Ahadees Module
خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَهُ
Browse hadith records stored individually in the database so students can search across books, compare translations, and move directly into study with reliable source attribution and canonical collection mapping.
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 122
sahihعَن أبي بن كَعْب فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورهمْ ذرياتهم وأشهدهم على أنفسهم) الْآيَة قَالَ جمعهم فجعلهم أرواحا ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالَ فَإِنِّي أشهد عَلَيْكُم السَّمَوَات السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي وَلَا رَبَّ غَيْرِي فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئا وَإِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي قَالُوا شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا لَا رب لَنَا غَيْرُكَ فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ وَرُفِعَ عَلَيْهِمْ آدَمُ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ فَقَالَ رَبِّ لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ قَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أَشْكُرَ وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلَ السُّرُجِ عَلَيْهِمُ النُّورُ خُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى (وَإِذ أَخذنَا من النَّبِيين ميثاقهم) إِلَى قَوْله (عِيسَى ابْن مَرْيَم) كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ فَحُدِّثَ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا. رَوَاهُ أَحْمد
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابی بن کعب ؓ نے اللہ عزوجل کے فرمان :’’ جب آپ کے رب نے بنی آدم سے ان کی پشت سے ان کی نسل کو نکالا ۔‘‘ کی تفسیر میں فرمایا : اس نے ان کو جمع کیا تو ان کی مختلف اصناف بنا دیں ، پھر ان کی تصویر کشی کی ، انہیں بولنے کو کہا تو انہوں نے کلام کیا ، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور انہیں ان کی جانوں پر گواہ بنایا :’’ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟‘‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ‘‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں ساتوں آسمانوں ، ساتوں زمینوں اور تمہارے باپ آدم ؑ کو تم پر گواہ بناتا ہوں کہ کہیں تم روز قیامت یہ نہ کہو : ہمیں اس کا پتہ نہیں ، جان لو کہ میرے سوا کوئی معبود برحق ہے نہ کوئی رب ، میرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا ، میں اپنے رسول تمہاری طرف بھیجوں گا وہ میرا عہد و میثاق تمہیں یاد دلاتے رہیں گے ۔ اور میں اپنی کتابیں تم پر نازل فرماؤں گا ، تو انہوں نے کہا : ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب ہے اور ہمارا معبود ہے ۔ تیرے سوا ہمارا کوئی رب ہے نہ معبود ، انہوں نے اس کا اقرار کر لیا ، اور آدم ؑ کو ان پر ظاہر کیا گیا ، وہ انہیں دیکھنے لگے تو انہوں نے غنی و فقیر اور خوبصورت و بدصورت کو دیکھا تو عرض کیا ، پروردگار ! تو نے اپنے بندوں میں مساوات کیوں نہیں کی ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں پسند کرتا ہوں کہ میرا شکر کیا جائے ، اور انہوں نے انبیا علیہم السلام کو دیکھا ، ان میں چراغوں کی طرح تھے ان پر نور (برس رہا) تھا ، اور ان سے رسالت و نبوت کے بارے میں خصوصی عہد لیا گیا ، اللہ تعالیٰ کے فرمان سے یہی عہد مراد ہے ’’ اور جب ہم نے تمام نبیوں سے ، آپ سے ، نوح ، ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام سے عہد لیا تھا ۔‘‘ عیسیٰ علیہ السلام ان ارواح میں تھے تو اللہ نے انہیں مریم علیھاالسلام کی طرف بھیجا ۔ ابی ؓ سے بیان کیا گیا کہ اس (روح) کو مریم علیھاالسلام کے منہ کے ذریعے داخل کیا گیا ۔ سندہ ضعیف رواہ احمد (۵/ ۱۳۵ ح ۲۱۵۵۲) و الفریابی فی کتاب القدر (۵۲) و الحاکم (۲/ ۳۲۳ ح ۳۲۴ ح ۳۲۵۵) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 123
sahihوَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَتَذَاكَرُ مَا يَكُونُ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَمِعْتُمْ بِجَبَلٍ زَالَ عَن مَكَانَهُ فصدقوا وَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَجُلٍ تَغَيَّرَ عَنْ خُلُقِهِ فَلَا تصدقوا بِهِ وَإنَّهُ يَصِيرُ إِلَى مَا جُبِلَ عَلَيْهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کے بارے میں باہم بات چیت کر رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم کسی پہاڑ کے بارے میں سنو کہ وہ اپنی جگہ سے ہٹ گیا ہے تو اس بات کی تصدیق کر دو ۔ اور جب تم کسی آدمی کے بارے میں سنو ، اس نے اپنی عادت بدل لی ہے تو اس کے متعلق بات کی تصدیق نہ کرو ، کیونکہ وہ اپنی جبلت پر کاربند رہے گا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد (۶/ ۴۴۳ ح ۲۸۰۴۷) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 124
sahihوَعَن أم سَلمَة يَا رَسُول الله لَا يزَال يصيبك كُلِّ عَامٍ وَجَعٌ مِنَ الشَّاةِ الْمَسْمُومَةِ الَّتِي أَكَلْتَ قَالَ: «مَا أَصَابَنِي شَيْءٌ مِنْهَا إِلَّا وَهُوَ مَكْتُوبٌ عَلَيَّ وَآدَمُ فِي طِينَتِهِ» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ام سلمہ ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو زہر آلود بکری کھائی تھی اس کی وجہ سے آپ ہر سال تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اس سے جو بھی تکلیف پہنچی ہے وہ تو میرے متعلق اس وقت لکھ دی گئی تھی جب آدم ؑ ابھی مٹی کی صورت میں تھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۳۵۴۶) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 125
sahihعَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْمُسْلِمُ إِذَا سُئِلَ فِي الْقَبْرِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ (يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَة) وَفِي رِوَايَةٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: (يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِت) نَزَلَتْ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ يُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبك؟ فَيَقُول: رَبِّي الله ونبيي مُحَمَّد
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
براء بن عازب ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب مسلمان سے قبر میں (اس کے رب ، نبی اور دین کے بارے میں) سوال کیا جائے وہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ۔ یہ کہنا اللہ کے اس فرمان کے مطابق ہے :’’ اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں سچی بات پر دنیا و آخرت میں ثابت قدم رکھتا ہے ۔‘‘ اور ایک روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ (یُثَبّتُ اللہُ الَّذِیْنَ امَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّبِتِ فِی الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَۃِ) عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی ، پوچھا جائے گا : تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہے گا : میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں ۔‘‘
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 126
sahihعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنه حَدثهمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ وَإِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ أَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهِ فَيَقُولَانِ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ أَشْهَدُ أَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَقْعَدًا مِنَ الْجنَّة فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا قَالَ قَتَادَة وَذكر لنا أَنه يفسح لَهُ فِي قَبره ثمَّ رَجَعَ إِلَى حَدِيث أنس قَالَ وَأَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ فَيُقَالُ لَهُ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي كُنْتُ أَقُولُ مَا يَقُولُ النَّاسُ فَيُقَالُ لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيدٍ ضَرْبَةً فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهَا مَنْ يَلِيهِ غَيْرَ الثقلَيْن» وَلَفظه للْبُخَارِيّ
