ہم بھی آپ کے ساتھ تھے، اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا جو بدوی لگ رہا تھا، اس نے آ کر نماز پڑھی اور بہت جلدی جلدی پڑھی، پھر پلٹ کر آیا اور نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا تو نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، تو اس شخص نے واپس جا کر پھر سے نماز پڑھی، پھر واپس آیا اور آ کر اس نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے پھر فرمایا: ”اور تمہیں بھی سلام ہو، واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، اس طرح اس نے دو بار یا تین بار کیا ہر بار وہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو سلام کرتا اور آپ فرماتے: ”تم پر بھی سلام ہو، واپس جاؤ پھر سے نماز پڑھو کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، تو لوگ ڈرے اور ان پر یہ بات گراں گزری کہ جس نے ہلکی نماز پڑھی اس کی نماز ہی نہیں ہوئی، آخر اس آدمی نے عرض کیا، آپ ہمیں ( پڑھ کر ) دکھا دیجئیے اور مجھے سکھا دیجئیے، میں انسان ہی تو ہوں، میں صحیح بھی کرتا ہوں اور مجھ سے غلطی بھی ہو جاتی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہونے کا ارادہ کرو تو پہلے وضو کرو جیسے اللہ نے تمہیں وضو کرنے کا حکم دیا ہے، پھر اذان دو اور تکبیر کہو اور اگر تمہیں کچھ قرآن یاد ہو تو اسے پڑھو ورنہ «الحمد لله»، «الله أكبر» اور «لا إله إلا الله» کہو، پھر رکوع میں جاؤ اور خوب اطمینان سے رکوع کرو، اس کے بعد بالکل سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو، اور خوب اعتدال سے سجدہ کرو، پھر بیٹھو اور خوب اطمینان سے بیٹھو، پھر اٹھو، جب تم نے ایسا کر لیا تو تمہاری نماز پوری ہو گئی اور اگر تم نے اس میں کچھ کمی کی تو تم نے اتنی ہی اپنی نماز میں سے کمی کی“، راوی ( رفاعہ ) کہتے ہیں: تو یہ بات انہیں پہلے سے آسان لگی کہ جس نے اس میں سے کچھ کمی کی تو اس نے اتنی ہی اپنی نماز سے کمی کی، پوری نماز نہیں گئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- رفاعہ بن رافع کی حدیث حسن ہے، رفاعہ سے یہ حدیث دوسری سند سے بھی مروی ہے، ۲- اس باب میں ابوہریرہ اور عمار بن یاسر رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Abu Hurairah narrated: Allah's Messenger entered the Masjid, and a man entered and offered Salat. Then he came to give Salam to the Propet. He returned the Salam to him and said: 'Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed.' So the man returned to pray as he had prayed. Then he came to give Salam to the Prophet. He returned Salam to him, then [Allah's Messenger] said: 'Go back and perform Salat, for indeed you have not prayed' until he had done that three times. So the man said to him: 'By the One who sent you with the Truth, I do not know any better than this, so teach me.' So he said [to him]: 'When you stand for Salat then say the Takbir, then recite what is easy for you of the Quran. Then bow until you are at rest while bowing, then rise up until you are at rest sitting. Do that in all of your Salat.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اتنے میں ایک اور شخص بھی داخل ہوا، اس نے نماز پڑھی پھر آ کر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”تم واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، چنانچہ آدمی نے واپس جا کر نماز پڑھی، جیسے پہلے پڑھی تھی، پھر نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آ کر آپ کو سلام کیا تو آپ نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: ”واپس جاؤ اور پھر سے نماز پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی“، یہاں تک اس نے تین بار ایسا کیا، پھر اس آدمی نے عرض کیا: قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا میں اس سے بہتر نہیں پڑھ سکتا۔ لہٰذا آپ مجھے نماز پڑھنا سکھا دیجئیے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم جب نماز کا ارادہ کرو تو «اللہ اکبر» کہو پھر جو تمہیں قرآن میں سے یاد ہو پڑھو، پھر رکوع کرو یہاں تک کہ رکوع کی حالت میں تمہیں خوب اطمینان ہو جائے، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اچھی طرح کھڑے ہو جاؤ، پھر سجدہ کرو یہاں تک کہ خوب اطمینان سے سجدہ کر لو، پھر سر اٹھاؤ یہاں تک کہ اطمینان سے بیٹھ جاؤ اور اسی طرح سے اپنی پوری نماز میں کرو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- ابن نمیر نے عبیداللہ بن عمر سے اسی سند سے روایت کی ہے لیکن «عن أبیہ» نہیں ذکر کیا ہے، ۳- یحییٰ القطان کی روایت میں «عبداللہ بن عمر عن سعید بن أبی المقبری عن أبیہ عن أبی ہریرہ» ہے، اور یہ زیادہ صحیح۔
The Messenger of Allah said: 'None of you should urinate in his wash area for most of the insinuating thoughts come from that.' (Da'if)
Abu 'Abdullah bin Majah said: ( Abul-Hasan said: 'I heard Muhammed bin Yazid saying:) ''Ali bin Muhammed At-Tanafisi said: 'This (prohibition) applies to cases where the ground (in the place used for washing) was soft. But nowadays this does not apply, because the baths you use now are built of plaster, Saruj and tar; so if a person urinates there then pours water over it, that clears it away, and that is fine.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی بھی شخص اپنے غسل خانہ میں قطعاً پیشاب نہ کرے، اس لیے کہ اکثر وسوسے اسی سے پیدا ہوتے ہیں ۔
