Mishkat al-Masabih

Faith Hadith 54

Canonical hadith detail record

Mishkat al-MasabihFaith

Hadith Record

sahih

وَفِي رِوَايَة ابْن عَبَّاس: «وَلَا يَقْتُلُ حِينَ يَقْتُلُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ» . قَالَ عِكْرِمَةُ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ يُنْزَعُ الْإِيمَانُ مِنْهُ؟ قَالَ: هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ أَخْرَجَهَا فَإِنْ تَابَ عَادَ إِلَيْهِ هَكَذَا وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَقَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ: لَا يَكُونُ هَذَا مُؤْمِنًا تَامًّا وَلَا يَكُونُ لَهُ نُورُ الْإِيمَان. هَذَا لفظ البُخَارِيّ

HadithAPI (Urdu) (ur)

HadithAPI

ابن عباس ؓ کی روایت میں ہے :’’ جس وقت قاتل قتل کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا ۔‘‘ عکرمہ بیان کرتے ہیں ، میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا : اس سے ایمان کیسے نکال لیا جاتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس طرح اور انہوں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں اور پھر انہیں نکال لیا ، پس اگر وہ توبہ کر لے تو ایمان اس کی طرف اس طرح لوٹ آتا ہے ، اور انہوں نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالیں ، اور ابوعبداللہ (امام بخاری ؒ) نے فرمایا : ایسا شخص کامل مومن ہو گا نہ اس کے لیے نور ایمان ہو گا ۔‘‘ یہ بخاری کے الفاظ ہیں ۔ رواہ البخاری (۶۸۰۹) ۔