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب بندے کو اس کی قبر میں رکھ دیا جاتا ہے ، اور اس کے ساتھی واپس چلے جاتے ہیں ، تو وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے ۔ (اسی اثنا میں) دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں تو وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں : تم اس شخص محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے ؟ جو مومن ہے ، تو وہ کہتا ہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ اسے کہا جاتا ہے : جہنم میں اپنے ٹھکانے کو دیکھ لو ، اللہ نے اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ٹھکانہ دے دیا ہے ۔ وہ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھتا ہے ، رہا منافق و کافر شخص ، تو اسے بھی کہا جاتا ہے ۔ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے ؟ تو وہ کہتا ہے : میں نہیں جانتا ، میں وہی کچھ کہتا تھا جو لوگ کہا کرتے تھے ، اسے کہا جائے گا : تم نے (حق بات) سمجھنے کی کوشش کی نہ پڑھنے کی ، اسے لوہے کے ہتھوڑوں کے ساتھ ایک ساتھ مارا جائے گا تو وہ چیختا چلاتا ہے جسے جن و انس کے سوا اس کے قریب ہر چیز سنتی ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری ۱۳۷۴) و مسلم ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 127
sahihعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم قَالَ: «إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ عُرِضَ عَلَيْهِ مَقْعَدُهُ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ إِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَمِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَمِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيُقَالُ هَذَا مَقْعَدُكَ حَتَّى يَبْعَثك الله يَوْم الْقِيَامَة»
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہو جاتا ہے ۔ تو صبح و شام اس کا ٹھکانہ اسے دکھایا جاتا ہے ۔ اگر تو وہ جنتی ہے تو وہ اہل جنت سے ہے ، اور اگر وہ جہنمی ہے تو پھر وہ اہل جہنم میں سے ہے ، پس اسے کہا جائے گا : یہ تمہارا ٹھکانہ ہے حتیٰ کہ اللہ قیامت کے دن تمہیں اس کے لیے دوبارہ زندہ کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۷۹) و مسلم ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 128
sahihوَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ يَهُودِيَّةً دَخَلَتْ عَلَيْهَا فَذَكَرَتْ عَذَابَ الْقَبْرِ فَقَالَتْ لَهَا أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ فَقَالَ: «نَعَمْ عَذَابُ الْقَبْر قَالَت عَائِشَة رَضِي الله عَنْهَا فَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بعد صلى صَلَاة إِلَّا تعوذ من عَذَاب الْقَبْر»
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت ان کے پاس آئی تو اس نے عذاب قبر کا ذکر کیا اور ان سے کہا : اللہ آپ کو عذاب قبر سے بچائے ، عائشہ ؓ نے عذاب قبر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا :’’ ہاں ، عذاب قبر ہے ۔‘‘ عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، میں نے دیکھا کہ آپ اس کے بعد جب بھی نماز پڑھتے تو عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے تھے ۔ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۱۳۷۲) و مسلم ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 129
sahihعَن زيد بن ثَابت قَالَ بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ وَنَحْنُ مَعَهُ إِذْ حَادَتْ بِهِ فَكَادَتْ تُلْقِيهِ وَإِذَا أَقْبُرُ سِتَّةٍ أَو خَمْسَة أَو أَرْبَعَة قَالَ كَذَا كَانَ يَقُول الْجريرِي فَقَالَ: «من يعرف أَصْحَاب هَذِه الأقبر فَقَالَ رجل أَنا قَالَ فَمَتَى مَاتَ هَؤُلَاءِ قَالَ مَاتُوا فِي الْإِشْرَاك فَقَالَ إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا فَلَوْلَا أَنْ لَا تَدَافَنُوا لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ عَذَاب النَّار فَقَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّه من عَذَاب الْقَبْر قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ قَالَ تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالُوا نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