ابو عبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے علی ابن محمد التنفیسی کو کہتے سنا: یہ صرف حوض پر لاگو ہوتا ہے، لیکن آج نہیں۔ ان کے حمام پلاسٹر، مارٹر اور تارکول سے بنے ہیں۔ اگر کوئی پیشاب کر کے اس پر پانی ڈال دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
Muhammad bin Amr bin Ata' narrated from Abu Humaid As-Saidi, : he (Muhammad) said: I heard him saying - while he was among ten of the Companions of the Prophet, one of whom was Abu Qatadah bin Ribi - 'I am the most knowledgeable among you of the Salat of the Allah's Messenger.' They said: 'You did not precede us in his companionship, nor were you in his company more than us.' He said: 'Even still. They said: 'Go ahead.' So he said: 'When Allah's Messenger stood for Salat he would stand with his back straight and raise his hands until they were at the level of his shoulder. Then he would say: (Allahu Akbar) Allah is Most Great and bow. Then he would straighten (his back) so that he would not lower his head, nor raise it, and he placed his hands on his knees. Then he said: (Sami Allahu liman hamidah) Allah listens to those who praise Him. And he raised his hands and stood up straight until all of his bones completely returned to their places. Then he went down to the ground prostrating, then he said: (Allahu Akbar) Allah is Most Great. Then he held his upper arms away from his midsection, and opened his toes on his feet (facing the Qiblah), then he bend his left foot and sat on it then straightened up until all of his bones completely returned to their placed, then he went down to prostrate. Then he said: (Allahu Akbar) Allah is Most Great, then he bent his foot and sat and straightened up until all of his bones completely returned to their places. Then he got up. Then in the second Rak'ah he did the same as that, such that when he stood from the two prostrations, he sad the Takbir and raised his hands until they were at the level of his shoulders as he did when he opened the Salat. Then he did like that until it was the Rak'ah in which his Salat was to end, when he moved his left foot over and sat on his side (in the Mutawarrik postion). Then he said the Taslim.'
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انہوں نے ابو حمید ساعدی رضی الله عنہ کو کہتے ہیں سنا ( جب ) صحابہ کرام میں سے دس لوگوں کے ساتھ تھے، ان میں سے ایک ابوقتادہ بن ربعی تھے، ابوحمید رضی الله عنہ کہہ رہے تھے کہ میں تم میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی نماز کا سب سے زیادہ جانکار ہوں، تو لوگوں نے کہا کہ تمہیں نہ تو ہم سے پہلے صحبت رسول میسر ہوئی اور نہ ہی تم ہم سے زیادہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے پاس آتے جاتے تھے؟ تو انہوں نے کہا: ہاں یہ ٹھیک ہے ( لیکن مجھے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا طریقہ نماز زیادہ یاد ہے ) اس پر لوگوں نے کہا ( اگر تم زیادہ جانتے ہو ) تو پیش کرو، تو انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو بالکل سیدھے کھڑے ہو جاتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر جب رکوع کا ارادہ کرتے تو اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں لے جاتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور رکوع کرتے اور بالکل سیدھے ہو جاتے، نہ اپنا سر بالکل نیچے جھکاتے اور نہ اوپر ہی اٹھائے رکھتے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، پھر «سمع الله لمن حمده» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے ( یعنی رفع یدین کرتے ) اور سیدھے کھڑے ہو جاتے یہاں تک کہ جسم کی ہر ایک ہڈی سیدھی ہو کر اپنی جگہ پر لوٹ آتی پھر سجدہ کرنے کے لیے زمین کی طرف جھکتے، پھر «الله أكبر» کہتے اور اپنے بازوؤں کو اپنی دونوں بغل سے جدا رکھتے، اور اپنے پیروں کی انگلیاں کھلی رکھتے، پھر اپنا بایاں پیر موڑتے اور اس پر بیٹھتے اور سیدھے ہو جاتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آتی، اور آپ اٹھتے اور دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کرتے یہاں تک کہ دوسری رکعت سے جب ( تیسری رکعت کے لیے ) اٹھتے تو «الله أكبر» کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے یہاں تک کہ انہیں اپنے دونوں مونڈھوں کے مقابل میں کرتے جیسے اس وقت کیا تھا جب آپ نے نماز شروع کی تھی، پھر اسی طرح کرتے یہاں تک کہ جب وہ رکعت ہوتی جس میں نماز ختم ہو رہی ہو تو اپنا بایاں پیر مؤخر کرتے یعنی اسے داہنی طرف دائیں پیر کے نیچے سے نکال لیتے اور سرین پر بیٹھتے، پھر سلام پھیرتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اور ان کے قول «رفع يديه إذا قام من السجدتين» ”دونوں سجدوں سے کھڑے ہوتے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے“ کا مطلب ہے کہ جب دو رکعتوں کے بعد ( تیسری رکعت کے لیے ) کھڑے ہوتے۔