زید بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، اس اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے خچر پر سوار بنونجار کے باغ میں تھے جبکہ ہم بھی آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک خچر بدکا ، قریب تھا کہ وہ آپ کو گرا دیتا ، وہاں پانچ ، چھ قبریں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان قبروں والوں کو کون جانتا ہے ؟‘‘ ایک آدمی نے عرض کیا ، میں : آپ نے فرمایا :’’ وہ کب فوت ہوئے تھے ؟‘‘ اس نے کہا : حالت شرک میں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اس امت کے لوگوں کا ان کی قبروں میں امتحان لیا جائے گا ، اگر ایسے نہ ہوتا کہ تم دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میں اللہ سے دعا کرتا کہ وہ عذاب قبر تمہیں سنا دے جو میں سن رہا ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا رخ انور ہماری طرف کرتے ہوئے فرمایا :’’ جہنم کے عذاب سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : ہم عذاب جہنم سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہم عذاب قبر سے اللہ کی پناہ طلب کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہم ظاہری و باطنی فتنوں سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ طلب کرو ۔‘‘ انہوں نے کہا : ہم دجال کے فتنہ سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 130
sahihعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قُبِرَ الْمَيِّتُ أَتَاهُ مَلَكَانِ أَسْوَدَانِ أَزْرَقَانِ يُقَالُ لِأَحَدِهِمَا الْمُنْكَرُ وَالْآخَرُ النَّكِيرُ فَيَقُولَانِ مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرجل فَيَقُول مَا كَانَ يَقُول هُوَ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَيَقُولَانِ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ هَذَا ثُمَّ يُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ سَبْعُونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعِينَ ثُمَّ يُنَوَّرُ لَهُ فِيهِ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ نَمْ فَيَقُولُ أَرْجِعُ إِلَى أَهْلِي فَأُخْبِرُهُمْ فَيَقُولَانِ نَمْ كَنَوْمَةِ الْعَرُوسِ الَّذِي لَا يُوقِظُهُ إِلَّا أَحَبُّ أَهْلِهِ إِلَيْهِ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ مَضْجَعِهِ ذَلِكَ وَإِنْ كَانَ مُنَافِقًا قَالَ سَمِعت النَّاس يَقُولُونَ فَقُلْتُ مِثْلَهُ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ قَدْ كُنَّا نَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُولُ ذَلِكَ فَيُقَالُ لِلْأَرْضِ الْتَئِمِي عَلَيْهِ فتلتئم عَلَيْهِ فتختلف فِيهَا أَضْلَاعُهُ فَلَا يَزَالُ فِيهَا مُعَذَّبًا حَتَّى يَبْعَثَهُ الله من مضجعه ذَلِك» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب میت کو قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے ۔ تو سیاہ فام نیلی آنکھوں والے دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، ان میں سے ایک کو منکر اور دوسرے کو نکیر کہتے ہیں ۔ پس وہ کہتے ہیں ؟ تم اس شخص کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے ؟ تو وہ کہتا ہے : وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں : ہمیں پتہ تھا کہ تم یہی کہو گے ، پھر اس کی قبر کو طول و عرض میں ستر ستر ہاتھ کشادہ کر دیا جاتا ہے ، پھر اس کے لیے اس میں روشنی کر دی جاتی ہے ، پھر اسے کہا جاتا ہے : سو جاؤ ، وہ کہتا ہے : میں اپنے گھر والوں کے پاس واپس جانا چاہتا ہوں تاکہ انہیں بتا آؤں ، لیکن وہ کہتے ہیں دلہن کی طرح سو جا ، جسے اس کے گھر کا عزیز ترین فرد ہی بیدار کرتا ہے ، حتیٰ کہ اللہ اسے اس کی خواب گاہ سے بیدار کرے گا ، اور اگر وہ منافق ہوا تو وہ کہے گا : میں نے لوگوں کو ایک بات کرتے ہوئے سنا ، تو میں نے بھی ویسے ہی کہہ دیا ، میں کچھ نہیں جانتا ، وہ فرشتے کہتے ہیں : ہمیں پتہ تھا کہ تم یہی کہو گے، پس زمین سے کہا جاتا ہے : اس پر تنگ ہو جا ، وہ اس پر تنگ ہو جاتی ہے ۔ اس سے اس کی ادھر کی پسلیاں ادھر آ جائیں گی ، پس اسے اس میں مسلسل عذاب ہوتا رہے گا حتیٰ کہ اللہ اس کی اس خواب گاہ سے اسے دوبارہ زندہ کرے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۱۰۷۱) و ابن حبان (لاحسان : ۳۱۰۷) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 131
sahihعَن الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ رَبِّيَ اللَّهُ فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ ديني الْإِسْلَام فَيَقُولَانِ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ قَالَ فَيَقُول هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولَانِ وَمَا يُدْرِيكَ فَيَقُولُ قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ فَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُ زَاد فِي حَدِيث جرير فَذَلِك قَول الله عز وَجل (يثبت الله الَّذين آمنُوا بالْقَوْل الثَّابِت) الْآيَة ثمَّ اتفقَا قَالَ فينادي مُنَاد من السَّمَاء أَن قد صدق عَبدِي فأفرشوه مِنَ الْجَنَّةِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ وألبسوه من الْجنَّة قَالَ فيأتيه من روحها وطيبها قَالَ وَيفتح لَهُ فِيهَا مد بَصَره قَالَ وَإِن الْكَافِر فَذكر مَوته قَالَ وتعاد رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ مَنْ رَبُّكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ لَهُ مَا دِينُكَ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيَقُولَانِ مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِي فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ أَنَّ كَذَبَ فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ وَأَلْبِسُوهُ مِنَ النَّارِ وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ قَالَ فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسَمُومِهَا قَالَ وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ ثمَّ يقيض لَهُ أعمى أبكم مَعَهُ مِرْزَبَّةٌ مِنْ حَدِيدٍ لَوْ ضُرِبَ بِهَا جبل لصار تُرَابا قَالَ فَيَضْرِبُهُ بِهَا ضَرْبَةً يَسْمَعُهَا مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمغْرب إِلَّا الثقلَيْن فَيصير تُرَابا قَالَ ثمَّ تُعَاد فِيهِ الرّوح» . رَوَاهُ أَحْمد وَأَبُو دَاوُد
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
براء بن عازب ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، تو اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں ، تیرا رب کون ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : میرا رب اللہ ہے ، پھر وہ پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ تو وہ کہتا ہے : میرا دین اسلام ہے ، پھر وہ پوچھتے ہیں : یہ آدمی جو تم میں مبعوث کیے گئے تھے ، وہ کون تھے ؟ وہ جواب دے گا وہ اللہ کے رسول ہیں ، وہ دونوں فرشتے کہتے ہیں : تمہیں کس نے بتایا ؟ وہ کہتا ہے : میں نے اللہ کی کتاب پڑھی ، تو میں اس پر ایمان لے آیا اور تصدیق کی ، اس کا یہ جواب دینا اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق ہے :’’ اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لاتے ہیں ، سچی بات پر ثابت قدم رکھتا ہے ۔‘‘ فرمایا : آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے : میرے بندے نے سچ کہا ، اسے جنتی بچھونا بچھا دو ، جنتی لباس پہنا دو اور اس کے لیے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو ، وہ کھول دیا جاتا ہے ، وہاں سے معطر بادنسیم اس کے پاس آتی ہے ، اور اس کی حد نگاہ تک اس کی قبر کشادہ کر دی جاتی ہے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کافر کی موت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : اس کی روح کو اس کے جسم میں لوٹایا جاتا ہے ، دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں ، تو وہ اسے بٹھا کر پوچھتے ہیں : تیرا رب کون ہے ؟ وہ کہتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ پوچھتے ہیں : تیرا دین کیا ہے ؟ وہ جواب دیتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، پھر وہ پوچھتے ہیں : وہ شخص جو تم میں مبعوث کیے گئے تھے ، کون تھے ؟ پھر وہی جواب دیتا ہے : ہائے ! ہائے ! میں نہیں جانتا ، آسمان سے آواز دینے والا آواز دیتا ہے : اس نے جھوٹ بولا ، لہذا اسے جہنم سے بستر بچھا دو ۔ جہنم سے لباس پہنا دو اور اس کے لیے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھول دو ، فرمایا : جہنم کی حرارت اور وہاں کی گرم لو اس تک پہنچے گی ، فرمایا : اس کی قبر اس پر تنگ کر دی جاتی ہے ، حتیٰ کہ اس کی ادھر کی پسلیاں ادھر نکل جاتی ہیں ۔ پھر ایک اندھا اور بہرا داروغہ اس پر مسلط کر دیا جاتا ہے ۔ جس کے پاس لوہے کا بڑا ہتھوڑا ہوتا ہے ، اگر اسے پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے ، وہ اس کے ساتھ اسے مارتا ہے تو جن و انس کے سوا مشرق و مغرب کے مابین موجود ہر چیز اس مار کو سنتی ہے ، وہ مٹی ہو جاتا ہے ، تو پھر روح کو دوبارہ اس میں لوٹا دیا جاتا ہے ۔ ‘‘ حسن ، رواہ احمد (۴/ ۲۸۷ ح ۱۸۷۳۳) و ابوداؤد (۳۲۱۲ ، ۴۷۵۳) و الحاکم (۱/ ۳۷ ، ۳۸ ح ۱۰۷) و الطبرانی (المعجم الکبیر ۲۵/ ۲۳۸ ، ۲۴۰ ح ۲۵) و البیھقی فی شعب الایمان (۳۹۵) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 132
sahihوَعَن عُثْمَان رَضِي الله عَنهُ أَنه إِذَا وَقَفَ عَلَى قَبْرٍ بَكَى حَتَّى يَبُلَّ لِحْيَتَهُ فَقِيلَ لَهُ تُذْكَرُ الْجَنَّةُ وَالنَّارُ فَلَا تَبْكِي وَتَبْكِي مِنْ هَذَا فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْقَبْرَ أَوَّلُ مَنْزِلٍ مِنْ مَنَازِلِ الْآخِرَةِ فَإِنْ نَجَا مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَيْسَرُ مِنْهُ وَإِنْ لَمْ يَنْجُ مِنْهُ فَمَا بَعْدَهُ أَشَدُّ مِنْهُ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَيْت منْظرًا قطّ إِلَّا الْقَبْر أَفْظَعُ مِنْهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ هَذَا حَدِيث غَرِيب
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عثمان ؓ سے روایت ہے جب آپ کسی قبر کے پاس کھڑے ہوتے تو ہاں اس قدر روتے کہ آپ کی داڑھی تر ہو جاتی ، آپ سے پوچھا گیا ، آپ جنت اور جہنم کا تذکرہ کرتے ہوئے نہیں روتے مگر قبر کا ذکر کر کے روتے ہو ؟ تو انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک قبر منازل آخرت میں سے پہلی منزل ہے ، پس اگر اس سے بچ گیا تو اس کے بعد جو منازل ہیں وہ اس سے آسان تر ہیں ، اور اگر اس سے نجات نہ ہوئی تو اس کے بعد جو منازل ہیں وہ اس سے زیادہ سخت ہیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میں نے قبر سے زیادہ سخت اور برا منظر کبھی نہیں دیکھا ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی (۲۳۰۸) و ابن ماجہ (۴۲۶۷) و الحاکم (۱/ ۳۷۱ ، ۴/ ۳۳۰ ، ۳۳۱) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 133
sahihوَعَن عُثْمَان رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَرَغَ مِنْ دَفْنِ الْمَيِّتِ وَقَفَ عَلَيْهِ فَقَالَ: «اسْتَغْفِرُوا لِأَخِيكُمْ ثُمَّ سَلُوا لَهُ بِالتَّثْبِيتِ فَإِنَّهُ الْآنَ يُسْأَلُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عثمان ؓ بیان کرتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میت کو دفن کرنے سے فارغ ہوتے تو اس کے پاس کھڑے ہو کر فرماتے :’’ اپنے بھائی کے لیے مغفرت طلب کرو ، اس کے لیے (سوال و جواب کے موقع پر) ثابت قدمی کی درخواست کرو ، کیونکہ اب اس سے سوال کیا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداود (۳۲۲۱) و الحاکم (۱/ ۳۷) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 134
sahihعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «يُسَلط عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تنهشه وتلدغه حَتَّى تقوم السَّاعَة وَلَو أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَتْ خَضِرًا» . رَوَاهُ الدَّارِمِيُّ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ نَحْوَهُ وَقَالَ: «سَبْعُونَ بدل تِسْعَة وَتسْعُونَ»
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کافر پر ، اس کی قبر میں ، ننانوے اژدھا مسلط کر دیے جاتے ہیں ، وہ قیام قیامت تک اسے ڈستے رہیں گے ، اگر ان میں سے ایک اژدھا زمین پر پھونک مار دے تو زمین کسی قسم کا سبزہ نہ اگائے ۔‘‘ دارمی ۔ امام ترمذی نے اس طرح روایت کیا ہے ، انہوں نے ننانوے کے بجائے ستر (اژدھا) کا ذکر کیا ہے ۔ حسن ، رواہ دارمی (۱/ ۳۳۱ ح ۲۸۱۸) و الترمذی (۲۴۶۰) و انوار الصحیفۃ (ص ۲۵۸) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 135
sahihعَن جَابر بن عبد الله قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ حِينَ توفّي قَالَ فَلَمَّا صَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحْنَا طَوِيلًا ثُمَّ كَبَّرَ فَكَبَّرْنَا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ سَبَّحَتْ ثُمَّ كَبَّرْتَ قَالَ: «لقد تضايق على هَذَا العَبْد الصَّالح قَبره حَتَّى فرجه الله عز وَجل عَنهُ» . رَوَاهُ أَحْمد
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سعد بن معاذ ؓ نے وفات پائی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ان کے جنازے کے لیے گئے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں قبر میں رکھ کر اوپر مٹی ڈال دی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تسبیح بیان کی اور ہم نے بھی طویل تسبیح بیان کی ، پھر آپ نے اللہ اکبر پڑھا تو ہم نے بھی اللہ اکبر پڑھا ، عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! آپ نے تسبیح کیوں بیان کی ، پھر آپ نے تکبیر بیان کی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس صالح بندے پر اس کی قبر تنگ ہو گئی تھی ، حتیٰ کہ اللہ نے اسے کشادہ کر دیا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ احمد (۳/ ۳۶۰ ح ۱۴۹۳۴) (کتاب الجرح و التعدیل ۷/ ۳۱۶) و ابن حبان (۵/ ۳۷۳) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 136
sahihوَعَن ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «هَذَا الَّذِي تَحَرَّكَ لَهُ الْعَرْشُ وَفُتِحَتْ لَهُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَشَهِدَهُ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً ثُمَّ فُرِّجَ عَنْهُ» . رَوَاهُ النَّسَائِيّ
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ (سعد بن معاذ ؓ)وہ شخص ہے جس کی خاطر عرش لرز گیا ، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیے گئے اور اس کی نماز جنازہ میں ستر ہزار فرشتوں نے شرکت کی ، لیکن اسے بھی (قبر میں) دبایا گیا پھر ان کی قبر کو کشادہ کر دیا گیا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی (۴/ ۱۰۰ ، ۱۰۱ ح ۲۰۵۷) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 137
sahihعَن أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا تَقول قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَذكر فتْنَة الْقَبْر الَّتِي يفتتن فِيهَا الْمَرْءُ فَلَمَّا ذَكَرَ ذَلِكَ ضَجَّ الْمُسْلِمُونَ ضَجَّةً. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ هَكَذَا وَزَادَ النَّسَائِيُّ: حَالَتْ بَيْنِي وَبَيْنَ أَنْ أَفْهَمَ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَكَنَتْ ضَجَّتُهُمْ قُلْتُ لِرَجُلٍ قَرِيبٍ مِنِّي: أَيْ بَارَكَ اللَّهُ فِيكَ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي آخِرِ قَوْلِهِ؟ قَالَ: «قَدْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ قَرِيبًا من فتْنَة الدَّجَّال»
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
اسماء بنت ابی بکر ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنہ قبر کا ذکر فرمایا جس میں آدمی کو آزمایا جائے گا ، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ذکر فرمایا تو مسلمان زور سے رونے لگے ۔‘‘ امام نسائی نے اضافہ نقل کیا ہے : یہ رونا میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کلام سمجھنے کے مابین حائل ہو گیا ، جب ان کا یہ رونا اور شور تھما تو میں نے اپنے پاس والے ایک آدمی سے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا فرمائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے کلام کے آخر پر کیا فرمایا ؟ اس نے بتایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے وحی کے ذریعے بتایا گیا ہے کہ تم قبروں میں فتنہ دجال کے قریب قریب آزمائے جاؤ گے ۔‘‘ رواہ البخاری (۱۳۷۳) و النسائی (۴/ ۱۰۳ ، ۱۰۴ ح ۲۰۶۴) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 138
sahihوَعَنْ جَابِرٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ مَثَلَتْ لَهُ الشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا فَيَجْلِسُ يَمْسَحُ عَيْنَيْهِ وَيَقُولُ: دَعونِي أُصَلِّي . رَوَاهُ ابْن مَاجَه
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جابر ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا :’’ جب میت کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو اسے سورج ایسے دکھایا جاتا ہے جیسے وہ قریب الغروب ہو ، پس وہ بیٹھ جاتا ہے اور اپنی آنکھیں ملتے ہوئے کہتا ہے : مجھے چھوڑ دو میں نماز پڑھ لوں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ (۴۲۷۲) و ابن حبان (۷۷۹) و البیھقی (۶۴) و ابن حبان (۷۸۱) و الحاکم (۱/ ۳۷۹ ، ۳۸۰) و فی مجمع الزوائد (۳/ ۵۲) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 139
sahihوَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْمَيِّتَ يَصِيرُ إِلَى الْقَبْرِ فَيَجْلِسُ الرَّجُلُ الصَّالح فِي قَبره غير فزع وَلَا مشعوف ثمَّ يُقَال لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ كُنْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَيُقَالُ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ فَصَدَّقْنَاهُ فَيُقَالُ لَهُ هَلْ رَأَيْتَ اللَّهَ فَيَقُولُ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَرَى اللَّهَ فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةً قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ ثمَّ يفرج لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَال لَهُ هَذَا مَقْعَدك وَيُقَال لَهُ عَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ وَعَلَيْهِ مِتَّ وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِن شَاءَ الله وَيجْلس الرجل السوء فِي قَبره فَزعًا مشعوفا فَيُقَال لَهُ فِيمَ كُنْتَ فَيَقُولُ لَا أَدْرِي فَيُقَالُ لَهُ مَا هَذَا الرَّجُلُ فَيَقُولُ سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قولا فقلته فيفرج لَهُ قِبَلَ الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَنْك ثمَّ يفرج لَهُ فُرْجَةً قِبَلَ النَّارِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا فَيُقَالُ لَهُ هَذَا مَقْعَدُكَ عَلَى الشَّك كنت وَعَلِيهِ مت وَعَلِيهِ تبْعَث إِن شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى» . رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
ابوہریرہ ؓ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ میت قبر کی طرف جاتی ہے تو (صالح) آدمی کسی قسم کی گھبراہٹ کے بغیر اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے ، پھر کہا جاتا ہے ، تم کس دین پر تھے ؟ وہ کہے گا اسلام پر ، اس سے پوچھا جائے گا : یہ آدمی کون تھے ؟ وہ کہے گا : اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، وہ اللہ کی طرف سے معجزات لے کر ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم نے ان کی تصدیق کی ، اس سے پوچھا جائے گا : کیا تم نے اللہ کو دیکھا ؟ وہ جواب دے گا : کسی کے لیے (دنیا میں ) اللہ کو دیکھنا صحیح و لائق نہیں ، (اس کے بعد) اس کے لیے جہنم کی طرف ایک سوراخ کر دیا جاتا ہے ، تو وہ اس کی طرف دیکھتا ہے ، کہ جہنم کے بعض حصے بعض کو کھا رہے ہیں ، اسے کہا جاتا ہے ، اسے دیکھو جس سے اللہ نے تمہیں بچا لیا ، پھر اس کے لیے جنت کی طرف ایک سوراخ کر دیا جاتا ہے تو وہ اس کی اور اس کی نعمتوں کی رونق و خوبصورتی کو دیکھتا ہے ، تو اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ تمہارا مسکن ہے ، تم یقین پر تھے ، اسی پر تم فوت ہوئے اور ان شاءاللہ تم اسی پر اٹھائے جاؤ گے ، پھر برے آدمی کو اس کی قبر میں بٹھایا جائے گا تو وہ بہت گھبرایا سا ہو گا ، اس سے پوچھا جائے گا : تم کس دین پر تھے ؟ تو وہ کہے گا : میں نہیں جانتا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا : یہ شخص کون تھے ؟ وہ کہے گا : میں نے لوگوں کو ایک بات کرتے ہوئے سنا تو میں نے بھی ویسے ہی کہہ دیا ، (اس کے بعد) اس کے لیے جنت کی طرف ایک سوراخ کر دیا جائے گا ، تو وہ اس کی اور اس کی نعمتوں کی رونق و خوبصورتی کو دیکھے گا ، تو اسے کہا جائے گا : اس کو دیکھو جسے اللہ نے تم سے دور کر دیا ، پھر اس کے لیے جہنم کی طرف ایک سوراخ کر دیا جائے گا تو وہ اسے دیکھے گا کہ اس کا بعض حصہ بعض کو کھا رہا ہے ، اسے کہا جائے گا یہ تیرا ٹھکانہ ہے ، تو شک پر تھا ، اسی پر فوت ہوا اور ان شاءاللہ اسی پر اٹھایا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابن ماجہ (۴۲۶۸) ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 140
sahihعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رد»
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے ہمارے اس امر (دین) میں کوئی ایسا کام جاری کیا جو کہ اس میں نہیں وہ مردود ہے ۔‘‘ متفق علیہ ، رواہ البخاری (۲۶۹۷) و مسلم ۔
Mishkat al-Masabih • Faith • Hadith 141
sahihوَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ
HadithAPI (Urdu) (ur)
HadithAPI
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ حمدوثنا اور صلوۃ و سلام کے بعد ، سب سے بہترین کلام ، اللہ کی کتاب ہے ، اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریقہ ہے ، بدترین امور وہ ہیں جو نئے جاری کیے جائیں ، اور ہر بدعت گمراہی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم و النسائی (۳/ ۱۸۹ ، ۱۸۸ ح ۱۵۷۹) ۔